پاکستان ‘ امریکہ تجارت 16فیصد بڑھ گئی ‘ بھارت کو جدید عسکری ٹیکنالوجی دینا خطرناک تجارتی مشیر وائٹ ہائوس
اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT
اسلام آباد‘ واشنگٹن (نوائے وقت رپورٹ + این این آئی) پاکستان اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ تجارت میں 16 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین تجارت کے حوالے سے تفصیلات جاری۔ ذرائع کے مطابق مالی سال 2024-25ء میں پاکستان -امریکہ تجارت 7 ارب 59 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہی۔ اس دورانیے میں پاکستان کی امریکہ کو برآمدات 5 ارب 83 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں جب کہ امریکا سے درآمدات ایک ارب 76 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہیں۔ بیڈ شیٹس، ٹیبل کلاتھ اور کچن لینن کی برآمدات ایک ارب 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہیں۔ مردانہ سوٹ، جیکٹس اور پتلون کی برآمدات 93 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہو گئیں، دیگر تیار شدہ ملبوسات کی برآمدات 38 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک جا پہنچیں۔ اسی طرح ٹی شرٹس کی برآمدات 36 کروڑ 10 لاکھ ڈالر رہیں اور جرسیز، پلوورز اور کارڈیگنز کی برآمدات 31 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک ریکارڈ کی گئیں۔علاوہ ازیں جرابوں (ہوزری) کی برآمدات 27 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک جا پہنچیں۔ نٹ والے مردانہ شرٹس کی برآمدات 24 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہیں۔ چمڑے کی مصنوعات کی برآمدات 16 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ریکارڈ ہوئیں جب کہ خواتین کے سوٹ، جیکٹس اور ڈریسز کی برآمدات 15 کروڑ 70 لاکھ ڈالر رہیں۔ ذرائع کے مطابق درآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 40 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ امریکا سے کپاس کی درآمدات 39 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہیں۔ لوہے اور سٹیل کے سکریپ کی درآمدات 15 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں۔ سویابین کی درآمدات 13 کروڑ 70 لاکھ ڈالر رہیں۔ کوئلے کی درآمدات 5 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک ریکارڈ ہوئیں جب کہ کیمیکل ووڈ پلپ کی درآمدات 5 کروڑ ڈالر تک محدود رہیں۔ اسی طرح ٹربو جیٹ اور گیس ٹربائن کی درآمدات 5 کروڑ ڈالر رہیں۔ آٹو میٹک ڈیٹا پروسیسنگ مشینوں کی درآمدات 4 کروڑ ڈالر رہیں۔ پٹرولیم آئل (نہ کہ خام تیل) کی درآمدات 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں اور میڈیکل آلات کی درآمدات 3 کروڑ 60 لاکھ ڈالر رہیں۔ علاوہ ازیں میوہ جات (Nuts) کی درآمدات 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تک ریکارڈ ہوئی ہیں۔ دوسری طرف امریکہ نے کہا ہے کہ بھارت کو جدید عسکری ٹیکنالوجی منتقل کرنا امریکی کمپنیوں کے لیے ایک خطرناک قدم ہو سکتا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق وائٹ ہائوس کے تجارتی مشیر پیٹر نیوارو نے فناشل ٹائمز میں شائع ایک مضمون میں کہا ہے کہ بھارت کی روسی خام تیل کی خریداری ماسکو کو یوکرائن جنگ میں مالی مدد فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کو روس سے خام تیل خریدنا بند کرنا ہو گا۔ نیوارو نے کہاکہ بھارت اب روس اور چین دونوں کے قریب ہو رہا ہے، اگر بھارت چاہتا ہے کہ اسے امریکہ کا سٹریٹجک پارٹنر سمجھا جائے تو اسے اس کے مطابق برتائو کرنا ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کروڑ 80 لاکھ ڈالر کروڑ 60 لاکھ ڈالر لاکھ ڈالر رہیں لاکھ ڈالر تک کی درا مدات 3 کی برا مدات کے مطابق
پڑھیں:
جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
اسلام ٹائمز: اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ تحریر: سید محمد
کسی پرانے جوئے خانے کی ایک کہاوت مشہور ہے "تم اس وقت تک حقیقتاً نہیں پھنستے جب تک تمہیں یہ احساس نہ ہو جائے کہ باہر نکلنے کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔" مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سیاسی بساط پر اسرائیل یہی کھیل کھیل رہا ہے۔ ظاہری بیانیے کو ایک طرف رکھیں تو ایک واضح حقیقت سامنے آتی ہے: اسرائیل ایران کی ایٹمی صلاحیت یا میزائل پروگرام سے کم اور امریکی انخلا کے محض امکان سے زیادہ خوفزدہ ہے۔ یہ خوف کوئی معمولی تشویش نہیں بلکہ ایک ایسی وحشت ہے، جو اسرائیلی حکمتِ عملی کے ہر پہلو کو تشکیل دے رہی ہے۔
اسرائیل ہر اس راستے کو سبوتاژ کرتا دکھائی دیتا ہے، جو واشنگٹن کو بحران سے نکلنے کا راستہ فراہم کرسکے۔ یہاں جنگ کا مقصد دشمن کو شکست دینا نہیں بلکہ اتحادی کو اس حد تک اندر کھینچ لینا ہے کہ وہ خود جنگ کا قیدی بن جائے۔ سوال یہ نہیں کہ امریکہ اس تنازعے میں شریک رہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس حد تک شریک ہو جائے کہ بعد میں الگ نہ ہوسکے۔ یہ حکمتِ عملی ایک نفسیاتی اور سیاسی جال کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ ابتدا ہی سے اسرائیل نے ٹرمپ کو ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم کی طرف دھکیلا اور ٹرمپ اپنی طاقت اور امریکی بالادستی کے تصور میں اس قدر گرفتار رہا کہ اسے واپسی کا راستہ دکھائی نہ دیا۔
ایران اور مزاحمتی محاذ کی استقامت نے امریکی عسکری برتری کے اُس طلسم کو چیلنج کر دیا، جسے دہائیوں سے ناقابلِ شکست تصور کیا جاتا تھا۔ اربوں ڈالر کے دفاعی نظام، جدید ٹیکنالوجی اور وسیع عسکری اتحاد بھی خطے میں پیدا ہونے والی نئی بے یقینی کو روک نہ سکے، جبکہ امریکی دفاعی چھتری اور اڈوں کی محدودیت پہلے سے زیادہ نمایاں ہوگئی۔ اسی میدان میں اہداف کا مسلسل سکڑنا بھی صورتِ حال کا مظہر تھا۔ ایران میں رجیم تبدیلی جیسے بڑے ہدف سے شروع ہونے والا معرکہ بلاشرط ہتھیار ڈالنے کے مطالبے، دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنے اور بالآخر آبنائے ہرمز کو کھلوانے جیسے محدود اہداف تک سمٹ آیا، جبکہ امریکی دھمکیاں بھی بتدریج ایرانی سویلین انفراسٹرکچر اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے تک گر آئیں۔
اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ دوسری طرف سفارتی اخراج کا راستہ تھا، مگر یہاں بھی مسئلہ یہ تھا کہ اسرائیل جس صف بندی کو اپنی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتا ہے، وہی امریکہ کے علاقائی اتحادیوں کے لیے معاشی، سیاسی اور سکیورٹی خطرات کا باعث بن سکتی تھی۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور دیگر خلیجی ریاستیں اپنی معیشتوں، توانائی کی تنصیبات اور سرمایہ کاری کے مراکز کے باعث براہِ راست خطرات سے دوچار ہوسکتی تھیں۔ اسی لیے وہ ایسے راستوں کی تلاش میں تھیں، جو ضروری نہیں کہ اسرائیل کے مفادات سے ہم آہنگ ہوں۔ آج اگر امریکہ اپنے مفادات کے لیے واپس چلا جاتا ہے تو اسرائیل تنہا رہ جاتا ہے، لیکن اگر پورا امریکی وقار، افواج اور سیاسی سرمایہ اس جنگ سے جڑ جائے تو واشنگٹن کے لیے اسرائیل سے فاصلہ اختیار کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
روایتی جنگوں کا مقصد دشمن کو شکست دینا ہوتا ہے، لیکن اسرائیل نے جنگ کو ایک ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا سیکھ لیا ہے، جس کا نشانہ دشمن نہیں بلکہ اس کا سب سے بڑا اتحادی یعنی امریکہ ہے۔ لبنان کا محاذ بھی اب صرف میدانِ جنگ کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ سفارتی عمل کو متاثر کرنے کا ایک مؤثر آلہ بن چکا ہے۔ جب بھی مذاکرات یا کشیدگی میں کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے، لبنان دوبارہ مرکزِ توجہ بن جاتا ہے۔ اس کے ذریعے کسی بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ یا سست کیا جا سکتا ہے۔ اگر امریکہ ایران کے ساتھ کسی مفاہمت تک پہنچ جاتا ہے تو یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ خطے کے اہم معاملات اسرائیل کی براہِ راست شمولیت کے بغیر بھی طے ہوسکتے ہیں اور یہی وہ تاثر ہے، جسے اسرائیل ٹوٹنے نہیں دینا چاہتا۔
بعض ریاستوں کے لیے مستقل بحران خود ایک قیمتی سرمایہ بن جاتا ہے۔ جاری کشیدگی اتحادیوں کو متحد اور سکیورٹی خدشات کو زندہ رکھتی ہے۔ اسرائیل کے لیے فوری امن یا جامع سیاسی تصفیہ شاید اتنا مفید نہیں جتنا ایک ایسا کنٹرولڈ بحران جو مسلسل مغربی حمایت اور علاقائی توجہ کو اس کی طرف کھینچے رکھے۔ یہ تمام عوامل امریکہ کو ایک غیر معمولی اسٹریٹجک دباؤ کے دائرے میں دھکیل چکے ہیں۔ ایک طرف ایران کی ایسی مزاحمت ہے، جو کسی حتمی فوجی حل کو ناممکن بناتی ہے، دوسری طرف اسرائیل کی خواہش ہے کہ واشنگٹن مکمل طور پر بحران میں جکڑا رہے، جبکہ تیسری طرف علاقائی اتحادی کشیدگی میں کمی چاہیتے ہیں تاکہ ان کی معیشتیں اور داخلی استحکام محفوظ رہ سکیں۔ نتیجتاً امریکہ ایک ایسی پوزیشن میں کھڑا ہے، جہاں آگے بڑھنا بھی خطرناک ہے، پیچھے ہٹنا بھی مشکل اور جمود بھی اتحادیوں کے اعتماد کو کھوکھلا کر رہا ہے۔
جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں بلکہ بعض اوقات ان کی سب سے بڑی کامیابی مخالف اتحاد کے اندر موجود تضادات، کمزوریوں اور متصادم مفادات کو بے نقاب کرنے اور اس کے سیاسی، سفارتی اور اسٹریٹجک ڈھانچے میں دراڑیں نمایاں کرنے میں ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حماقت سے نارملائزیشن فریم ورک کو شدید دھچکا پہنچنے کے باوجود، سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکی، مصر اور اردن جیسے ممالک پر ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت اور واضح سیاسی صف بندی کے لیے دباؤ بڑھانا بھی قابلِ توجہ ہے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ممالک سے ایک ایسے بحران میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جس کے ممکنہ عسکری، معاشی اور سیاسی نتائج کا بوجھ بھی انہیں خود اٹھانا پڑ سکتا ہے۔