بیجنگ :شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہ اجلاس 31 اگست سے یکم ستمبر 2025 تک چین کے شہر تھیان جن میں منعقد ہوگا۔ یہ تنظیم کے قیام کے بعد سب سے بڑی سمٹ ہوگی، جس میں 20 سے زائد ممالک کے رہنما اور 10 بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہان دریائے ہائی حہ کے کنارے جمع ہوں گے۔ جولائی 2024 سے جب سے چین ایس سی او کا موجودہ چیئرمین ملک بنا ، شنگھائی تعاون تنظیم باضابطہ طور پر ایک نتیجہ خیز “چائنا ٹائم” میں داخل ہوئی ہے ۔ چین سات سال کے بعد پانچویں بار اس تنظیم کی صدارت کر رہا ہے۔ ابتدائی چھ رکن ممالک سے آج 26 ممالک کے “بڑے خاندان” تک، شنگھائی تعاون تنظیم دنیا کا سب سے وسیع اور زیادہ آبادی والا جامع علاقائی تعاون پلیٹ فارم بن گیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ “باہمی اعتماد، باہمی فائدے، مساوات، مشاورت، متنوع تہذیبوں کا احترام اور مشترکہ ترقی کی تلاش” پر مبنی “شنگھائی روح”نے دور حاضر کے سوالات کا جواب دیا ہے اور ترقی کی ضروریات سے ہم آہنگ ہے ۔ گزشتہ 24 برسوں کے دوران شنگھائی تعاون تنظیم نے سیکیورٹی، معیشت اور عوامی تبادلوں کے شعبوں میں قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں: انسداد دہشت گردی تعاون کے طریقہ کار کو دفاع اور قانون نافذ کرنے کے شعبے تک توسیع دی گئی ہے، علاقائی تجارت کے پیمانے میں توسیع جاری ہے، ڈیجیٹل معیشت تعاون کے لئے ایک نیا انجن بن گئی ہے،اور متنوع تہذیبوں کا باہمی تبادلہ رکن ممالک کے عوام کے درمیان دلوں کی ہم آہنگی کا پل بن گیا ہے ۔ “چائنا ٹائم” کے دوران چین نے 100 سے زائد سرگرمیوں کا اہتمام کیا ہے جن میں سیاست، سلامتی، معیشت، ثقافت اور دیگر شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے، جس سے علاقائی تعاون کو تقویت ملی ہے۔ ان میں، تھیان جن اعلامیے کا مسودہ اور اگلے دس سال کے لیے ترقیاتی حکمت عملی کا مسودہ شنگھائی تعاون تنظیم کی ترقی کے اگلے مرحلے کے لیے ایک واضح خاکہ تشکیل دے چکا ہے۔ انسداد دہشت گردی، انسداد منشیات، سائبر سیکیورٹی اور دیگر میکانزم کی تعمیر کو مزید فروغ دیا گیا ہے۔ غربت میں کمی اور پائیدار ترقیاتی سرمایہ کاری کی سرگرمیاں جامع ترقی کو فروغ دینے کے لئے شنگھائی تعاون تنظیم کے عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔ ڈیجیٹل معیشت اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید ترین شعبوں میں تعاون کے اقدامات نے جدت طرازی کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے ۔ عوامی سطح پر دوستی کے فورمز، سسٹر سٹی فورمز، فلم فیسٹیولز، ٹی وی فیسٹیولز، میڈیا فورمز، یوتھ ایکسچینجز اور دیگر سرگرمیوں نے عوامی تعلقات کو فروغ دیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر شنگھائی تعاون تنظیم کی پذیرائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سیکرٹری جنرل یرمیک بایوف نے نشاندہی کی کہ زیادہ سے زیادہ ممالک نے تنظیم کی تعمیری ، پرامن اور عملی نوعیت کو تسلیم کیا ہے اور اس کے اثر و رسوخ اور اختیار میں بھی اضافہ دیکھا ہے۔ پاکستان سمیت دیگر رکن ممالک کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کے فریم ورک کے تحت سیکیورٹی تعاون اور توانائی کنیکٹوٹی کے منصوبے خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ پاکستان کے سینئر مبصر رشید صافی نے پی ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم پاکستان کے لیے سلامتی کو برقرار رکھنے، دہشت گردی سے نمٹنے اور معاشی ترقی کی بنیاد کو مستحکم کرنے جیسے متعدد امور میں اسٹریٹجک اہمیت کی حامل ہے ۔ ان کا ماننا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے فریم ورک کے تحت تعاون سے پاکستان کو سلامتی اور خوشحالی کے درمیان صحت مند تعامل حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم نے جس “غیر توسیع پسندانہ” کثیرالجہتی نظام پر ہمیشہ عمل کیا ہے، وہ علاقائی ممالک کے مفادات اور عوام کی توقعات کے عین مطابق ہے اور دنیا کی کثیر قطبی اور منصفانہ، معقول بین الاقوامی سیاسی و معاشی نظم و نسق کی تشکیل کے نئے رجحان کے مطابق ہے۔رواں سال دوسری عالمی جنگ میں فاشزم کے خلاف فتح کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر، بالادستی پسندی بار بار سر اٹھا رہی ہے، علاقائی تنازعات اب بھی کثرت سے ہو رہے ہیں، اور غزہ پٹی کے بچے اب بھی بھوک اور خوف میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ہمیں تاریخ کو یاد رکھنا چاہیے تاکہ المیہ دوبارہ رونما نہ ہو؛ باہمی اعتماد، باہمی فائدے، مساوات اور مشاورت کے اصولوں کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے، متنوع تہذیبوں کا احترام کرنا چاہیے اور مشترکہ ترقی کی جستجو کرنی چاہیے۔شنگھائی سے تھیان جن تک، یکجہتی اور باہمی اعتماد سے لے کر امن و ترقی کی مشترکہ جستجو اور عدل و انصاف کا مشترکہ دفاع کرنے تک، شنگھائی تعاون تنظیم علاقائی امن، خوشحالی اور ترقی کے لئے ایک مستحکم قوت بن رہی ہے اور بنی نوع انسان کے بہتر مستقبل میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: شنگھائی تعاون تنظیم تنظیم کے ممالک کے تنظیم کی ترقی کی کے لیے گیا ہے ہے اور کیا ہے

پڑھیں:

اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب

برطانوی ہائی کمیشن نے گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں  کے آغاز کی مناسبت سے اسلام آباد میں ایک خصوصی استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا، جس میں کھیل، حکومت، سول سوسائٹی، میڈیا اور دولتِ مشترکہ کے سابق اسکالرز سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔

گلاسگو میں 23 جولائی سے 2 اگست 2026 تک منعقد ہونے والے دولتِ مشترکہ کھیلوں میں 74 رکن ممالک اور خطوں کے تقریباً 3 ہزار کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں۔ مقابلوں میں 10 مختلف کھیل شامل ہیں، جن میں 6 پیرا اسپورٹس بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:دولت مشترکہ میں خدمات سرانجام دینے والی بلی کو نئی ذمہ داریاں مل گئیں

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کہا کہ دولتِ مشترکہ کھیل صرف تمغے جیتنے کا مقابلہ نہیں بلکہ یہ مختلف قوموں کو قریب لانے، صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور کھیلوں کے ذریعے معاشروں کو متحد کرنے کا ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کھیلوں کی تاریخ شاندار رہی ہے اور پاکستانی کھلاڑی آج بھی نوجوان نسل کے لیے باعثِ تحریک ہیں۔ انہوں نے برطانیہ، پاکستان اور دولتِ مشترکہ کے درمیان مضبوط تعلقات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔

تقریب میں دولتِ مشترکہ اسکالرشپس اور فیلوشپس پروگرام کو بھی اجاگر کیا گیا، جس کے ذریعے گزشتہ 60 برس سے مختلف رکن ممالک کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ مہارت کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔

استقبالیے سے قبل برطانوی ہائی کمیشن نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے ان نوجوان رہنماؤں کو بھی اعزازات سے نوازا، جنہیں “ملکہ الزبتھ دوم کامن ویلتھ ٹرسٹ 100 ینگ لیڈرز ایوارڈز” کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

اعزاز حاصل کرنے والوں میں پاک جی پی ٹی  کی شریک بانی فرح گل رہوجہ شامل ہیں، جو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تعلیم، صحت اور موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ محروم طبقات کی مدد کر رہی ہیں۔ امید فاؤنڈیشن کے بانی حسن اشرف کو محنت کش بچوں اور پسماندہ طبقات کے لیے مفت تعلیم کے فروغ پر سراہا گیا، جبکہ گرلز یونائیٹڈ فار ہیومن رائٹس کی بانی ہادیقہ بشیر کو کم عمری کی شادی کے خاتمے، صنفی تشدد کے خلاف جدوجہد اور بچیوں کی تعلیم کے فروغ پر اعزاز دیا گیا۔ اسی طرح آئی ایس وائی ڈی  کے بانی جوشوا دلاور کو نوجوانوں کی شمولیت، صحت میں مساوات، صنفی برابری اور سماعت سے محروم نوجوانوں کی تربیت کے شعبے میں خدمات پر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

برطانوی ہائی کمیشن کے مطابق گلاسگو 2026، برطانیہ کی جانب سے 2014 میں گلاسگو اور 2022 میں برمنگھم میں کامیاب دولتِ مشترکہ کھیلوں کے انعقاد کی روایت کو آگے بڑھا رہا ہے، جبکہ اس تقریب کا مقصد کھیل، تعلیم اور نوجوان قیادت کے ذریعے دولتِ مشترکہ ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسلام اباد برٹش ہائی کمیشن پاکستان دولت مشترکہ

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار