بھارت کی آبی جارحیت، دریائے ستلج میں پانی چھوڑنے سے درمیانے درجے کا سیلاب، ضلعی انتظامیہ ہائی الرٹ
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
اوکاڑہ:
بھارت کی جانب سے اچانک دریائے ستلج میں پانی چھوڑنے کے بعد اوکاڑہ کے مقام پر ہیڈ سلیمانکی پر درمیانے درجے کا سیلاب پیدا ہو گیا ہے، جس کے باعث نشیبی علاقوں کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
فلڈ کاسٹنگ ذرائع کے مطابق دریائے ستلج میں پانی کی آمد 1 لاکھ 4 ہزار 664 کیوسک جبکہ اخراج 98 ہزار 353 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پانی کا بہاؤ اسی طرح جاری رہا تو سیلاب اونچے درجے میں داخل ہو سکتا ہے۔
ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، ریونیو، سول ڈیفنس اور دیگر ادارے ہنگامی بنیادوں پر الرٹ کر دیے گئے ہیں۔ فلڈ وارننگ جاری کرتے ہوئے دریائے ستلج سے ملحقہ دیہات سے فوری انخلاء کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے تمام اداروں کو ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ بھارتی آبی جارحیت کی قیمت عام پاکستانی شہریوں کو ادا نہ کرنی پڑے، اس لیے عوام کی جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جا رہا ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے ممکنہ انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کے خدشے کے پیش نظر متاثرہ علاقوں میں نقل مکانی کے لیے خصوصی اقدامات کیے ہیں، جب کہ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو کر ریسکیو اداروں سے مکمل تعاون کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دریائے ستلج
پڑھیں:
جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد صوبائی محکمہ صحت کی تشویش میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملتان کے ’نشتر اسپتال‘ میں اب تک منکی پاکس کے 4 مریضوں کی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسپتال اور گردونواح میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
آئسولیشن وارڈ میں مریضوں کی تعداد اور آبائی علاقےنشتر اسپتال انتظامیہ کے مطابق حال ہی میں ایک اور مشتبہ مریض کو وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر خصوصی آئسولیشن وارڈ میں داخل کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ میں منکی پاکس کے کیسز میں اضافہ، 9 اموات کی تصدیق
اس نئے کیس کے بعد وارڈ میں زیرِ علاج اور کڑی نگرانی میں رکھے گئے مریضوں کی مجموعی تعداد 5 ہو گئی ہے۔ اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ جن مریضوں میں ’منکی پاکس‘ کی تصدیق ہوئی ہے ان کا تعلق جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع بالخصوص ملتان، مظفرگڑھ اور وہاڑی سے ہے۔
اسپتال انتظامیہ کے اقدامات اور ٹیسٹنگاسپتال کے وبائی امراض کے ماہرین اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ منکی پاکس کے تصدیق شدہ مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ان کی جلد صحت یابی ممکن ہو سکے۔
دوسری جانب، نئے آنے والے مشتبہ مریض کے خون اور زخموں کے نمونے (سیمپلز) حتمی جانچ اور تصدیق کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، جن کی رپورٹ اگلے چند روز میں موصول ہونے کا امکان ہے۔
محکمہ صحت کی نگرانی اور احتیاطی تدابیر کی اپیلمحکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے عوام الناس کو وبائی مرض سے بچنے کے لیے فوری طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔
مزید پڑھیں:کراچی میں منکی پاکس: بیوی کے بعد شوہر بھی لپیٹ میں آگیا
ترجمان محکمہ صحت کے مطابق خطے میں صورتحال کی مسلسل اور سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور اس موذی بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضلعی سطح پر تمام ضروری اور حفاظتی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احتیاطی تدابیر اسپتال اقدامات ٹیسٹنگ جنوبی پنجاب خون زخموں لیبارٹری محکمہ صحت منکی پاکس نگرانی۔ نمونے