اپنے لبنانی ہم منصب کیساتھ ملاقات میں اردنی وزیر اعظم نے اعلان کیا ہے کہ حقیقت؛ نام نہاد "گریٹر اسرائیل" کے وہم کی حمایت نہیں کرتی، بلکہ اس کی روشنی میں اسرائیل؛ اپنی سفاکانہ و انتہا پسندانہ پالیسیوں کی وجہ سے مسترد شدہ، تنہا، جنگ زدہ اور محصور ہے! اسلام ٹائمز۔ اردنی وزیر اعظم جعفر حسن نے اعلان کیا کہ ہے حقیقت نام نہاد "گریٹر اسرائیل" کے وہم کو نہیں پہچانتی بلکہ حقیقت کی روشنی میں اسرائیل سے مراد ایک ایسی جعلی ریاست ہے کہ جو اپنی "سفاکانہ" اور "انتہا پسندانہ" پالیسیوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مسترد شدہ، تنہاء، جنگ زدہ اور محصور ہو چکی ہے۔ الشرق الاوسط کے مطابق، اپنے لبنانی ہم منصب نواف سلام کے ساتھ ملاقات میں جعفر حسن کا کہنا تھا کہ ہم ایسے خوابوں و عزائم کے بارے سن رہے ہیں کہ جن کا مقصد لامتناہی جنگ کو تسلسل دینا ہے، جیسا کہ اسرائیل میں انتہا پسند سیاستدانوں کے درمیان ایک "عظیم تر اسرائیل" کے بارے موہوم تصورات کا اظہار کیا جا رہے۔ 

تفصیلات کے مطابق عمان کے دورے پر آئے لبنانی وزیر اعظم نواف سلام کے ساتھ گفتگو میں اردنی وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ہمیں دو منصوبوں کا سامنا ہے؛ پہلا منصوبہ جس کو ہم تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ حکومت کی خودمختاری کو وسعت دینے، استحکام لانے اور عوامی ترقی و خوشحالی کے لئے حکومت کو بااختیار بنانے پر مبنی ہے جبکہ دوسرا منصوبہ ایک ایسی جنگ اور تنازعات کے تسلسل کی کوششوں پر مبنی ہے کہ جو نفرت کو مزید گہرا کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ شاہ اردن عبداللہ دوم کی ہدایات میں ہمیشہ اردن کے برادر ملک لبنان کے ساتھ کھڑے ہونے اور اس کی خودمختاری، سلامتی، استحکام و خوشحالی کی حمایت کرنے سمیت پورے لبنان میں قومی اداروں و خودمختاری کو مضبوط کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دیں
  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، افغانستان دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم