پرنس رحیم آغاخان کا وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کو خط، سیلاب کی تباہی سے نمٹنے کے لیے تعاون کی یقین دہانی
اشاعت کی تاریخ: 24th, August 2025 GMT
پرنس رحیم آغاخان نے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کو اپنے اداروں کی طرف سے تعاون اور مدد کی یقین دہانی کرائی۔
اسماعیلی مسلمانوں کے روحانی پیشوا اور آغاخان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک (AKDN) کے سربراہ پرنس رحیم آغا خان نے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر کو خط لکھا جس میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پرنس رحیم آغاخان کا وزیراعظم شہباز شریف کو خط، پاکستان اور بھارت میں ثالثی کی پیشکش
اپنے خط میں انہوں نے لکھا، ‘میں اپنی کونسل اور آغاخان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک (اے کے ڈی این) کی ایجنسیز کے ساتھ قریبی رابطے میں ہوں، اور جوں جوں ہر روز ایسے واقعات رونما ہورہے ہیں، میں اس صورتحال کا جائزہ لے رہا ہوں۔’
پرنس رحیم آغاخان کہا کہنا تھا، ‘میں بالخصوص گلگت کے قریب رضاکاروں کی ہلاکت کا سُن کر افسردہ ہوا جو اپنے لوگوں کے لیے پانی کی ترسیل کے انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے کام کررہے تھے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ ان کی روحیں ابدی سکون میں آرام کریں، اور ان کے متاثرہ خاندان اس اس عظیم نقصان کو برداشت کرنے کی طاقت حاصل کریں۔’
یہ بھی پڑھیے: گلگت بلتستان: راؤشن میں گلیشیئر پھٹنے سے سیلابی صورتحال، وزیر اعلیٰ و پاک فوج متحرک
آغاخان نے وزیراعلیٰ کے اس خط پر ان کا شکریہ ادا کیا جس میں انہوں نے سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد بحالی کے لیے AKDN سے تعاون کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کا علاقہ ‘میرے دل کے قریب رہا ہے’ اور میرے ادارے اور ایجنسیز حالیہ نقصانات سے نکلنے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے حکومت اور مقامی آبادی کی مدد کرتے رہیں گے۔
پرنس رحیم آغاخان نے امید ظاہر کی کہ بحالی کی مشترکہ کوششیں سیلاب سے حالیہ تکالیف کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
یاد رہے کہ اس سال ملک کے دوسرے علاقوں کی طرح گلگت بلتستان کو بھی سیلابی صورتحال کا سامنا رہا۔ تازہ ترین واقعہ غذر کے علاقے راؤشن میں پیش آیا جہاں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات آنے والے تباہ کن سیلاب نے تالی داس نامی گاؤں کو مکمل طور پر ملیامیٹ کرکے رکھ دیا۔
سیلاب کے باعث کم از کم 30 گھر مکمل طور پر تباہ ہوئے جبکہ علاقے کی باقی تمام دکانیں، مکانات اور دیگر املاک ملبے کے نیچے دب گئیں۔
یہ بھی پڑھیے: غذر گلگت بلتستان: سیلاب کے دوران چرواہے کی بروقت اطلاع سے سینکڑوں زندگیاں کیسے بچ گئیں؟
سیلابی ریلے نے دریائے غذر کا بہاؤ بھی روک دیا جس سے تقریباً 7 کلومیٹر طویل جھیل بن گئی ہے اور دریا کے آس پاس موجود مزید 330 گھرانے متاثر ہوئے ہیں۔ اس جھیل نے مکانات، زرعی زمینیں اور غذر-شندور روڈ کے کئی حصے ڈبو دیے ہیں جس کے نتیجے میں اپر گوپس، پھندڑ اور یاسین کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے اور ہزاروں لوگ محصور ہو گئے۔
واقعے کے بعد علاقے میں حکومت، پاک فوج اور AKDN کی طرف سے بحالی کی کارروائیاں جاری ہیں اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
AKDN GILGIT BALTISTAN FLOODS PRINCE RAHIM AGA KHAN اے کے ڈی این پرنس رحیم آغاخان حاجی گلبر گلگت بلتستان سیلاب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے کے ڈی این حاجی گلبر گلگت بلتستان سیلاب گلگت بلتستان
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔