2024میں ایف آئی اے کے 41 لوگوں کو انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہونے پر نوکری سے نکالا گیا، طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT
وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ صرف 2024میں ایف آئی اے کے 41 لوگوں کو انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہونے پر نوکری سے نکالاگیا، 63 لوگ مختلف مقدمات میں نامزد ہوئے۔
ڈپٹی چیئرمین سید سیدال خان کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس جاری ہے، اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایف آئی اے 51 لوگوں کو نوکری سے نکالاگیا، ان 51 لوگوں کو کیا کوئی سزا دی گئی ہے؟۔
اس پر طلال چوہدری نے ایوان کو بتایا کہ صرف 2024میں ایف آئی اے کے 41 لوگوں کو نوکری سے نکالاگیا، 63 لوگ مختلف مقدمات میں نامزد ہوئے، ان میں سے صرف 16لوگ بری ہوئے، ان کی بریت کیخلاف بھی پراسیکیوشن اپیلیں کررہی ہے۔
دنیش کمار نے کہا کہ نوکریوں سے چھوٹے گریڈ کے لوگوں کو نکالا گیا ہے، چھوٹے عہدوں پر بیٹھے لوگوں کیخلاف کارروائی ہوئی، 17گریڈ سے اوپر والے کتنے افسران کو سزا ہوئی؟۔
طلال چوہدری نے کہا کہ نوکریوں سے نکالے جانیوالوں میں اسسٹنٹ ڈائریکٹرز بھی ہیں، ہم ان لوگوں کی لسٹ بھی دے دیں گے جو بری ہوئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: طلال چوہدری ایف آئی اے لوگوں کو نوکری سے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔