Express News:
2026-06-03@08:42:49 GMT

سپنچ پارکس

اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے کا نام نہ لیا‘ بارش یورپ میں معمول ہے‘ شاید ہی یورپ کا کوئی ایسا ملک ہو گا جس میں ہفتے میں دو تین دن بارش نہ ہو‘ لوگ روزانہ گھروں سے برساتیاں اور چھتریاں لے کر نکلتے ہیں‘ گھروں‘ دفتروں اور گاڑیوں میں بھی بارش سے بچاؤ کے بندوبست ہوتے ہیں‘ یہ لوگ عمارتیں بھی بارش‘ برف اور دھند کو ذہن میں رکھ کر بناتے ہیں لہٰذا بارش ان کا معمول ہے لیکن دو جولائی 2011 کی بارش نارمل نہیں تھی‘ زی لینڈ اور گریٹر کوپن ہیگن میں بجلیاں کڑکنا شروع ہوئیں اور انھوں نے زمین ہلا کر رکھ دی۔

 اگلے دن معلوم ہوا ایک رات میں پانچ ہزار بجلیاں کڑکی تھیں‘ یہ معاملہ اگر بجلیوں تک محدود رہتا تو بھی شاید پریشانی نہ ہوتی لیکن بجلی کے ساتھ ہی آسمان سے آب شار کی طرح پانی بھی گرنا شروع ہو گیا‘ لوگوں کویوں محسوس ہوتا تھا جیسے آسمان پر کوئی دریا بہہ رہا تھا اور اچانک اس کے کنارے ٹوٹ گئے ہوں اور پھر وہ عمارتوں کے اوپر گرنے لگا ہو‘ یہ سلسلہ 24 گھنٹے جاری رہا‘ اس دوران سڑکیں اور گلیاں پانی سے بھر گئیں‘ ٹرانسپورٹ کا نظام دم توڑ گیا‘ ائیرپورٹ بند ہو گئے‘ ٹرینیں رک گئیں‘ اسکول‘ کالج‘ شاپنگ سینٹرز اور فیکٹریاںتباہ ہو گئیں‘ شہر کا سب سے بڑا اسپتال بھی اپنے 550 بیڈز کے ساتھ پانی میں ڈوب گیا‘سترہویں صدی کا مشہور قلعہ (Kastellet) جسے 300سال کے تھپیڑے تباہ نہیں کر سکے وہ بھی اس بارش کے سامنے نہ ٹھہر سکا۔

 کوپن ہیگن کا پولیس اور ریسکیو کا نظام بھی جواب دے گیا اور پھر بجلی بھی بند ہو گئی چناںچہ وہ دن کوپن ہیگن کی تاریخ کے لیے قیامت کادن تھا‘ اگلے دن پانی اترا تو پتا چلا شہر میں بارش کا 52 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے‘ 24 گھنٹے میں 135 ملی میٹر بارش ہوئی ‘ اس سے قبل 1959میں 117 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی تھی‘ شہر کا ڈرینج سسٹم اس کو ذہن میں رکھ کر بنایا گیا تھا‘ یہ بھی پتا چلا ڈنمارک میں پہلی مرتبہ ’’کلاؤڈ برسٹ‘‘ ہوئے ہیں‘ یہ ایک نیا چیلنج تھا‘ بہرحال اگلے دن شہر میں کیچڑ ہی کیچڑ تھا جس سے چھ بلین کرون (ایک ارب چار کروڑ ڈالر) کا نقصان ہوا‘کارپوریشن کے 257 ورکرز نے دن رات ایک کرکے صفائی مکمل کی تویہ لوگ بیمار ہو گئے ہیں‘ ان کو سانس اور جلد کی بیماریاں ہو گئی ہیں۔

 بہرحال قصہ مختصر طوفان آیا اور چلا گیا لیکن وہ اپنے پیچھے یہ سوال چھوڑ گیا اگر یہ طوفان دوسری مرتبہ آ گیا یا مسلسل آتا رہا تو پھر شہر کا کیا بنے گا؟ ماہرین نے تخمینہ لگایا شہر کی نکاسی کا سسٹم صرف سو ملی میٹر تک بارش برداشت کر سکتا ہے اور اگر مستقبل میں کوئی ایسا طوفان آ گیا یا یہ نیونارمل ہوگیا توپھر شہر نہیں بچ سکے گا لہٰذا فیصلہ ہوا ہم نے فوری طور پر اڑھائی سو ملی میٹر بارش جذب اور برداشت کرنے کا نظام بنانا ہے‘ حکومت نے اس کے لیے دو بلین یورو کا بجٹ مختص کر دیا‘ ڈینش ماہرین اکٹھے کیے گئے تھے۔

 انھوں نے سروے کیا اور تین درجوں پر مبنی سسٹم بنا دیا‘ سسٹم کے پہلے حصے کا نام سپنچ پارکس (Sponge) تھا‘ ماہرین نے فوری طور پر پورے شہر میں درختوں کے نئے ذخائر لگا دیے‘ جہاں جہاں زمین موجود تھی وہاں درختوں کا ذخیرہ لگ گیا‘ شہر کے تمام حصوں میں چھوٹے چھوٹے تالاب بھی بنا دیے گئے‘ یہ اسپورٹس کمپلیکس اور کھیل کے میدانوں کو زمین سے دس پندرہ فٹ نیچے لے گئے‘ یہ میدان بارش میں پانی کے تالاب بن جاتے ہیں اور آدھی سے زیادہ بارش کو اسٹور کر لیتے ہیں‘ شہر کے مختلف حصوں میں بور کرکے ان کے اوپر ریت اور بجری کی تہہ جما دی گئی۔

 یہ بور بارش کے پانی کو فلٹر کر کے زمین کی تہہ میں لے جاتے ہیں‘گلیوں کے ساتھ ساتھ جالی دار نالیاں بنا دی گئیں اور یہ نالیاں بھی پانی جذب کر کے زمین کے اندر اتار دیتی ہیں‘ یہ سارا سسٹم سپنچ کہلاتا ہے‘ اس کے بعد حکومت نے شہر کے مختلف حصوں کے نیچے واٹر ٹنلز بنا دیں‘ یہ ٹنلز تین میٹر چوڑی اور اٹھارہ کلومیٹر لمبی ہیں‘ ان میں ہر آدھ کلومیٹر بعد ایک بڑا واٹر ٹینک آ جاتا ہے‘ ٹنل کا پانی سب سے پہلے ٹینک میں جاتا ہے‘ وہ بھرنے کے بعد پانی آگے چل پڑتا ہے پھر دوسرا ٹینک بھرتا ہے اور پھر اس کے بعد تیسرا اور یوں ٹینک بھرتے چلے جاتے ہیں اور سیلاب آگے بڑھتا جاتا ہے‘ یہ ٹنلز اور ٹینک دس ہزار کیوبک میٹر پانی اسٹور کر سکتے ہیں جب کہ سسٹم کا تیسرا حصہ سمندر ہے‘ حکومت ٹنلز کا اضافی پانی سمندر کے ایک قریبی جزیرے میں لے جاتی ہے وہاں بھی واٹر ٹینک بنے ہوئے ہیں‘ پانی پہلے ان ٹینکس میں جاتا ہے اور پھر سمندر میں گرتا ہے۔

 اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے حکومت کو اتنا تردد کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ یہ پانی سیدھا سمندر میں ڈال دیتی‘ یہ نارمل حالات میں ممکن ہے لیکن بعض اوقات سمندر کی لہریں اور سطح شہر سے بلند ہو جاتی ہے‘ ان حالات میں شہر کا پانی سمندر میں نہیں پھینکا جا سکتا چناں چہ حکومت نے پانی پہلے جزیرے تک پہنچایا اور پھر اسے سمندر میں پھینکاتاکہ یہ شہر میں واپس نہ آ سکے۔

یہ سارا سسٹم یقینا مہنگا ہے‘ اس پر دو بلین یوروز خرچ ہوئے ہیں‘ ہم کہہ سکتے ہیں ڈنمارک امیر یورپی ملک ہے‘ اس کی آبادی بھی صرف 60 لاکھ ہے جب کہ ہم ایک غریب ملک ہیں اور ہماری آبادی بھی 25 کروڑ ہے‘ کراچی شہر کی آبادی ڈنمارک سے تین گنا زیادہ ہے لیکن اس فرق کے باوجود دونوں ملکوں میں ایک چیز کامن ہے اور وہ ہے انسان‘ ڈنمارک میں بھی ہم جیسے انسان بستے ہیں‘ ان کا دماغ بھی کل جسم کا دو فیصد ہے اور ان کو بھی قدرت نے دو ہاتھ‘ دو پاؤں‘ دو آنکھیں‘ دو کان اور دو نتھنے دے رکھے ہیں اور یہ لوگ قدرت کی دی صلاحیتوں سے کلاؤڈ برسٹ کا مستقل حل نکا لیتے ہیں جب کہ ہم ہر سال ایک ہی قسم کی آفت کا شکار ہوتے ہیں اور ہم نے ابھی پچھلا ملبہ اٹھایا نہیں ہوتا کہ اگلی مون سون شروع ہو جاتی ہے۔

 دوسرا آپ کسی دن کراچی شہر کا آڈٹ کرا لیں پتا چلے گا ہم اب تک نالوں اور سیوریج پر کوپن ہیگن سے زیادہ خرچ کر چکے ہیں لیکن اس کے باوجود سڑکوں سے پانی ختم نہیں ہو سکا اور تیسری چیز یہ سپنچ پارکس جیسے حل ہیں جو قوموں کو قومیں اور ملکوں کو ڈنمارک بناتے ہیں اور جو لوگ مسائل کو ٹالنے اور مال بنانے کی خو میں مبتلا ہوں وہ کبھی تیسری دنیا سے باہر نہیں نکل پاتے‘ میں پچھلے دنوں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو سن رہا تھا‘ ان کا کہنا تھا ہمیں نئے سیوریج سسٹم کے لیے پورا شہر کھودنا پڑے گا‘ اب سوال یہ ہے ڈنمارک نے کلاؤڈ برسٹ کے بعد پورا شہر کیوں نہیں کھودا تھا‘ انھوں نے کیسے آسانی سے عام پارکوں‘ گرین بیلٹس اور پانی کی نالیوں کو سپنچ میں تبدیل کر لیا؟ انھوں نے واٹر ٹنلز بھی وہاں بنائے جہاں انھیں شہر کو کھودنا نہیں پڑا‘ یہ خالی جگہوں کو ٹنلز اور ٹینک میں تبدیل کرتے چلے گئے اور یوں کام بھی ہو گیا اور شہری بھی کوفت سے بچ گئے‘ ہم ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟ اس سے زمین میں پانی کی سطح بھی بلند ہو جائے گی۔

 فضائی آلودگی بھی کم ہو جائے گی اور پانی کے ذخائر بھی اکٹھے ہو جائیں گے‘ کارپوریشن اس پانی کو شجر کاری‘ سڑکیں دھونے اور کاشت کے لیے استعمال کر سکتی ہے‘ ہم اسی طرح اسلام آباد کے اردگرد خشک نہر کھود سکتے ہیں‘ یہ نہر سرکل میں ہو‘ اس کے ساتھ ساتھ رنگ روڈ ہو اور اس رنگ روڈ پر کمرشل ایریاز ہوں‘ مون سون میں یہ نہر بھر جائے گی‘ اس سے واٹرلیول بھی بلند ہو جائے گا‘ کاشت کاری بھی ہو سکے گی اور فضائی آلودگی بھی کم ہو جائے گی‘ پرانے زمانے میں ہر شہر اور ہر گاؤں میں پانی کے جوہڑ ہوتے تھے‘ وہ بارش کا سارا پانی جذب کر لیتے تھے‘ ڈھور ڈنگر انھی سے اپنی پیاس بجھاتے تھے۔

 وہ کہاں چلے گئے؟ دوسرا شہر اور ہاؤسنگ اسکیمیں بناتے وقت پانی کے اخراج کی گرینڈ اسکیم کیوں نہیں بنائی جاتی‘ میں بچپن سے نالہ لئی سن رہا ہوں‘ ہر حکومت نے اسے بڑا کرنے اور تجاوزات ہٹانے کا اعلان کیا لیکن نالہ لئی ہر بار دس پندرہ لوگوں کی جان اور دو چار درجن گھر لے کر گیا‘ ہم ایک ہی بار یہ مسئلہ حل کیوں نہیں کر لیتے؟ کلاؤڈ برسٹ اب ہمارے لیے نیونارمل ہے‘ یہ ہر سال ہوں گے‘ ہمارے گلیشیئرز بھی پھٹیں گے اور بارشیں اور سیلاب بھی بڑھیں گے اور ہمارے ملک میں ہر سال خشک سالی بھی آئے گی لیکن ہم آنکھیں کھولنے کے لیے تیار نہیں ہیں‘ ہم ہر سال ریسکیو اور بحالی میں دو چار سو ارب روپے جھونک دیتے ہیں لیکن مسئلہ حل نہیں کررہے۔

 کیوں نہیں کررہے؟ کیا صلاحیت کی کمی ہے؟ وژن نہیں ہے یا پھر ہم میں مسائل کے ادراک کی کیپسٹی نہیں ہے؟ہم بہت ہی دل چسپ لوگ ہیں ہم ایک طرف ایٹم بم بنانے پر آ جائیں تو پوری دنیا کی مخالفت کے باوجود ایٹمی طاقت بن جاتے ہیں اور دوسری طرف ہم نارمل دنوں میں کراچی کے عوام کے لیے پانی کا بندوبست نہیں کر پاتے اور بارشوں میں ہمارا پورا شہر ڈوب جاتا ہے‘ ہم اسلام آباد جیسے چھوٹے سے شہر کے لیے بھی پانی اور نکاسی آب کا سسٹم نہیں بنا پاتے‘ کیا بلندی ہے اور کیا پستی ہے۔

میری وزیراعظم سے درخواست ہے آپ مہربانی کر کے آبی ماہرین کو اکٹھا کریں‘ ملک میں سیکڑوں ماہرین موجود ہیں‘ ڈنمارک کی حکومت سے ان کا رابطہ کرائیں‘ انھیں کوپن ہیگن بھجوائیں‘ یہ اس سسٹم کا معائنہ کر کے آئیں‘ آپ انھیں جاپان اور چین بھی بھجوائیں‘ چین نے چھ سو شہروں کو فلڈ فری بنا لیا ہے جب کہ جاپان اب سونامی کا بھی مقابلہ کر رہا ہے‘ آپ پھر انھیں کراچی‘ لاہور‘ حیدرآباد‘ فیصل آباد‘ سیالکوٹ اور راولپنڈی کے نکاسی آب کی ذمے داری دے دیں‘ مجھے یقین ہے ہم دو تین برسوں میں اپنا پاکستانی سسٹم بنا لیں گے‘ اس سے ہم بھی بچ جائیں گے اور ہمارا سرمایہ بھی ورنہ دوسری صورت میں ہم پیاسے مر جائیںگے یا پھر پانی میں ڈوب کر فوت ہو جائیں گے اور دشمن کو ہمیں مارنے کے لیے کسی بم کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کلاؤڈ برسٹ کیوں نہیں حکومت نے ملی میٹر انھوں نے جاتے ہیں اور پھر کے ساتھ شروع ہو نہیں کر جائے گی پانی کے ہیں اور جاتا ہے ہو جائے گے اور ہے اور کے لیے کے بعد شہر کا ہر سال اور ہم شہر کے

پڑھیں:

  مٹی کا طوفان ، تیز بارش,2خواتین سمیت5 افراد جاں بحق

ویب ڈیسک :سندھ کے مختلف اضلاع میں مٹی کے طوفان اور تیز بارشوں کے نتیجے میں 2خواتین سمیت5 افراد جاں بحق اور  150سے زائد زخمی ہوگئے۔
نوابشاہ میں مٹی کے طوفان اور تیز بارش سے تباہی مچ گئی اور 2خواتین سمیت 5 افراد جاں بحق جبکہ 70 سے زائد افراد زخمی ہو گئے، ایم ایس یا محمد جمالی کے مطابق پیپلز میڈیکل اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی جبکہ ڈاکٹروں اور اضافی عملے کو طلب کر لیا گیا ہے،جاں بحق افراد میں عمیر عباسی، افضل پلی اورچنیسر مھر سمیت دو خواتین بھی شامل ہیں۔سائن بورڈز، سولر پینلز، ٹرانسفارمرز، بجلی کی تاریں اور درخت گرنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
خیرپور ناتھن شاہ میں بھی طوفان کے باعث درجن سے زائد افراد زخمی ہوگئے،شاہ  رحمت اللہ کالونی میں دیوار گرنے سے خاتون سمیت دو بچے شدید زخمی ہوگئے جنہیں تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، نواحی گاؤں دودو لغاری میں بھی دیوار گرنے سے خدابخش لغاری شدید زخمی ہوگئے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 لاڑکانہ میں گزشتہ رات طوفانی بارش کے باعث بجلی کی 132 کے وی مین سپلائی کے ٹاور گرنے سے بجلی کی سپلائی معطل ہوگئی،132 کے وی ٹرانسمیشن کی سپلائی معطل ہونے سے لاڑکانہ ضلع کی بھی بجلی بندہوگئی،سیپکوانتظامیہ کے مطابق بجلی ٹاورز کی مرمت کا کام جاری ہے اورجلد از جلد بجلی فراہم کردی جائیگی۔

دادوشہر اور مضافاتی علاقوں میں بھی طوفانی ہواؤں سے بڑے پیمانے پر حادثات کے باعث مزید ایک سو سے زائد افراد زخمی ہوگئے جنہیں ڈی ایچ کیو اسپتال دادو منتقل کردیاگیاجہاں انہیں طبی امداد دی جارہی ہے۔ڈاکٹر عتیق الرحمان کے مطابق سٹی بلاک میں 60 سے زائد زخمی لائے گئے ہیں جبکہ  ڈاکٹر اکاش عباسی کے مطابق نیو ڈی ایچ کیو ہسپتال میں 50 سے زائد زخمی لائے گئے،جہاں تمام زخمیوں کو طبی امدادی دی جارہی ہے،متعدد زخمیوں کو ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے، جبکہ تین زخمیوں کو حالت تشویشناک ہونے پر سیہون ریفر کیا گیا ہے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

  

  
 

متعلقہ مضامین

  • واپڈا کے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے اعدادو شمار جاری
  •   مٹی کا طوفان ، تیز بارش,2خواتین سمیت5 افراد جاں بحق
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا