راولپنڈی میں شوہر نے بیٹے کے ساتھ ملکر بیوی پر تیزاب پھینک دیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, August 2025 GMT
راولپنڈی میں شوہر نے بیٹے کے ساتھ ملکر بیوی کو گھریلو جھگڑے کے بعد تیزاب گردی کا نشانہ بنا ڈالا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے راجہ اکرم کالونی میں خاوند نے بیٹے کے ساتھ مل کر اہلیہ اور چھوٹے بیٹے پر تیزاب پھینک دیا۔
واقعہ گھریلو جھگڑے پر پیش ایا پولیس نے مقدمہ درج کرکے دونوں کو گرفتار کرلیا ۔
پولیس کے مطابق مسماتہ مریم فاروق نے بتایا کہ خاوند فاروق ندیم کام کاج نہیں کرتا جبکہ خاتون نے گزر بسر کیلیے گھر میں بیوٹی پارلر بنا رکھا ہے۔
خاتون کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں اور واقعے کے وقت وہ چھوٹے بیٹے داؤد فاروق اور بیٹیوں کے ہمراہ گھر پر موجود تھی کہ خاوند فاروق ندیم اور 17 سالہ بیٹا عمر فاروق باہر سے گھر میں داخل ہوئے اور خاوند نے اچانک نازیبا زبان استعمال کرتے ہوئے تشدد شروع کر دیا۔
بیٹے عمر فاروق کے ہاتھ میں تیزاب کی بوتل تھی جو خاوند نے اسکے ہاتھ سے چھین کر تیزاب خاتون پر پھینکا جس کے نتیجے میں بازو اور گردن جھلس گئی۔
خاتون کی چیخ کی آوازیں اور شور سن کر اہل محلہ نے خاوند اور بیٹے سے جان چھڑائی اور پولیس کو اطلاع دی جس پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر دونوں کو گرفتار کرلیا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق باپ اور بیٹے نے گھریلو لڑائی جھگڑے پر اہلیہ اور دوسرے بیٹے پر باتھ روم میں استعمال ہونے والا تیزاب گرایا۔ متاثرہ خاتون اور بیٹے کو علاج معالجے کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا، جنکی حالت خطرے سے باہر ہے اور انھیں علاج معالجے کے بعد گھر بھجوا دیا گیا ہے۔
پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم ناقابل برداشت ہیں ملزمان کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کر کے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے ساتھ
پڑھیں:
ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
راولپنڈی(نیوز ڈیسک)راولپنڈی میں مبینہ طور پر جعلی بین الاقوامی ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا انکشاف ہوا ہے، جس سے صحت کی جعلی دستاویزات پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، اے بی این نیوز نے شہر میں کام کرنے والے مبینہ جعلی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔ نیٹ ورک پر افراد کو جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا شبہ ہے۔
رپورٹ نے سرکاری صحت کے ریکارڈ کے غلط استعمال اور صحت عامہ اور بین الاقوامی سفری تعمیل کے لیے ممکنہ خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
حکام سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ الزامات کی تحقیقات کریں گے اور اگر دعوے درست ثابت ہوئے تو ملوث پائے جانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔