مہمند میں حادثے کا شکار ہیلی کاپٹر کا سامان چوری، 2 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
دائیں تصویر میں حادثے کے شکار ہیلی کاپٹر کا ملبہ جائے حادثہ پر بکھرا ہو ہے—فائل فوٹو
مہمند میں حادثے کا شکار ہونے والے ہیلی کاپٹر کا سامان چوری کر لیا گیا۔
پولیس نے ہیلی کاپٹر کا سامان چوری کرنے والے 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے جائے حادثہ سے ہیلی کاپٹر کے ملبے سے سامان چوری کیا تھا۔
خیال رہے کہ 15 اگست کو خیبر پختون خوا حکومت کا سرکاری ہیلی کاپٹر امدادی کارروائیوں سے واپسی پر ضلع مہمند میں گر کر تباہ ہو گیا تھا، حادثے میں 2 پائلٹس سمیت عملے کے 5 افراد شہید ہوئے تھے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز خیبر پختونخوا حکومت کا سرکاری ہیلی کاپٹر امدادی کارروائیوں سے واپسی پر ضلع مہمند میں کریش ہوگیا تھا، حادثے پر آج سوگ منایا جارہا ہے، سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں ہے۔
ہیلی کاپٹر حادثے کی تحقیقاتی ٹیم دوبارہ ضلع مہمند پہنچ گئی، سرکاری حکام کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے جائے حادثہ کا زمینی جائزہ لیا۔
تحقیقاتی ٹیم نے گزشتہ روز بھی جائے وقوعہ کا فضائی جائزہ لیا تھا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے جائے وقوع کی ویڈیوز اور تصاویر بھی بنائی تھیں، دشوار گزار علاقے کے باعث تحقیقاتی ٹیم کا ہیلی کاپٹر جائے وقوع یا اطراف میں لینڈ نہیں کر سکا۔
تحقیقاتی ٹیم نے جائزہ لیا کہ حادثے کا شکار ہیلی کاپٹر کس طرف سے آیا تھا اور کس طرف جا رہا تھا، تحقیقاتی ٹیم نے وہ پہاڑ بھی دیکھا جس سے ٹکرا کر ممکنہ طور پر سرکاری ہیلی کاپٹر تباہ ہوا، جائے وقوع پر بلند پہاڑ ہیں، جو گزشتہ روز بادلوں اور دھند میں ڈوبے ہوئے تھے۔
حادثے کا شکار ہونے والے ہیلی کاپٹر نے 20 منٹ کی پرواز کی تھی، ابتدائی رپورٹ کے مطابق حادثہ خراب موسم اور شدید دھند کے باعث پیش آیا، شہید افراد کے ڈی این اے سیمپل ٹیسٹ کے لیے لاہور بھجوا دیے گئے ہیں، شہداء میں پائلٹس شاہد سلطان اور ریٹائرڈ ونگ کمانڈر آفتاب شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: تحقیقاتی ٹیم نے ہیلی کاپٹر کا حادثے کا شکار سامان چوری جائزہ لیا
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔