ایشیائی سیاسی جماعتیں مفاہمت کے لیے منڈیلا ماڈل کی تقلید کریں: مشاہد حسین
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ ایشیائی سیاسی جماعتیں مفاہمت کے لیے منڈیلا ماڈل کی تقلید کریں۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ پاکستان نے اصولی طور پر الجزائر، تیونس، مراکش، اریٹیریا، صومالیہ ، جنوبی افریقہ نمبیا، زمبابوے، یوگنڈا اور تنزانیہ کی آزای کی تحریکوں کی حمایت کی۔
وہ افریقی سیاسی جماعتوں کے پہلے اجلاس سے خطاب کرنے والے اولین ایشائی رہنماؤں میں شامل ہوگئے۔
مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے عوام سے وعدے کیے تھے کہ وہ کوئی نئی جنگ شروع نہیں کریں گے۔
مشاہد حسین نے ایشیائی سیاسی جماعتوں کی بین الاقوامی کانفرنس کے شریک چیئرمین ہونے کی حیثیت سے گھانا کی حکومت کے سرکاری مہمان کے طور پر کانفرنس میں اہم رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔
مشاہد حسین نے جنوبی افریقہ کے عظیم رہنما نیلسن منڈیلا کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نیلسن منڈیلا کا ماڈل استحکام کی چابی ہے کیونکہ اس کے 3 اہم نکات ہیں، سب سے پہلے کشادہ دلی یعنی معاف کرو اور بھول جاؤ، تاکہ ریاستیں آگے بڑھیں اور مستقبل پر نظر رکھ سکیں۔
منڈیلا ماڈل کے دوسرے نکتے کے حوالے سے مشاہد حسین نے کہا انتقام، کینہ اور سیاسی انتقام کی کارروائی کی سیاست کو مسترد کرنا بھی بہت اہم ہے۔
انہوں نے تیسرے اہم نکتے کے بارے میں بتایا کہ وہ ادارہ جاتی جمہوریت پر مشتمل ہے، عوامی عہدے کو عوام کی امانت سمجھنا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مشاہد حسین نے
پڑھیں:
بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب ہو گئے ہیں جسے عالمی سفارت کاری میں بنگلہ دیش کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے وزیر برائے چٹاگانگ ہل ٹریکٹس افیئرز خرابی صحت کے باعث مستعفی
منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں ہونے والے انتخاب میں ڈاکٹر خلیل الرحمان نے قبرص کے امیدوار کو شکست دے کر یہ اہم منصب حاصل کیا۔
مبصرین کے مطابق یہ کامیابی عالمی سطح پر بنگلہ دیش کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار، کثیرالجہتی تعاون اور بین الاقوامی اداروں میں اس کی مضبوط ہوتی ساکھ کا مظہر ہے۔
وزیراعظم طارق رحمان نے ڈاکٹر خلیل الرحمان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کا انتخاب عالمی سطح پر بنگلہ دیش کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور مثبت کردار کا اعتراف ہے۔
مزید پڑھیے: سابق صدر بنگلہ دیش ضیاء الرحمان کی 45ویں برسی: صاحبزادے و وزیراعظم طارق رحمان کا خراج عقیدت
اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کا صدر منتخب ہونے پر وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اس اہم منصب پر بنگلہ دیش کی بہترین نمائندگی کریں گے اور عالمی برادری کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے رابطوں، مکالمے اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ وہ بنگلہ دیش کا نام مزید روشن کریں گے اور عالمی مسائل کے حل کے لیے تعاون اور ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ان کی نئی ذمہ داریوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔‘
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں چمڑے کی منڈی بحران کا شکار، مدارس اور یتیم خانوں کو خسارہ، وجہ کیا ہے؟
ڈاکٹر خلیل الرحمان جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے باقاعدہ آغاز پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ اس حیثیت میں وہ عالمی امن و سلامتی، پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی، عالمی حکمرانی اور دیگر اہم بین الاقوامی امور پر ہونے والے مباحث اور اجلاسوں کی صدارت کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان نے ڈاکٹر خلیل الرحمان خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب طارق رحمان کی ڈاکٹر خلیل رحمان کو مبارکباد