کوریا ایئر اور امریکی فضائی کمپنی بوئنگ نے پیر کو ایک تاریخی معاہدے کا اعلان کیا جس کے تحت 103 طیارے خریدے جائیں گے جن کی مالیت قریباً 36 ارب ڈالر (24 ارب پاونڈ) ہے۔ اس میں بوئنگ 787، 777 اور 737 طیارے شامل ہیں۔

یہ معاہدہ ایسے موقع پر ہوا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے تجارتی شراکت داروں پر امریکی کمپنیوں کے ساتھ زیادہ کاروبار کرنے کا دباؤ ڈال رہے ہیں۔

کوریا ایئر کے سی ای او، والٹر چو کے مطابق یہ معاہدہ کوریا ایئر کے بیڑے کو جدید بنانے کے لیے اہم ہے، خاص طور پر جب یہ ایئرلائن اسایانا ایئرلائنز کے ساتھ انضمام کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے واشنگٹن میں صدر ٹرمپ سے 15 فیصد ٹیکسز کے مسئلے پر ملاقات کی۔

مزید پڑھیں: یوکرائن کیخلاف روس کا ساتھ دینے والے شمالی کوریائی فوجیوں کے لیے اعزازات

معاہدے کی تقریب میں دونوں ممالک کے حکومتی اہلکار اور کاروباری شخصیات موجود تھیں، جن میں امریکی وزیر تجارت ہوارڈ لوٹ نک اور جنوبی کوریا کے وزیر تجارت کم جونگ-کوان شامل تھے۔ سام سنگ، ہنڈائی موٹر گروپ اور نیویڈا کے اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

بات چیت کے دوران دیگر تجارتی معاہدے بھی سامنے آئے، جن میں سام سنگ کی شپ بلڈنگ شاخ اور امریکی کمپنی ویگور میرین گروپ کے درمیان امریکی بحریہ کی دیکھ بھال کے لیے تعاون شامل ہے۔ اس سے قبل، جنوبی کوریا نے واشنگٹن کے ساتھ اپنے تجارتی معاہدے کے تحت امریکی شپ بلڈنگ صنعت کی مدد کے لیے 150 ارب ڈالر کی یقین دہانی کرائی تھی۔

ہنڈائی نے بھی امریکا میں اپنے سرمایہ کاری منصوبے کو 21 ارب ڈالر سے بڑھا کر 26 ارب ڈالر کرنے کا اعلان کیا اور نئی فیکٹری قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جہاں سالانہ 30,000 روبوٹس تیار کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کی امن کی پیشکش ایک بار پھر مسترد کر دی

بوئنگ-کوریا ایئر معاہدے کے تحت، ایئرلائن 50 بوئنگ 737-10 طیارے، 45 طویل فاصلے کے مسافر طیارے اور 8 777-8 فریٹر کارگو طیارے خریدے گی۔ بوئنگ کے مطابق یہ معاہدہ امریکا میں قریباً 135,000 روزگار کے مواقع فراہم کرے گا۔ اس تازہ خریداری کے بعد، کوریا ایئر نے اس سال بوئنگ طیاروں کے لیے 150 سے زائد آرڈرز اور وعدے کیے ہیں۔

یہ معاہدہ عالمی سطح پر امریکی تجارتی شراکت داروں کی بڑی بوئنگ خریداری کی رجحان کا حصہ ہے۔ جولائی میں، جاپان نے 100 طیارے خریدنے کا وعدہ کیا تھا، جبکہ انڈونیشیا کی گارڈا ایئر لائن نے 50 طیارے خریدے تاکہ امریکی ٹیکسز میں کمی ہو سکے۔ یہ معاہدے بوئنگ کو یورپی حریف ایئر بس کے مقابلے میں مارکیٹ شیئر بحال کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔

اگرچہ بوئنگ نے گزشتہ چند برس میں کئی بحرانوں کا سامنا کیا، جن میں 2 مہلک حادثات، درمیانی پرواز کے دوران تکنیکی نقص اور 2024 میں کارکنوں کی 8 ہفتے کی ہڑتال شامل ہیں، کمپنی نے کوریا ایئر کے اس معاہدے کو “تاریخی” قرار دیا ہے اور اسے امریکی فضائی صنعت اور دوطرفہ تجارتی تعلقات مضبوط کرنے کی اہم پیشرفت قرار دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی فضائی کمپنی بوئنگ تاریخی معاہدہ کوریا کوریا ایئر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی فضائی کمپنی تاریخی معاہدہ کوریا کوریا ایئر جنوبی کوریا کوریا ایئر یہ معاہدہ ارب ڈالر کے لیے

پڑھیں:

امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.

U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.

Command centers.

Drone storage.

Communication networks.

Coastal surveillance.

Maritime capabilities.

AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6

— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔

???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT

The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.

CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE

— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ

متعلقہ مضامین

  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل