کینیڈا میں ایک شوہر نے اپنی بیوی کی شادی کی انگوٹھیاں ڈھونڈنے کے لیے کوڑے کے ڈھیر میں دن گزار دیا اور کامیاب بھی ہو گیا۔

اسٹیو وین یسیلڈائک (Steve Van Ysseldyk) اور ان کی اہلیہ جینین نے 26 برس کی شادی کے بعد ایسا لمحہ دیکھا جس نے ان کے رشتے کو اور مضبوط کر دیا۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دونوں نے سنیما سے پاپ کارن کا پیکٹ گھر لایا۔ باغ میں پاپ کارن گرتے وقت جینین کی انگوٹھیاں بھی اسی بیگ میں جا گریں، جو بعد میں کمپوسٹ بِن میں پھینک دیا گیا۔ اگلے دن کچرا اکھٹا کر کے لینڈفل پہنچا دیا گیا۔

انگوٹھیاں گمشدہ ہونے کا احساس ہوتے ہی اسٹیو نے گھر کے سی سی ٹی وی سے وقت کا پتا لگایا اور پھر 18 ٹن نامیاتی کچرے کے ڈھیر میں تلاش کے لیے مشن سینیٹری لینڈفل (برٹش کولمبیا) پہنچ گئے۔

دستانے لیے اسٹیو بارش میں بھیگتے ہوئے گھاس اور کھانے کے سڑے ڈھیر میں کھوج لگاتے رہے۔ لینڈفل کے ورکرز نے بھی ایکسکیویٹر کے ذریعے مدد فراہم کی۔

پہلے کچھ ہی وقت بعد انہیں اپنی فیملی کا پھینکا ہوا ساسیج نظر آیا، اور پھر جلد ہی انگوٹھی بھی مل گئی۔ ایک گھنٹے کے اندر دونوں انگوٹھیاں ڈھونڈ نکالی گئیں۔

بیوی جینین، جو اُس وقت میٹل ڈیٹیکٹر خریدنے گئی ہوئی تھیں، خوشی سے رو پڑیں۔ اسٹیو کا کہنا تھا کہ بیوی کی انگوٹھیاں لازمی ڈھونڈنی تھیں۔ آپ امید کے ساتھ جاتے ہیں اور جو کرسکتے ہیں وہ کرتے ہیں۔

جینین نے ہنستے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ان کے رشتے کو اور مضبوط کر گیا ہے، اب مجھے یقین ہے کہ وہ مجھ سے کتنا پیار کرتے ہیں، کیونکہ انہوں نے میرے لیے سڑا ہوا کچرا تک کھنگال ڈالا۔

Post Views: 8.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت