WE News:
2026-06-03@06:49:55 GMT

’امریکی شاید آمر کو پسند کرتے ہیں‘ صدر ٹرمپ کا متنازع بیان

اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT

’امریکی شاید آمر کو پسند کرتے ہیں‘ صدر ٹرمپ کا متنازع بیان

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک تقریب میں کہا ہے کہ ’بہت سے امریکی شاید ایک آمر کو پسند کرتے ہیں‘۔ انہوں نے یہ بات پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں 80 منٹ طویل گفتگو کے دوران کہی، جس میں انہوں نے ناقدین اور میڈیا پر سخت تنقید کی۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ کہتے ہیں، ہمیں آزادی چاہیے، ہمیں اس کی ضرورت نہیں، وہ آمر ہے۔ لیکن بہت سے لوگ کہتے ہیں شاید ہم آمر کو پسند کرتے ہیں۔ تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ وہ خود کو آمر نہیں سمجھتے بلکہ عام فہم رکھنے والا اور سمجھدار شخص ہوں۔

صدر ٹرمپ نے اس موقع پر ایک نیا ایگزیکٹو آرڈر بھی دستخط کیا جس کے تحت امریکی پرچم جلانے والوں کو ایک سال قید کی سزا دی جائے گی، حالانکہ امریکی سپریم کورٹ 1989 میں اس عمل کو اظہارِ رائے کی آزادی کے دائرے میں قرار دے چکی ہے۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ حد تک گر گئی

ٹرمپ نے واشنگٹن میں سیکیورٹی سخت کرنے کے لیے نیشنل گارڈ کے تحت ایک خصوصی یونٹ قائم کرنے اور کیش لیس ضمانت ختم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وزارتِ دفاع کا نام بدل کر دوبارہ وزارتِ جنگ (Department of War) رکھا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے ڈیموکریٹ رہنماؤں پر بھی کڑی تنقید کی، خصوصاً ایلی نوائے کے گورنر جے بی پرٹزکر کو ہدف بناتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ بیمار ہیں۔ انہوں نے شکاگو اور بالٹیمور میں فوج بھیجنے کی دھمکی بھی دی۔

مزید پڑھیں: یوکرینی صدر کی 5 ماہ میں ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں دوسری ملاقات، اس بار کیا ہوا؟

تقریب کے دوران ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے ہیں اور دوبارہ ملاقات کے خواہاں ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی صوابدیدی اختیارات کو آئینی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے استعمال کر رہے ہیں، تاہم ٹرمپ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف امریکا کے مفاد میں فیصلے کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آمر امریکا صدر ڈونلڈ ٹرمپ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا صدر ڈونلڈ ٹرمپ ڈونلڈ ٹرمپ انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا