فلک بوس کرایے اور زمین بوس سیاحت
اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT
مقامی اسکول ٹیچر حامد اپنے خاندان کے 5 افراد کے ساتھ راولپنڈی میں مقیم ہیں۔ وہ اپنی والدہ کی میت کو اسکردو نہ لے جا سکا، کیونکہ شدید سیلاب کے باعث شاہراہ ریشم کے مختلف مقامات پر بند ہونے کی وجہ سے سڑکیں بند تھیں۔
اس کے لیے واحد آپشن رہ گیا ہوائی سفر۔ لیکن وہ ایئر لائنز کے زیادہ قیمت والے ٹکٹوں کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ جب اس کے لیے کوئی چارہ نہ بچا تو اس نے اپنی والدہ کو راولپنڈی کے قبرستان میں دفن کر دیا۔
اسکردو سے میری والدہ کی تدفین دیکھنے کوئی نزدیکی رشتہ دار نہیں آسکا اور میں ان کی تدفین کے لیے اکیلا ہی رہ گیا تھا۔
یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس طرح کے بہت سے واقعات ہیں، کیونکہ مقامی لوگ اور سیاح ٹکٹوں کے مہنگے ہونے کی وجہ سے اسلام آباد اور گلگت بلتستان یا کوارر وغیرہ کے درمیان ہنگامی طور پر ہوائی سفر نہیں کر سکے۔
مہنگے ہوای ٹکٹ ایک قومی المیہ بنتا جا رہا ہے۔پاکستان دنیا کے خوبصورت ترین مناظر کا حامل ملک ہے۔ گلگت بلتستان اور اسکردو کی برف پوش چوٹیاں، گوادر کے پرسکون ساحل، اور کوئٹہ کی ثقافتی و قدرتی دلکشی۔
یہ مقامات ملکی اور غیر ملکی سیاحت کے لیے بے پناہ امکانات رکھتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ ہوائی سفر کے بلند کرایے، خاص طور پر متوسط طبقے اور مقامی سیاحوں کے لیے، ان جگہوں کو محض خواب بنا دیتے ہیں۔
سیاحت اور ہوا بازی کا خلا ؟حکومت بارہا سیاحت کو ترجیحی شعبہ قرار دیتی ہے، مگر اندرونِ ملک فضائی سفر کا کرایہ اس کے برعکس ایک مختلف کہانی سناتا ہے۔ اسلام آباد–گلگت، کراچی–اسکردو، کوئٹہ–کراچی اور کراچی–گوادر اور دیگر ساحلی علاقوں جیسے روٹس پر ٹکٹ کی قیمتیں بعض اوقات بین الاقوامی پروازوں سے بھی زیادہ ہو جاتی ہیں۔
مثال کے طور پر، سیاحتی سیزن کے دوران اسلام آباد سے اسکردو کا ایک طرفہ کرایہ اکثر 30 ہزار روپے سے تجاوز کر جاتا ہے، جو عام مسافروں کے لیے ناقابل برداشت ہے۔
یہی صورت حال گوادر اور کوئٹہ کے روٹس پر بھی دیکھنے کو ملتی ہے، جہاں محدود پروازیں اور اجارہ داری کی فضا قیمتوں کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔ بلوچستان سے تعلق رکھتے والی ایک رکن اسمبلی نے گزشتہ دنوں اس نکتے کو بھی اٹھایا کہ کوئٹہ اسلام اباد کا کرایہ ایک لاکھ روپے سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔
کیا یہ حکومتی ناکامی ہے؟پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) فضائی ٹرانسپورٹ کی نگرانی، منصفانہ مسابقت اور مسافروں کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔ مگر اندرونِ ملک سیاحتی روٹس کے معاملے میں ادارہ نہ تو کرایوں پر مؤثر قابو پا سکا ہے اور نہ ہی سماجی و اقتصادی روٹس پر سبسڈی کے وعدے پورے کر پایا ہے۔
قومی ایوی ایشن پالیسی 2019 میں کم منافع بخش علاقوں میں سستی پروازوں کے لیے ایئرلائنز کو ترغیبات دینے کا اعلان کیا گیا تھا، مگر یہ وعدے عملی جامہ نہ پہن سکے۔ حال ہی میں جاری کی گئی 2024 کی پالیسی بھی مسافروں کو ناجائز کرایوں سے بچانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔
سیاحت اور مقامی معیشت پر منفی اثرات:سلک روڈ ٹور پاکستان کے بانی معید الرحمان کے مطابق بڑھتے ہوئے کرایوں کا سب سے بڑا نقصان ملکی سیاحت کو ہو رہا ہے۔ گلگت بلتستان میں ہوٹل مالکان بتاتے ہیں کہ گاہکوں کی تعداد میں واضح کمی آئی ہے۔’ان کے مطابق آگر ریلوے اور پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایے کنٹرول کیئے جا سکتے ہیں تو ہوائی سفر کے کرائے میں حکومتی کنٹرول کیوں نہیں ہو سکتا۔
معروف کاروباری شخصیت عارف اسلم خان (سابق صدر ہوٹلز ایسوسی ایشن گلگت بلتستان اور شنگریلا ریزورٹ اسکردو کے مالک) نے کھلے عام فضائی کرایوں پر سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ رجحان سیاحت کے فروغ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
تربت پسنی اور گوادر میں بھی یہی صورت حال ہے، جہاں بلند کرایے ویک اینڈ ٹرپس اور فیملی ٹورز کو روکتے ہیں۔ کوئٹہ کی قدرتی خوبصورتی اور ثقافتی ورثہ بھی زیادہ تر لوگوں کے لیے محض سننے کی چیز بن چکی ہے۔ ان کے مطابق ایک تو اسلام آباد سے کوئی فلائٹ گوادر کے لیے ہے ہی نہیں، اور اپر سے کرایہ استغفراللہ ، کون جائے گا۔
مقامی ٹوار ازم کمپنی کی انٹر نیشنل کنسلٹنٹ مائدہ کے مطابق سیاحت صرف مناظر دیکھنے کا نام نہیں — یہ ہزاروں چھوٹے کاروباروں کے لیے روزگار کا ذریعہ ہے۔
ہوٹلوں، ریستورانوں، دستکاروں اور گائیڈز کی آمدنی کا براہِ راست انحصار سیاحوں پر ہے۔ جب فضائی کرایے زیادہ ہوں گے تو سیاح کم آئیں گے، اور یہ مقامی معیشت کے لیے نقصان دہ ہے۔ مزید برآں، مہنگے کرایے پاکستان کو عالمی مارکیٹ میں ایک مسابقتی سیاحتی منزل کے طور پر پیش کرنے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
ایوی ایویشن اور ٹورازم کے ماہرین اس رجحان کو روکنے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی بنانے کے لیے اقدامات کا نفاذ ضروری سمجھتے ہیں، جن میں:
سماجی و اقتصادی روٹس پر سبسڈی کی بحالی اور مؤثر نفاذ — کم منافع بخش سیاحتی روٹس پر ایئرلائنز کو حکومتی معاونت ملنی چاہیے تاکہ کرایے کم رہیں۔ سیاحتی روٹس پر کرایہ حدبندی (Fare Cap) — دیگر ممالک کی طرح کرایوں کی زیادہ سے زیادہ حد مقرر کی جائے۔ مقابلے کو فروغ دینا — نئی ملکی ایئرلائنز اور کم لاگت والے کیریئرز کو سیاحتی روٹس پر لانے کی ترغیب دی جائے۔ موسمی کرایہ کنٹرول — سیاحتی سیزن میں ناجائز اضافے کو روکا جائے۔ سرکاری و نجی شراکت داری — ٹورازم بورڈز اور ایئرلائنز مشترکہ منصوبوں کے ذریعے اہم سیاحتی روٹس پر کرایے کم کرنے اور تشہیر کرنے کا کام کریں۔افسر ملک، جو ایوی ایشن امور پر گہری نظر رکھتے ہیں، کا کہنا ہے کہ کرایوں پر ایسی پابندی مسافروں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق 1992 سے پہلے پی آئی اے کی اجارہ داری تھی اور کرایے محض رسمی طور پر سی اے اے سے منظور ہوتے تھے۔
اوپن اسکائی پالیسی کے بعد نجی ایئرلائنز کو مقابلے کی اجازت ملی اور قیمتوں کا تعین طلب و رسد کے تحت ہونے لگا۔ تاہم ریاست کو ایئرلائنز کو کارٹیلائزیشن یا مصنوعی کرایہ سازی کی اجازت نہیں دینی چاہیے اور ضرورت پڑنے پر سی سی پی کو مداخلت کرنی چاہیے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مصنف سابق سینئر ایڈیشنل ڈائریکٹر لاء پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور اسلام آباد میں مقیم ایوی ایشن اینڈ انٹرنیشنل لاء کنسلٹنٹ ہیں۔ ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سیاحتی روٹس پر ایئرلائنز کو گلگت بلتستان ان کے مطابق اسلام آباد ہوائی سفر ایوی ایشن کے لیے
پڑھیں:
قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔
یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا
اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔
ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔
خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔
وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔
زیارت کیوں بھیجا گیااصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔
شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔
تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے
36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔
کراچی، وہ بھی ستمبر میںاب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔
اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔
ایمبولینس کا قصہاب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟
اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے
مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟
میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔
کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائدہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔
سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔
حرفِ آخرصاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔
مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔
ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔
میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی