City 42:
2026-07-24@09:07:03 GMT

شناختی کارڈ بنوانے کے خواہشمند افراد کیلئے بڑی خبر

اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT

ویب ڈیسک: نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شہریوں کے لیے ایک اہم سہولت فراہم کر دی ہے، جس کے تحت اب شناختی کارڈ میں ترمیم کا عمل انتہائی آسان، تیز رفتار اور موبائل فون کے ذریعے ممکن بنا دیا گیا ہے۔

 شناختی کارڈ میں ترمیم کروانےکیلئے اپنے موبائل میں پاک آئی موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کریں، اکاؤنٹ رجسٹر کریں اور درخواست موبائل سے جمع کروائیں۔ بائیو میٹرک تصدیق، دستاویزات اپ لوڈ اور فیس کی ادائیگی کے آسان مراحل مکمل کریں اور اپنا نیا شناختی کارڈ منتخب کردہ پتے پر حاصل کریں۔

جعلی ادویات کا خاتمہ، 2D بارکوڈ نظام پر عمل درآمد کیلئے اہم اجلاس طلب

 آسان طریقہ کار:ْ
 سکرین پر اپ ڈیٹ کارڈ کے آپشن پر کلک کریں اس کے بعد ایپلیکیشن تفصیلات کی سکرین ظاہر ہوگی اس میں ویریفائی فنگرپرنٹس پر کلک کریں، اگر اپنے لیے اپلائی کررہے ہیں تو اپنی انگلیوں یا انگوٹھے کی تصدیق کریں۔ نیکسٹ پر کلک کریں، اگلی سکرین پر کارڈ ڈیلیوری کے خانے میں موجودہ یا مستقل پتا منتخب کریں جہاں کارڈ وصول کرنا چاہتے ہیں۔

  پراسیسنگ کیٹگری کا انتخاب کریں، ترمیم کے لیے نئی سکرین پر نیلے رنگ کے ’پلس‘ بٹن پر کلک کریں، موڈیفکیشن فیلڈ میں سے مطلوبہ ترمیم منتخب کرکے جاری پر کلک کریں، فوٹو گراف کی  سکرین کھلنے پر کیپچر سے اپنی تصویر لیں، اس کے بعد ڈرا سگنیچر پر کلک کرکے موبائل کی سکرین پر سائن کریں یا پھر موبائل سے دستخط کی تصویر اپ لوڈ کریں اور نیکسٹ کا بٹن دبائیں۔ اس کے بعد پرسنل تفصیلات میں تمام معلومات مکمل کرکے کنٹینیو کردیں۔

باجوڑ؛ دہشت گردوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کے پیشِ نظر کرفیو نافذ

 اگر آپ ازدواجی حیثیت میں ترمیم کرنا چاہتے ہیں تو تمام مطلوبہ معلومات فراہم کرکے سیو پر کلک کریں اور پھر کنٹینیو کا بٹن دبائیں۔ اگلی اسکرین پر ریلیٹیو تفصیلات میں اہلخانہ کا ریکارڈ جمع کرواسکتے ہیں، مزید اپ ڈیٹ کے لیے مکمل ویڈیو دیکھیں۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: شناختی کارڈ پر کلک کریں کریں اور

پڑھیں:

غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی

اسلام آباد:

سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے کہا ہے کہ غیر ضروری وزارتوں کو ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کرنا ممکن ہے۔

سینیٹر ضمیر حسین کی زیر صدارت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی اور اس پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو، وزارتوں کی تعداد کم کرنے اور آئینی تقاضوں کے مطابق وفاقی حکومت کے دائرۂ کار کو محدود رکھنے سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔

کمیٹی ارکان نے کہا کہ غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے ۔ وفاقی حکومت کو آئین کے مطابق محدود دائرۂ کار میں کام کرنا چاہیے۔ کمیٹی نے مشترکہ مفادات کونسل کے آئینی کردار اور اختیارات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔

اجلاس کے دوران سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے، آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی اخراجات اور وزارتوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، جبکہ این ایف سی اور مشترکہ مفادات کونسل سمیت آئینی اداروں کو فعال بنایا جائے۔

کمیٹی میں اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ آئینی ادارے فعال ہوں گے تو وفاق اور صوبوں کے کئی مسائل حل ہو سکیں گے۔

سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ 3 ارب 70 کروڑ روپے کا تیل نکلتا ہے لیکن صوبے کو کچھ نہیں دیا جاتا، جبکہ خیبرپختونخوا سے 42 فیصد تیل نکلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن صوبوں سے تیل اور گیس نکل رہی ہے انہیں 16 سال سے ایک ٹکہ بھی نہیں دیا گیا، کمپنیاں اور کارپوریشنز منافع کما رہی ہیں جبکہ عوام بھوک سے مر رہے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کے پیسے کیوں نہیں دے رہی۔ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا بری حکمرانی ہے۔ حکومت نہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد کر رہی ہے اور نہ ہی صوبوں کو سپورٹ کر رہی ہے۔

اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 38(جی) پر عملدرآمد سے متعلق تقرریوں کے طریقہ کار پر کمیٹی کو رپورٹ پیش کی گئی جبکہ وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کنویئر کمیٹی نے زور دیا کہ ہر ادارہ اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے اور آئین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

کنویئر کمیٹی نے کہا کہ تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو ان کا آئینی حق نہ دینا سنگین خلاف ورزی ہے ۔ خیبرپختونخوا و سندھ کو تیل و گیس سے حاصل ہونے والے فوائد سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

بعد ازاں کمیٹی نے تیل و گیس پیدا کرنے والے علاقوں کی متعلقہ اداروں میں نمائندگی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تیل و گیس سے حاصل آمدن کی مکمل تفصیلات کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے بغیر وفاق مضبوط نہیں ہو سکتا، آئین پر عمل نہ ہونے سے سیاسی اور انتظامی مسائل جنم لیتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں غیر ضروری اخراجات کم کر کے قومی وسائل بچائے جا سکتے ہیں، اس لیے ڈپلیکیٹ محکموں اور غیر ضروری اخراجات کا بھی جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • پی ٹی اے کی موبائل سمز سے متعلق اہم وارننگ
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت