سینیٹ اجلاس: پلوشہ خان اور طلال چوہدری میں تلخ جملوں کا تبادلہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT
سینیٹ اجلاس: پلوشہ خان اور طلال چوہدری میں تلخ جملوں کا تبادلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 19 August, 2025 سب نیوز
اسلام آباد :سینیٹ اجلاس میں سینیٹر پلوشہ خان اور طلال چوہدری کے درمیان چیف کمشنر اسلام آباد اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بحث ہوئی۔
سینیٹر پلوشہ خان نے چیف کمشنر اسلام آباد کو بیک وقت تین اہم عہدے دئیے جانے کا معاملہ ایوان میں اٹھایا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک شخص کو چیف کمشنر، چیئرمین سی ڈی اے اور ڈائریکٹر جنرل سول ڈیفینس جیسے عہدے کیوں دئیے گئے ہیں؟
پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ چیئرمین سی ڈی اے کی نگرانی میں بنائے گئے جناح اسکوائر اور ایران ایونیو پر بارش کے دوران پانی جمع ہو جاتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران ایونیو جگہ جگہ سے بیٹھ چکا ہے۔
انہوں نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ ابھی چلیں ایران ایونیو پر اور وہاں گاڑی چلا کر دیکھیں کہ کتنے دھچکے لگتے ہیں۔اس موقع پر طلال چوہدری نے کہا کہ مسئلہ پل اور انڈر پاس کا نہیں بلکہ چیف کمشنر کے خلاف تنقید کا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف کمشنر بہترین افسر ہیں اور حکومت فیصلہ کرسکتی ہے کہ کس کو کہاں تعینات کرنا ہے۔
طلال چوہدری نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن کے ادوار میں ہی منصوبے بنتے ہیں، طعنوں سے نہیں رکیں گے اور پل بنتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے کام میں رفتار کے ساتھ معیار بھی شامل ہے۔پلوشہ خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ طلال چوہدری کا چیلنج قبول کرتی ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرملک بھر میں سونے کی قیمت میں کمی، فی تولہ سونا کتنے کا ہوگیا؟ خوف یا نفرت کی سیاست سے کچھ نہیں ملے گا، ملک کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، رانا ثنا اللہ چین اور پاکستان کے تعلقات کسی تیسرے فریق سے متاثر نہیں ہوں گے، چینی وزارت خارجہ ملک میں منکی پاکس کا کیس سامنے آگیا چینی وزیر خارجہ 21 اگست کو دورہ پاکستان پر اسلام آباد پہنچیں گے پی ٹی آئی نومبر احتجاج؛ مزید چار ملزمان کو سزا سنا دی گئی نو مئی مقدمات؛ چیف جسٹس پاکستان کا فریقین کو دستاویزات جلد جمع کروانے کی ہدایتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: طلال چوہدری پلوشہ خان
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔