وزیر داخلہ محسن نقوی کی پاکستان ریلویز ہیڈ کوارٹرز آمد، سیکیورٹی اقدامات کا جائزہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان ریلویز ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا اور حنیف عباسی کی صدارت میں ہونے والے خصوصی اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں ملک بھر، خصوصاً بلوچستان میں ریلویز لائنز اور ٹرینوں کی سیکیورٹی کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ریلویز کی اراضی پر تجاوزات کے خلاف مشترکہ کریک ڈاؤن کیا جائے گا، جس میں نیشنل کونسٹیبلری اور ریلویز پولیس حصہ لیں گی۔ ایف سی بھی انسداد تجاوزات آپریشن میں ریلویز پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔
مزید پڑھیں: بلوچستان حکومت اور پاکستان ریلویز کا پیپلز ٹرین سروس شروع کرنے پر اتفاق
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان ٹرینیں چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ریلویز ٹریکس اور ٹرینوں کی فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے مسافروں کی حفاظت کو اولین ترجیح قرار دیا۔
وزیر داخلہ نے ریلویز کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے حنیف عباسی کے دور میں کیے گئے منفرد اقدامات کو سراہا، جبکہ وزیر ریلویز حنیف عباسی نے تجاوزات کے خاتمے میں فیڈرل ریزرو پولیس کی معاونت پر وزیر داخلہ کا شکریہ ادا کیا۔
اجلاس میں چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان ریلویز عامر علی بلوچ، آئی جی ریلویز پولیس رائے طاہر اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان ریلویز ہیڈ کوارٹرز حنیف عباسی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: حنیف عباسی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی وزیر داخلہ محسن نقوی پاکستان ریلویز حنیف عباسی اجلاس میں
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں