پی ٹی آئی کارکنوں کی 5 اگست احتجاج کیس میں ضمانت کی درخواستیں منظور
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
ویب ڈیسک: پی ٹی آئی کے کارکنوں کی 5 اگست احتجاج کیس میں ضمانت کی درخواستیں منظور ہو گئیں۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں پی ٹی آئی کارکنان کیخلاف 5 اگست احتجاج کے کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے 9 پی ٹی آئی کارکنان کی ضمانت کی درخواستیں 10 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کرلیں۔
جوڈیشل مجسٹریٹ عمران امیر عباسی کے روبرو سماعت کے دوران مرزا عاصم ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ ایک بے بنیاد کیس تھا، اس ایف آئی آر کا مدعی ہی متعلقہ شخص نہیں۔ وکیل انصر کیانی نے عدالت کو بتایا کہ اسی مقدمے میں خواتین کی ضمانتیں منظور ہوچکی ہیں۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق بھی کسی بھی ملزم سے کوئی ریکوری نہیں ہوئی۔
مائع قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان
مرزا عاصم بیگ نے عدالت کو بتایا کہ اس مقدمے کے بعد بھی ایک کیس درج ہوا اس میں بھی یہی دفعات کاپی کرکے ڈال دی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف تھانہ لوہی بھیر میں پاپو سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔