50% ٹرمپ ٹیرف نافذ سے ہونے سے پہلے ہی بھارتی کاروباری طبقہ بدترین بحران سے دوچار
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف کل بروز بدھ سے نافذ ہوجائےگا۔ درآمدات پر اس ٹیکس کے نفاذ نے بھارت کی برآمدی صنعتوں کو شدید بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔ خاص طور پر تیرُوپور (تمل ناڈو) کے گارمنٹس ہب، سورت (گجرات) کی ہیرے کی صنعت، اور آندھرا پردیش کے جھینگا (Shrimp) فارمز بدترین صورتحال سے دوچار ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ پیوٹن مذاکرات ناکام ہوئے تو بھارت پر مزید ٹیرف لگائیں گے، امریکا کی مودی سرکار کو وارننگ
برطانوی خبر رساں ادارے ’بی بی سی‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق تیرُوپور میں، جو بھارت کی تیار شدہ ملبوسات کی برآمدات کا تقریباً ایک تہائی فراہم کرتا ہے، کئی فیکٹریوں میں مشینیں بند پڑی ہیں۔ ن کرشنامورتی، جو 200 مشینوں کے مالک ہیں، کہتے ہیں:
’ستمبر سے شاید ہمارے پاس کچھ بھی کرنے کو نہ بچا۔ تمام بڑے امریکی کلائنٹس نے آرڈرز روک دیے ہیں۔ میں نے 250 نئے مزدور رکھے تھے، مگر اب انہیں کام پر نہیں لا پا رہا۔‘
یہ بھی پڑھیں بھارت پر 50 فیصد ٹیرف: پاکستانی ایکسپورٹ مارکیٹ کیلئے فائدہ اُٹھانا فوری طور پر ممکن نہیں، معاشی ماہرین
اس کے اثرات فوری نظر آئے ہیں:
ایک فیکٹری میں تقریباً 10 لاکھ ڈالر کا انڈر ویئر اسٹاک امریکی خریدار نہ ملنے کے باعث فیکٹری ہی میں پڑا ہوا ہے۔
ٹی شرٹ جو پہلے 10 ڈالر میں امریکی مارکیٹ میں بکتی تھی، اب ٹیرف کے بعد 16.
پہلے مہینے میں 2000 ہیرے تراشے جاتے تھے، اب صرف 300 رہ گئے ہیں۔
ایک یونٹ میں 300 کارکن کام کرتے تھے، اب صرف 70 بچے ہیں۔
مزدوروں کو زبردستی چھٹی، کم اجرت اور نوکریوں کے خاتمے کا سامنا ہے۔
عالمی مانگ میں کمی اور لیب میں بنے ہیرے (Lab-grown diamonds) کی بڑھتی سپلائی نے پہلے ہی مشکلات بڑھا رکھی تھیں، اب ٹیرف نے ’ڈبل جھٹکا‘ دے دیا ہے۔
جھینگا (Shrimp) فارمزامریکا بھارت کا سب سے بڑا خریدار تھا، مگر نئے ٹیکس کے بعد قیمتیں 60 سے 72 سینٹ فی کلو کم ہو گئی ہیں۔
فارمز نے پیداوار میں کمی کر دی ہے۔ ایک ہچری (hatchery) نے بتایا کہ پہلے سالانہ 100 ملین لاروا بنتے تھے، اب صرف 60–70 ملین۔
اندازہ ہے کہ اس بحران سے 5 لاکھ کسان براہ راست اور 25 لاکھ افراد بالواسطہ متاثر ہوں گے۔
ٹرمپ ٹیرف کے بھارت میں وسیع تر اثراتامریکا بھارت پر روسی تیل اور ہتھیار خریدنے پر بھی 25% اضافی جرمانہ لگا رہا ہے۔
تجارتی ماہرین کہتے ہیں کہ یہ عملی طور پر تجارتی پابندی ہی کی ایک شکل ہے۔
نئی دہلی میں طے شدہ تجارتی مذاکرات منسوخ ہو گئے ہیں، اور امریکا نے بھارت پر بیجنگ سے قربت اور روس کے لیے “laundromat” ہونے کا الزام لگایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں بھارت میں مذہبی میلے کے دوران ٹرمپ کا پتلا اٹھاکر اضافی ٹیرف کیخلاف انوکھا احتجاج ریکارڈ
بھارت صنعت کیسے اس اچانک بحران کا مقابلہ کرسکتی ہے؟ ماہرین کے مطابق بھارت کو اب لازمی طور پر خود انحصاری (Self-Reliance) پر زور دینا ہوگا، برآمدی منڈیوں میں تنوع (Diversification) پیدا کرنا ہوگا، اور یورپ، برطانیہ، آسٹریلیا جیسے متبادل شراکت داروں سے فوری معاہدے کرنا ہوں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت پر
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔