WE News:
2026-06-03@03:17:48 GMT

’فارسی کوریڈور‘

اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT

ہمارے ہاں یہ تو سب جانتے ہیں کہ ایران اور امریکا کے بیچ کشمکش ہے۔ اور اس کشمکش میں ایران کو چونکہ روس کی پشت پناہی بھی میسر ہے، سو ایران کے حوالے سے روس اور امریکا کے بیچ بھی ایک سرد سی صورتحال چلتی آرہی ہے۔ مگر جب موقع آتا ہے یہ سمجھنے کا آخر ایران عالمی طاقتوں کے لیے اتنا اہم کیوں ہے؟ وہ اسے اس کے حال پر کیوں نہیں چھوڑ دیتے؟ تو کوئی کہتا ہے، یہ کشمکش ایرانی انقلاب اور اس کے نتیجے میں تہران میں پیش آنے والے واقعات کی وجہ سے ہے۔ اور کوئی کہتا ہے، ایران روس کے لیے دفاعی اہمیت رکھتا ہے سو امریکا کو ایران اسی حوالے سے درکار ہے۔ اور اگر کوئی ایسا مل جائے جس نے مذکورہ 2 مؤقف والوں سے سیاسی تاریخ تھوڑی زیادہ پڑھ رکھی ہو تو وہ معاملے کو محمد مصدق دور تک لے جاتا ہے۔ کم از کم ہم نے نہیں دیکھا کہ کسی نے مصدق دور سے پیچھے جھانکنے کی ضرورت محسوس کی ہو۔ آیئے جھانک کر دیکھتے ہیں کہ اس طرف کیا رکھا ہے؟

22 جون 1941 کو سوویت یونین پر نازی حملہ ہوا۔ حملے کی شدت کا اندازہ اس سے لگا لیجئے کہ 35 لاکھ نازی سپاہ نے سوویت سرحد عبور کی تھی۔ یہ دوسری جنگ عظیم ہی تھی جس میں امریکا بڑے پیمانے پر ’جنگی تجارت‘ کے اس نشے کا عادی ہوا تھا جو اب وہ چھوڑنے پر کسی صورت بھی آمادہ نہیں۔ جنگ کے پہلے 2 سالوں میں اس نے یورپ کو ’لینڈ لیز پروگرام‘ کے تحت سپلائی شروع کر رکھی تھی۔ اس پروگرام کے تحت ضرورت کی جملہ اشیا ادھار یا کرائے پر فراہم کی جاتی تھیں۔ امریکا کے لیے یہ فراہمی یوں آسان تھی کہ وہ خود جنگ سے دور رہ کر بس مال بنانے کے چکر میں تھا۔ وہ تو آگے چل کر جاپان نے پرل ہاربر پر حملہ کردیا ورنہ امریکا نے اس جنگ میں بس دکان ہی چلانی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: الاسکا: جیت کس کی ہوئی؟

سوویت یونین پر حملہ ہوا تو صورتحال یہ تھی کہ اس کی ہیوی انڈسٹری جنگ زدہ علاقے میں تھی۔ فوری طور پر یہ انڈسٹریز اکھاڑ کر یورال کے اس پار منتقل کرنے کا آپریشن شروع ہوا۔ جس کا مطلب تھا کہ اب کچھ مدت کے لیے سوویت یونین کو سپلائی کی کمی کا سامنا رہے گا۔ چنانچہ سوویت حکام نے فوری طور پر امریکی دکان سے رابطہ کیا۔ اس دکان سے براستہ آرکٹک سپلائی شروع ہوئی تو یہ سپلائی لائن جرمن حملوں کی زد میں آگئی۔ یوں کسی محفوظ راستے کی تلاش شروع ہوئی۔

جلد ہی راستہ مل گیا۔ ایران کے راستے سپلائی دی جا سکتی تھی۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اس دور کا ایران ایک نہایت پسماندہ ملک تھا۔ سڑکیں کسی کام کی نہ تھیں، ریلوے لائن بوسیدہ اور بندرگاہیں خستہ حال۔ سو صدر روزویلٹ اور وزیر اعظم چرچل کے مابین طے پایا کہ ایران کو جدید دور کے سب سے بڑے ٹرانس شپمنٹ حب میں تبدیل کیا جائے۔ مگر ایک مسئلہ تھا۔ ایران کے بادشاہ رضا شاہ پہلوی نے سیاسی طور پر مؤقف تو یہ اختیار کر رکھا تھا کہ وہ جنگ میں غیر جانبدار ہیں۔ مگر جرمن حکام سے ان کے روابط بھی کھلے عام موجود تھے۔ ایران میں جرمنوں کی بڑی تعداد موجود تھی اور یہ سب ہٹلر کی طرف سے کسی نہ کسی مشن پر تھے۔ چنانچہ دوکاندار اور گاہک کے بیچ طے پاگیا کہ ایران کو گود لے لیا جائے۔

جب زمانہ جنگ کا ہو تو پھر گود لینے کی رسم ٹینکوں کی مدد سے انجام دی جاتی ہے۔ سو 25 اگست 1941ء کو ایران پر 2 جانب سے حملہ ہوگیا۔ شمال اور قفقاز کی سمت سے سوویت آرمی اور جنوب سے برٹش آرمی ایران میں داخل ہوگئی۔ اس آپریشن کا کوڈ نام ’آپریشن کاؤنٹینینس‘ تھا جو صرف 3 دن میں 28 اگست کو مکمل ہوگیا۔ بادشاہ سلامت سے صاف صاف کہہ دیا گیا کہ ساتھ دیجیے یا پرلوک سدھاریے۔ وہ شاید نازیوں سے کسی بڑی شراکت میں تھے سو ان کے لیے وفاداری بدلنا مشکل ثابت ہو رہا تھا۔ یوں خود بادشاہ سلامت نے تیسری تجویز پیش کردی۔ جو منظور کرلی گئی۔ وہ تاج و تخت اپنے ولی عہد 22 سالہ محمد رضا شاہ پہلوی کے سپرد کرکے موریشس جلا وطن ہوگئے، جہاں سے وہ ساؤتھ افریقہ منتقل ہوئے اور وہیں فوت ہوئے۔ ان کا ولی عہد کیسا ثابت ہوا؟ اس کا اندازہ اسی سے لگا لیجیے کہ یہی آگے چل کر مشہور زمانہ ’شاہ ایران‘ کہلایا۔

یہ بھی پڑھیے: 14 اگست اور جبری تاریخ

راتوں رات امریکی انجینیئرز ہیوی مشینری سمیت ایران پہنچنے لگے۔ جلد ہی ان کی تعداد 10 ہزار سے بھی تجاوز کر گئی۔ شط العرب پر واقع 2 ایرانی بندرگاہیں خرم شہر اور ابادان کی ہی ماڈرنائزیشن شروع نہ ہوئی۔ بلکہ ان بندرگاہوں کو کیسپئن سی سے براستہ روڈ و ریلوے جوڑنے کا منصوبہ بھی تیزی سے تعمیری مراحل طے کرنے لگا۔ یہ فاصلہ لگ بھگ 1400 کلومیٹر کا تھا۔ اس زمانے کی ایرانی ریلوے اس قدر از کار رفتہ تھی کہ یومیہ بس ایک ہزار ٹن مال ہی منتقل کرسکتی تھی۔ جبکہ سوویت یونین کو لاکھوں ٹن سپلائی درکار تھی۔ سو ماڈرن امریکی ریلوے استعمال کرنے کا فیصلہ ہوا۔ جس کے لیے نئی پٹریاں بچھانے، نئی بوگیاں اور انجن ایران لانے کا منصوبہ بنا۔ دارالحکومت تہران کو جدید اور کشادہ سڑکوں کے ذریعے ہر سمت میں موجود اہم شہر سے جوڑا جانے لگا۔ اور وسیع و عریض گودام، ورکشاپس، اور طیاروں کی اسمبلی لائنز بننے لگیں۔

غیرت ایمانی تو ہر طرح کے مسلمان کی جاگتی ہے۔ مگر شیعہ کی کچھ زیادہ تیزی سے جاگ جاتی ہے۔ اس کے تدارک کے لیے ایرانیوں کو جدید تعلیم اور صحت کی سہولیات کی فراہمی شروع کردی گئی تاکہ وہ بھی خوش رہیں۔ اسی منصوبے کے تحت ہزاروں ایرانیوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا بھی بھیجا گیا۔ جو آگے چل کر شاہ ایران کی بیوروکریسی بنے۔ جلد ہی ایران اس خطے کا سب سے بڑا لاجسٹک حب تھا۔ ’فارسی کوریڈور‘ تیار ہوگیا اور اس سے سپلائی بھی شروع ہوگئی۔ ساتھ ہی ایک اور منصوبہ بھی چپکے سے لانچ ہوگیا۔ ایران کو مغربی بنانے کی سکیم رو بعمل ہوگئی تھی۔ سنیما بن گئے اور ایرانی مغربی موویز کا لطف لینے لگے۔ ہر رنگ کی شراب ہی نہیں ڈانس کلب بھی آباد ہونے لگے۔ کچھ آیت اللہ اس پر سیخ پا ہوئے مگر ان سے بھی بڑے آیت اللہ موجود تھے۔ انہوں نے پاس بلا کر سمجھا دیا کہ جرمنوں سے اسلام کو شدید خطرہ ہے۔ لہذا جو چل رہا ہے وہ چلنے دو۔ چھوٹے آیت اللہ بات سمجھ گئے، یوں مغربیت کو فری ہینڈ مل گیا۔

سوویت یونین کو اس کوریڈور سے کل سپلائی کا صرف 27 فیصد گیا تھا۔ مگر ذیل کے اعداد و شمار سے اندازہ لگا لیجیے کہ وہ 27 فیصد کتنا تھا۔

475000  ٹرک

12،000  بکتر بند گاڑیاں

2،000 لوکوموٹیو (ریلوے انجن)

11،000 ریل کی بوگیاں

14،795  حربی طیارے (ایران میں اسمبل ہوتے)

7،000 سے زیادہ ٹینک

8،000  اینٹی ایئرکرافٹ گنز

3،800 اینٹی ٹینک گنز

4.

5  ملین ٹن خوراک

15  ملین جوڑے فوجی بوٹ

19 ملین ٹن اسٹیل

450،000  ٹن بارود

3 لاکھ کلومیٹر ٹیلیفون کیبل

تقریباً 2،000 ریڈیوسٹیشن

1،900 کلوٹن ایلومینیم

اور یہ سب مال اس زمانے کے ریٹ کے مطابق 11 ارب ڈالرز کا تھا۔

فارسی کوریڈور سے لاکھوں ایرانی بھی کسی نہ کسی درجے میں وابستہ ہوچکے تھے مگر اس کوریڈور کو فی الحقیقت ہزاروں امریکی چلا رہے تھے۔ جنگ ختم ہوئی تو امریکا اگلے 6 ماہ میں اپنی ورک فورس نکال لے گیا۔ برطانیہ اور سوویت یونین کی تو وہاں فوج موجود تھی۔ اب بھلا فوج بھی کوئی شوق سے نکالتا ہے؟ سو یہ تھوڑا کسمسائے۔ مگر جب عالمی دباؤ آیا تو پہلے برطانیہ اور پھر سوویت یونین نے بھی اپنی فوج نکال لی۔ سوویت یونین تو واقعی چلتا بنا۔ مگر برطانیہ اور امریکا کچھ عرصے بعد پچھلی گلی سے ایم آئی 6 اور سی آئی اے اہلکاروں کی شکل میں واپس آگئے۔ آگے آپ جانتے ہی ہیں کہ شاہ ایران اور اس کے سرپرستوں نے پھر وہاں کیا کچھ کیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا عالمی قد کاٹھ

’اسلام کو جرمنوں سے خطرہ ہے‘ کے نام پر ایران سے اسلام ہی کوچ کرگیا تو پھر آیا آیت اللہی انقلاب۔ ظاہر ہے انقلاب کو امریکا اور برطانیہ سے خطرہ بھی تو تھا۔ مدد کہاں سے آئی؟ انہیں سے جن کے لیے فارسی کوریڈور بنا تھا۔ سوویت لوٹ آئے۔ اور جب سوویت نہ رہے تو روس نے جگہ لے لی جو آج بھی موجود ہے۔ امید ہے اب آپ کو سمجھ آگیا ہوگا کہ ایران قضیے کی بنیاد کیا ہے؟ اور اس کی جڑیں کہاں تک پھیلی ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رعایت اللہ فاروقی

امریکا ایران روس سابق سویت یونین شاہ ایران

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ایران سابق سویت یونین شاہ ایران سوویت یونین شاہ ایران کہ ایران آیت اللہ ایران کو کے لیے اور اس

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار