جو فیل صوبے ہوتے ہیں جہاں کوئی منصوبہ بندی نہ ہو وہاں یہی تباہی ہوتی ہے،سینیٹر فیصل واوڈا
اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا ہے جو فیل صوبے ہوتے ہیں جہاں کوئی منصوبہ بندی نہ ہو وہاں یہی تباہی ہوتی ہے۔تحریک انصاف والے نعرہ لگاتے تھے سارے چور ہیں ، سارے بے ایمان ہیں لیکن اب خیبر پختونخوا میں بھی بے ایمانی چل رہی ہے اور سینیٹ کی سیٹوں پر نورا کشتی ہوئی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا سینیٹ الیکشن کے معاملے پر ان کی چوری کھل کر سامنے آگئی ہے، دوسروں کو ڈاکو چور کہنے والے خود چور ہیں۔ عمران خان کیا کر رہے ہیں سمجھ سے بالا تر ہے۔
سینیٹر فیصل واوڈا کا مزید کہنا تھا پاک فوج نے 14 اگست کو بلوچستان میں تباہی سے بچا لیا اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سربراہی میں پاک فوج ملک کو بچاتی رہے گی جبکہ دہشت گردوں کے خلاف ملک میں آپریشن رکے گا نہیں بلکہ تیز ہوگا اور جو اس تسلسل کے بیچ میں آئے گا جتنا بڑا طرم خان ہوگا رگڑ دیا جائے گا۔
سابق ایم پی اے احمد خان بھچر کی نااہلی کیخلاف درخواست پر سماعت22اگست تک ملتوی
آزاد سینیٹر فیصل واوڈا کی پارلیمنٹ ہاؤس میں گفتگو pic.
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سینیٹر فیصل واوڈا
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔