امریکی محکمہ دفاع کا نیا نام کیا ہوگا؟ ٹرمپ نے سب کو حیران کردیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی محکمہ دفاع (Department of Defense) کا نام تبدیل کرنے کا عندیہ دے دیا اور کہا ہے کہ اس کا پرانا نام "محکمہ جنگ" (Department of War) زیادہ مناسب لگتا تھا۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ "محکمہ دفاع سننے میں اچھا نہیں لگتا، آخر ہم کس چیز کا دفاع کررہے ہیں اور صرف دفاع ہی کیوں کر رہے ہیں؟"
انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں اس محکمے کا نام "محکمہ جنگ" تھا اور اسی دوران امریکا نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم سمیت کئی بڑی جنگیں جیتیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر عہدیداران چاہیں تو محکمہ دفاع کا نام بدل کر محکمہ جنگ رکھ سکتے ہیں اور اس پر ووٹنگ بھی ہوسکتی ہے۔ اس موقع پر ان کے ساتھ موجود امریکی سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی کہا کہ یہ تجویز معقول ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "میں صرف دفاع کرنا نہیں چاہتا، ہاں دفاع بھی ضروری ہے لیکن امریکا کو صرف دفاع تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔"
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محکمہ دفاع
پڑھیں:
صرف ایک لفظ ’بم‘ نے آسمان میں اڑتے طیارے کو واپس موڑ دیا، حیران کن حقیقت سامنے آگئی
نیویارک: امریکا سے اسپین جانے والی یونائیٹڈ ایئرلائنز کی ایک پرواز کو دورانِ سفر اس وقت واپس موڑ دیا گیا جب ایک بلوٹوتھ ڈیوائس کے مشکوک نام نے سیکیورٹی الرٹ پیدا کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یونائیٹڈ ایئرلائنز کی پرواز 236 ہفتے کے روز نیوآرک لبرٹی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اسپین کے شہر پالما ڈی مایورکا کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ بوئنگ 767 طیارے میں تقریباً 190 مسافر اور 12 عملے کے ارکان سوار تھے۔
پرواز کو روانہ ہوئے تقریباً تین گھنٹے گزر چکے تھے کہ اچانک سیکیورٹی خدشات کے باعث پائلٹ نے طیارے کا رخ واپس نیوآرک کی جانب موڑ دیا۔ اطلاعات کے مطابق پرواز کے دوران مسافروں کو اپنے بلوٹوتھ آلات بند کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، تاہم ایک ڈیوائس مسلسل سسٹم میں Bomb کے نام سے ظاہر ہو رہی تھی۔
عملے کی جانب سے متعدد اعلانات کے باوجود متعلقہ ڈیوائس کی شناخت نہ ہونے پر سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے، جس کے بعد ایئرلائن اور پائلٹ نے احتیاطی تدابیر کے تحت طیارے کو واپس لے جانے کا فیصلہ کیا۔
طیارے کی بحفاظت لینڈنگ کے بعد تمام مسافروں کو اتار لیا گیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جہاز کی مکمل تلاشی لی۔ امریکی ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن (TSA)، کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (CBP) اور دیگر اداروں نے بھی اضافی جانچ پڑتال کی۔
بعد ازاں تحقیقات میں معلوم ہوا کہ مشکوک ڈیوائس دراصل ایک 16 سالہ مسافر کی فٹ بِٹ (Fitbit) اسمارٹ ڈیوائس تھی، جس کا نام Bomb رکھا گیا تھا۔ اسی نام کی وجہ سے سیکیورٹی نظام میں غلط فہمی پیدا ہوئی اور پرواز کو واپس موڑنا پڑا۔
یونائیٹڈ ایئرلائنز نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر طیارے کو واپس لایا گیا تھا۔ تمام جانچ مکمل ہونے کے بعد مسافروں کو متبادل پرواز کے ذریعے اسپین روانہ کیا گیا، جو اگلے روز اپنی منزل پر پہنچ گئی۔
رپورٹس کے مطابق امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارہ (FBI) بھی واقعے کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم اب تک کسی شخص کے خلاف فوجداری مقدمہ یا الزام عائد نہیں کیا گیا۔