امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے امریکا کو مقناطیس فراہم نہ کیے تو 200 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔

واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ “چین کو مقناطیس دینا ہوں گے، ورنہ ہمیں 200 فیصد ٹیرف یا اسی نوعیت کے دیگر اقدامات کرنے ہوں گے۔ ہمارے پاس یہ اختیار موجود ہے اور اگر ہم ایسا کر لیں تو چین کے ساتھ کوئی کاروبار باقی نہیں رہے گا۔”

صدر ٹرمپ کے مطابق امریکا اور چین دونوں کے پاس طاقت ہے، لیکن امریکا کے پاس ایسے متبادل آپشنز ہیں جن سے بیجنگ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

یہ بیان امریکا اور چین کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ چین نایاب ارضی عناصر (Rare Earth Elements) پر عالمی منڈی میں سب سے زیادہ کنٹرول رکھتا ہے اور اسی برتری کو اس نے حالیہ پالیسیوں میں بطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔

چند ماہ قبل چین نے متعدد نایاب ارضی دھاتوں اور مقناطیسوں کو برآمدی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ یہ اقدام امریکا کی جانب سے ٹیرف میں اضافے کے ردعمل کے طور پر اٹھایا گیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان یہ تنازع بڑھتا ہے تو عالمی صنعت، خاص طور پر الیکٹرانکس اور ڈیفنس ٹیکنالوجی، شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

Post Views: 6.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی

ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ