جنوبی کوریا میں امریکی فوجی اڈوں کی زمین امریکی ملکیت ہونی چاہیے، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا چاہتا ہے کہ جنوبی کوریا میں اپنے فوجی اڈوں کی زمین کا مالک ہو، بجائے اس کے کہ وہ اسے سیول سے کرایے پر لے۔
صدر ٹرمپ نے پیر کو وائٹ ہاؤس میں جنوبی کوریا کے نئے صدر لی جے-میونگ کے ہمراہ گفتگو میں کہا کہ امریکا نے کوریا میں بنیادی ڈھانچے پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے اور وہاں 40 ہزار سے زائد فوجی تعینات ہیں، مگر یہ اڈے اب بھی کرایے کی زمین پر قائم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شاید میں ان سے درخواست کروں کہ ہمیں اس بڑی فوجی تنصیب کی زمین کی ملکیت دے دیں۔ میں دیکھنا چاہوں گا کہ کیا ہم کرایے کا سلسلہ ختم کرکے زمین کے مالک بن سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکی دباؤ میں کوریا ایئر کا بوئنگ کے 103 طیاروں کا بیش قیمت معاہدہ
انہوں نے واضح نہیں کیا کہ کون سا فوجی اڈا مراد ہے۔ سب سے بڑا امریکی اڈا، کیمپ ہَمفریز، 2018 میں مکمل ہوا، جس میں دونوں حکومتوں نے اربوں ڈالر لگائے۔
امریکا کے بیرون ملک فوجی اڈے طویل المدتی کرایہ اور فورسز کی حیثیت کے معاہدوں کے تحت چلائے جاتے ہیں، جس سے واشنگٹن کو آپریشنل کنٹرول حاصل ہوتا ہے، جبکہ میزبان ملک کی خود مختاری برقرار رہتی ہے۔
موجودہ اندازوں کے مطابق جنوبی کوریا میں قریباً 28,500 امریکی فوجی تعینات ہیں، جو جاپان اور جرمنی کے بعد سب سے بڑی امریکی بیرون ملک فورس ہے۔
مزید پڑھیں: یوکرائن کیخلاف روس کا ساتھ دینے والے شمالی کوریائی فوجیوں کے لیے اعزازات
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی پہلی مدت میں سیول امریکی فوج کے اخراجات کے لیے بڑی رقم فراہم کرتا رہا، مگر صدر جو بائیڈن نے یہ معاہدہ ختم کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اربوں ڈالر مل رہے تھے، مگر پھر بائیڈن نے اسے بند کر دیا، یہ ناقابل یقین ہے۔
ٹرمپ کے بیانات اس طویل المدتی موقف کی عکاسی کرتے ہیں کہ امریکی اتحادیوں کو امریکا کی حفاظت کے لیے زیادہ تعاون کرنا چاہیے، چاہے وہ براہِ راست مالی امداد، دفاعی بجٹ میں اضافہ یا اقتصادی روابط کے ذریعے ہو۔
اب تک جنوبی کوریا کی حکومت نے صدر ٹرمپ کے بیانات پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ دوسری جانب شمالی کوریا طویل عرصے سے امریکی فوجی موجودگی کو قبضے کے طور پر تنقید کا نشانہ بناتا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی فوجی اڈے جنوبی کوریا صدر لی جے میونگ وائٹ ہاؤس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی فوجی اڈے جنوبی کوریا صدر لی جے میونگ وائٹ ہاؤس جنوبی کوریا امریکی فوجی کوریا میں کی زمین کے لیے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر امریکی حکام کو پابندیوں سے بچنے میں معاونت کا شبہ ہے۔
بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان افراد اور اداروں کے ساتھ کاروبار یا مالی لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے، کمپنیاں اور افراد بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے لیے ان نامزد اداروں سے تعلقات برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ حتمی منصوبے پر فوری ردعمل دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں بھیجا گیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز پر ایران میں مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے اور متعلقہ حکام اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے تہران کسی بھی ممکنہ معاہدے میں صرف وعدوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایسے ٹھوس اور حقیقی فوائد کا خواہاں ہے جو ایرانی عوام اور ملکی معیشت کے لیے عملی نتائج فراہم کر سکیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نئی امریکی پابندیاں اور جاری سفارتی مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے امکانات پر بھی عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔