ابھی 26ویں ترمیم ہضم کررہے ہیں،27ویں کی ضرورت نہیں،نائب وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT
ملک اچھا چل رہا ہے اور معیشت میں بہتری آئی ہے، انڈیا جنگ بندی کی زبانی خلاف ورزیاں کر رہا ہے مگر ہم الرٹ ہیں، ہمسایہ ممالک کے ساتھ پیار محبت سے رہنا چاہتے ہیں
اگر بھارت نے میلی آنکھ سے دیکھا تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے،افغانستان اور ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات بہتر ہوئے ہیں، لندن میں اسحاق ڈار کی صحافیوں سے گفتگو
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 27ویں آئینی ترمیم کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی 26ویں آئینی ترمیم ہضم کررہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ چھبیسویں آئینی ترمیم ہضم کر رہے ہیں، ستائیسویں کی ضرورت نہیں ہے اور ملک اچھا چل رہا ہے اور معیشت میں بہتری آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ انڈیا جنگ بندی کی زبانی خلاف ورزیاں کر رہا ہے مگر ہم الرٹ ہیں، ہم امن پسند ملک ہیں، ہمسایہ ممالک کے ساتھ پیار محبت سے رہنا چاہتے ہیں۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ انڈیا کے ساتھ ہماری طرف سے امن قائم رہے گا اگر بھارت نے میلی آنکھ سے دیکھا تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان اور ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات بہتر ہوئے ہیں۔ ایران نے کہا کہ ہم نے اپنے اصلی دوست کو اب پہچانا ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ لینڈ ڈیجیٹلائزیشن کا عمل قابل تحسین ہے جبکہ پاسپورٹ بنانے کا نظام بھی مربوط کر دیا ہے۔ میرپور ایٔرپورٹ کے قیام کیلئے نیا آئیڈیا دیا ہے۔نائب وزیر اعظم نے کہا کہ سیالکوٹ ایٔرپورٹ کی طرز پر میرپور ائیرپورٹ کا آئیڈیا دیا ہے۔ برطانوی ممبران پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ ہم ایٔرپورٹ کیلئے زمین خرید کر دیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار نے کہا کہ رہا ہے
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔