امریکی محکمہ دفاع کا نیا نام کیا ہوگا؟ ٹرمپ نے سب کو حیران کردیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی محکمہ دفاع (Department of Defense) کا نام تبدیل کرنے کا عندیہ دے دیا اور کہا ہے کہ اس کا پرانا نام "محکمہ جنگ" (Department of War) زیادہ مناسب لگتا تھا۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ "محکمہ دفاع سننے میں اچھا نہیں لگتا، آخر ہم کس چیز کا دفاع کررہے ہیں اور صرف دفاع ہی کیوں کر رہے ہیں؟"
انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں اس محکمے کا نام "محکمہ جنگ" تھا اور اسی دوران امریکا نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم سمیت کئی بڑی جنگیں جیتیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر عہدیداران چاہیں تو محکمہ دفاع کا نام بدل کر محکمہ جنگ رکھ سکتے ہیں اور اس پر ووٹنگ بھی ہوسکتی ہے۔ اس موقع پر ان کے ساتھ موجود امریکی سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی کہا کہ یہ تجویز معقول ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "میں صرف دفاع کرنا نہیں چاہتا، ہاں دفاع بھی ضروری ہے لیکن امریکا کو صرف دفاع تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔"
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محکمہ دفاع
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔