WE News:
2026-07-24@09:18:13 GMT

’فارسی کوریڈور‘

اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT

ہمارے ہاں یہ تو سب جانتے ہیں کہ ایران اور امریکا کے بیچ کشمکش ہے۔ اور اس کشمکش میں ایران کو چونکہ روس کی پشت پناہی بھی میسر ہے، سو ایران کے حوالے سے روس اور امریکا کے بیچ بھی ایک سرد سی صورتحال چلتی آرہی ہے۔ مگر جب موقع آتا ہے یہ سمجھنے کا آخر ایران عالمی طاقتوں کے لیے اتنا اہم کیوں ہے؟ وہ اسے اس کے حال پر کیوں نہیں چھوڑ دیتے؟ تو کوئی کہتا ہے، یہ کشمکش ایرانی انقلاب اور اس کے نتیجے میں تہران میں پیش آنے والے واقعات کی وجہ سے ہے۔ اور کوئی کہتا ہے، ایران روس کے لیے دفاعی اہمیت رکھتا ہے سو امریکا کو ایران اسی حوالے سے درکار ہے۔ اور اگر کوئی ایسا مل جائے جس نے مذکورہ 2 مؤقف والوں سے سیاسی تاریخ تھوڑی زیادہ پڑھ رکھی ہو تو وہ معاملے کو محمد مصدق دور تک لے جاتا ہے۔ کم از کم ہم نے نہیں دیکھا کہ کسی نے مصدق دور سے پیچھے جھانکنے کی ضرورت محسوس کی ہو۔ آیئے جھانک کر دیکھتے ہیں کہ اس طرف کیا رکھا ہے؟

22 جون 1941 کو سوویت یونین پر نازی حملہ ہوا۔ حملے کی شدت کا اندازہ اس سے لگا لیجئے کہ 35 لاکھ نازی سپاہ نے سوویت سرحد عبور کی تھی۔ یہ دوسری جنگ عظیم ہی تھی جس میں امریکا بڑے پیمانے پر ’جنگی تجارت‘ کے اس نشے کا عادی ہوا تھا جو اب وہ چھوڑنے پر کسی صورت بھی آمادہ نہیں۔ جنگ کے پہلے 2 سالوں میں اس نے یورپ کو ’لینڈ لیز پروگرام‘ کے تحت سپلائی شروع کر رکھی تھی۔ اس پروگرام کے تحت ضرورت کی جملہ اشیا ادھار یا کرائے پر فراہم کی جاتی تھیں۔ امریکا کے لیے یہ فراہمی یوں آسان تھی کہ وہ خود جنگ سے دور رہ کر بس مال بنانے کے چکر میں تھا۔ وہ تو آگے چل کر جاپان نے پرل ہاربر پر حملہ کردیا ورنہ امریکا نے اس جنگ میں بس دکان ہی چلانی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: الاسکا: جیت کس کی ہوئی؟

سوویت یونین پر حملہ ہوا تو صورتحال یہ تھی کہ اس کی ہیوی انڈسٹری جنگ زدہ علاقے میں تھی۔ فوری طور پر یہ انڈسٹریز اکھاڑ کر یورال کے اس پار منتقل کرنے کا آپریشن شروع ہوا۔ جس کا مطلب تھا کہ اب کچھ مدت کے لیے سوویت یونین کو سپلائی کی کمی کا سامنا رہے گا۔ چنانچہ سوویت حکام نے فوری طور پر امریکی دکان سے رابطہ کیا۔ اس دکان سے براستہ آرکٹک سپلائی شروع ہوئی تو یہ سپلائی لائن جرمن حملوں کی زد میں آگئی۔ یوں کسی محفوظ راستے کی تلاش شروع ہوئی۔

جلد ہی راستہ مل گیا۔ ایران کے راستے سپلائی دی جا سکتی تھی۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اس دور کا ایران ایک نہایت پسماندہ ملک تھا۔ سڑکیں کسی کام کی نہ تھیں، ریلوے لائن بوسیدہ اور بندرگاہیں خستہ حال۔ سو صدر روزویلٹ اور وزیر اعظم چرچل کے مابین طے پایا کہ ایران کو جدید دور کے سب سے بڑے ٹرانس شپمنٹ حب میں تبدیل کیا جائے۔ مگر ایک مسئلہ تھا۔ ایران کے بادشاہ رضا شاہ پہلوی نے سیاسی طور پر مؤقف تو یہ اختیار کر رکھا تھا کہ وہ جنگ میں غیر جانبدار ہیں۔ مگر جرمن حکام سے ان کے روابط بھی کھلے عام موجود تھے۔ ایران میں جرمنوں کی بڑی تعداد موجود تھی اور یہ سب ہٹلر کی طرف سے کسی نہ کسی مشن پر تھے۔ چنانچہ دوکاندار اور گاہک کے بیچ طے پاگیا کہ ایران کو گود لے لیا جائے۔

جب زمانہ جنگ کا ہو تو پھر گود لینے کی رسم ٹینکوں کی مدد سے انجام دی جاتی ہے۔ سو 25 اگست 1941ء کو ایران پر 2 جانب سے حملہ ہوگیا۔ شمال اور قفقاز کی سمت سے سوویت آرمی اور جنوب سے برٹش آرمی ایران میں داخل ہوگئی۔ اس آپریشن کا کوڈ نام ’آپریشن کاؤنٹینینس‘ تھا جو صرف 3 دن میں 28 اگست کو مکمل ہوگیا۔ بادشاہ سلامت سے صاف صاف کہہ دیا گیا کہ ساتھ دیجیے یا پرلوک سدھاریے۔ وہ شاید نازیوں سے کسی بڑی شراکت میں تھے سو ان کے لیے وفاداری بدلنا مشکل ثابت ہو رہا تھا۔ یوں خود بادشاہ سلامت نے تیسری تجویز پیش کردی۔ جو منظور کرلی گئی۔ وہ تاج و تخت اپنے ولی عہد 22 سالہ محمد رضا شاہ پہلوی کے سپرد کرکے موریشس جلا وطن ہوگئے، جہاں سے وہ ساؤتھ افریقہ منتقل ہوئے اور وہیں فوت ہوئے۔ ان کا ولی عہد کیسا ثابت ہوا؟ اس کا اندازہ اسی سے لگا لیجیے کہ یہی آگے چل کر مشہور زمانہ ’شاہ ایران‘ کہلایا۔

یہ بھی پڑھیے: 14 اگست اور جبری تاریخ

راتوں رات امریکی انجینیئرز ہیوی مشینری سمیت ایران پہنچنے لگے۔ جلد ہی ان کی تعداد 10 ہزار سے بھی تجاوز کر گئی۔ شط العرب پر واقع 2 ایرانی بندرگاہیں خرم شہر اور ابادان کی ہی ماڈرنائزیشن شروع نہ ہوئی۔ بلکہ ان بندرگاہوں کو کیسپئن سی سے براستہ روڈ و ریلوے جوڑنے کا منصوبہ بھی تیزی سے تعمیری مراحل طے کرنے لگا۔ یہ فاصلہ لگ بھگ 1400 کلومیٹر کا تھا۔ اس زمانے کی ایرانی ریلوے اس قدر از کار رفتہ تھی کہ یومیہ بس ایک ہزار ٹن مال ہی منتقل کرسکتی تھی۔ جبکہ سوویت یونین کو لاکھوں ٹن سپلائی درکار تھی۔ سو ماڈرن امریکی ریلوے استعمال کرنے کا فیصلہ ہوا۔ جس کے لیے نئی پٹریاں بچھانے، نئی بوگیاں اور انجن ایران لانے کا منصوبہ بنا۔ دارالحکومت تہران کو جدید اور کشادہ سڑکوں کے ذریعے ہر سمت میں موجود اہم شہر سے جوڑا جانے لگا۔ اور وسیع و عریض گودام، ورکشاپس، اور طیاروں کی اسمبلی لائنز بننے لگیں۔

غیرت ایمانی تو ہر طرح کے مسلمان کی جاگتی ہے۔ مگر شیعہ کی کچھ زیادہ تیزی سے جاگ جاتی ہے۔ اس کے تدارک کے لیے ایرانیوں کو جدید تعلیم اور صحت کی سہولیات کی فراہمی شروع کردی گئی تاکہ وہ بھی خوش رہیں۔ اسی منصوبے کے تحت ہزاروں ایرانیوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا بھی بھیجا گیا۔ جو آگے چل کر شاہ ایران کی بیوروکریسی بنے۔ جلد ہی ایران اس خطے کا سب سے بڑا لاجسٹک حب تھا۔ ’فارسی کوریڈور‘ تیار ہوگیا اور اس سے سپلائی بھی شروع ہوگئی۔ ساتھ ہی ایک اور منصوبہ بھی چپکے سے لانچ ہوگیا۔ ایران کو مغربی بنانے کی سکیم رو بعمل ہوگئی تھی۔ سنیما بن گئے اور ایرانی مغربی موویز کا لطف لینے لگے۔ ہر رنگ کی شراب ہی نہیں ڈانس کلب بھی آباد ہونے لگے۔ کچھ آیت اللہ اس پر سیخ پا ہوئے مگر ان سے بھی بڑے آیت اللہ موجود تھے۔ انہوں نے پاس بلا کر سمجھا دیا کہ جرمنوں سے اسلام کو شدید خطرہ ہے۔ لہذا جو چل رہا ہے وہ چلنے دو۔ چھوٹے آیت اللہ بات سمجھ گئے، یوں مغربیت کو فری ہینڈ مل گیا۔

سوویت یونین کو اس کوریڈور سے کل سپلائی کا صرف 27 فیصد گیا تھا۔ مگر ذیل کے اعداد و شمار سے اندازہ لگا لیجیے کہ وہ 27 فیصد کتنا تھا۔

475000  ٹرک

12،000  بکتر بند گاڑیاں

2،000 لوکوموٹیو (ریلوے انجن)

11،000 ریل کی بوگیاں

14،795  حربی طیارے (ایران میں اسمبل ہوتے)

7،000 سے زیادہ ٹینک

8،000  اینٹی ایئرکرافٹ گنز

3،800 اینٹی ٹینک گنز

4.

5  ملین ٹن خوراک

15  ملین جوڑے فوجی بوٹ

19 ملین ٹن اسٹیل

450،000  ٹن بارود

3 لاکھ کلومیٹر ٹیلیفون کیبل

تقریباً 2،000 ریڈیوسٹیشن

1،900 کلوٹن ایلومینیم

اور یہ سب مال اس زمانے کے ریٹ کے مطابق 11 ارب ڈالرز کا تھا۔

فارسی کوریڈور سے لاکھوں ایرانی بھی کسی نہ کسی درجے میں وابستہ ہوچکے تھے مگر اس کوریڈور کو فی الحقیقت ہزاروں امریکی چلا رہے تھے۔ جنگ ختم ہوئی تو امریکا اگلے 6 ماہ میں اپنی ورک فورس نکال لے گیا۔ برطانیہ اور سوویت یونین کی تو وہاں فوج موجود تھی۔ اب بھلا فوج بھی کوئی شوق سے نکالتا ہے؟ سو یہ تھوڑا کسمسائے۔ مگر جب عالمی دباؤ آیا تو پہلے برطانیہ اور پھر سوویت یونین نے بھی اپنی فوج نکال لی۔ سوویت یونین تو واقعی چلتا بنا۔ مگر برطانیہ اور امریکا کچھ عرصے بعد پچھلی گلی سے ایم آئی 6 اور سی آئی اے اہلکاروں کی شکل میں واپس آگئے۔ آگے آپ جانتے ہی ہیں کہ شاہ ایران اور اس کے سرپرستوں نے پھر وہاں کیا کچھ کیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا عالمی قد کاٹھ

’اسلام کو جرمنوں سے خطرہ ہے‘ کے نام پر ایران سے اسلام ہی کوچ کرگیا تو پھر آیا آیت اللہی انقلاب۔ ظاہر ہے انقلاب کو امریکا اور برطانیہ سے خطرہ بھی تو تھا۔ مدد کہاں سے آئی؟ انہیں سے جن کے لیے فارسی کوریڈور بنا تھا۔ سوویت لوٹ آئے۔ اور جب سوویت نہ رہے تو روس نے جگہ لے لی جو آج بھی موجود ہے۔ امید ہے اب آپ کو سمجھ آگیا ہوگا کہ ایران قضیے کی بنیاد کیا ہے؟ اور اس کی جڑیں کہاں تک پھیلی ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رعایت اللہ فاروقی

امریکا ایران روس سابق سویت یونین شاہ ایران

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ایران سابق سویت یونین شاہ ایران سوویت یونین شاہ ایران کہ ایران آیت اللہ ایران کو کے لیے اور اس

پڑھیں:

صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ

صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

نیویارک (آئی پی اس )امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو نے متنبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کے ساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منیلا میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ ڈیل کی پاسداری کی، ایران اس وقت امریکا کے ساتھ ڈیل کے لیے تیار نہیں، ممکن ہے کہ اگلے چند دنوں میں اپنا مقف تبدیل کر لے، انہوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ صورتحال برقرار رہی تو ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔

مارکو روبیو کا کہنا تھا جب بھی ایران امریکا ڈیل ہوتی ہے اسے ایران کو چلانے والے لوگ خراب کردیتے ہیں، انہوں نے دعوی کیا کہ ایران اب بھی ڈیل کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ درخواستیں کر رہا ہے، ایران چاہے تو مشرق وسطی کا امیر ترین ملک بن سکتا ہے لیکن اسے چلانے والے انتہا پسند مذہبی رہنماں کو معاشی معاملات کا علم ہی نہیں، انہیں دلچسپی حزب اللہ، حماس، حوثیوں اور دیگر ملیشیاں کو رقومات دینے میں ہے جن کی سرپرستی میں دہشت گردی ہوتی ہے ۔

مارکو روبیو کا حوثیوں کے حوالے سیکہنا تھا کہ ایران نے حوثیوں کو اس تنازع میں شامل کردیا ہے، اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، امید ہیحوثی حملے روک دیں گے۔مارکو روبیو نے سعودی عرب کو امریکا کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا قابل فہم ہے، مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر امن سول جوہری پروگرام چاہتا ہے، سعودی عرب یا دیگر ممالک کے ساتھ کسی بھی سول جوہری معاہدے میں حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے، سول جوہری معاہدے کانگریس کی منظوری سے ہوں گے۔

مارکوروبیو کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عالمی فوجداری عدالت میں پاگل اورجنونی لوگ ہیں، امریکا اس کا حصہ نہیں بنے گا، اگر اگر لوگ اس احمق تنظیم کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں لیکن ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے اور وہ امریکی شہریوں پر اپنے دائرہ اختیار کا اطلاق نہیں کر سکیں گے۔ یوکرین روس جنگ سے متعلق امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ روس یوکرین جنگ میں بہت خونریزی ہوئی، یوکرین نے اس کی بہت بھاری قیمت اداکی ہے، امریکا یوکرین جنگ کے خاتمیکے لیے تعمیری کردارادا کرنیکے لیے تیار ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ چین کیساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا اگلی خبرپاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران