پنجاب میں صحافیوں کے تحفظ کا قانون کیوں ضروری ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT
20 دسمبر 2024 کو میانوالی کے علاقے واں بھچراں میں مویشی منڈی کی منتقلی پر احتجاج ہوا۔ پولیس کی جانب سے مظاہرین پر لاٹھی چارج اور شیلنگ کی گئی، جس کے بعد تھانہ واں بھچراں میں 131 نامزد اور تقریباً 300 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
دنیا نیوز سے وابستہ اور ڈسٹرکٹ پریس کلب میانوالی کے سابقہ سینئر وائس چیئرمین، صحافی حسن ناصر بھچر کو بھی اس ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا۔
حسن ناصر کہتے ہیں کہ ’صحافی کا کام عوام کے مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔ مجھے ایف آئی آر میں نامزد کر کے میرے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ یہ سراسر من گھڑت اقدام ہے، جس کا مقصد دباؤ ڈالنا ہے۔‘
اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے، ڈسٹرکٹ پریس کلب میانوالی کے صحافیوں نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سے ملاقات کی اور شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ پریس کلب کے چیئرمین اختر مجاز نے کہا کہ ’میانوالی کے تمام صحافی حسن ناصر کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم صحافتی آزادیوں کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتے رہیں گے۔‘
آزادی اظہار پر حملے: ایک خطرناک رجحانآئین پاکستان کا آرٹیکل 19 شہریوں کو آزادی اظہار کی ضمانت دیتا ہے، لیکن زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ صحافیوں کو دبانے کے لیے تشدد، ہراسانی، قانونی مقدمات، حتیٰ کہ غداری اور توہین مذہب جیسے الزامات تک کا سہارا لیا جاتا ہے۔
پاکستان پریس فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق صرف 2024 میں رپورٹ کیے گئے واقعات درج ذیل ہیں:
| واقعہ | تعداد |
| قتل | 2 |
| حملے | 76 |
| اغواء | 4 |
| املاک پر حملے | 12 |
| گرفتاریاں | 5 |
| حراست | 12 |
| کیسز درج | 15 |
| FIA کارروائیاں | 8 |
| آن لائن ہراسانی | 15 |
| دھمکیاں | 5 |
| سنسرشپ | 31 |
| ECL میں نام | 2 |
یہ تمام واقعات میڈیا پر ادارہ جاتی، جسمانی اور ڈیجیٹل حملوں کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔
پنجاب: کمیٹی تو بنی، قانون ابھی تک نہیںمئی 2023 میں پنجاب کی عبوری حکومت نے پنجاب جرنلسٹ پروٹیکشن کوآرڈینیشن کمیٹی قائم کی۔ اس کا مقصد پولیس اور صحافیوں کے درمیان رابطہ قائم کرنا تھا۔
کمیٹی کی قیادت ڈی آئی جی سیکیورٹی کرتے ہیں، اور اس میں لاہور پریس کلب، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، فریڈم نیٹ ورک اور وزارت اطلاعات کے نمائندگان شامل ہیں۔
کمیٹی کے اب تک صرف دو اجلاس ہوئے:
پہلا: اکتوبر 2023 دوسرا: اگست 2024 (10 ماہ بعد)پنجاب جرنلسٹ پروٹیکشن کوآرڈینیشن کمیٹی کا پہلا اجلاس سینٹرل پولیس آفس لاہور میں ہوا جس کی سربراہی آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کی۔ کمیٹی کے پہلے اجلاس میں آئی جی پنجاب کے علاوہ کمیٹی کنوینر، ڈی آئی جی سکیورٹی کامران عادل، پنجاب جرنل سیفٹی کوآئلیشن پنجاب چیپٹر کے ممبر اقبال خٹک، صدر پنجاب یونین آف جرنلسٹ شہزاد حسین بٹ، صدر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ افضال بٹ، منسٹری آف انفارمیشن اینڈ براڈ کاسٹنگ کے ممبر ارسلان طاہر کے علاوہ ڈائریکٹر نیوز ڈی جی پی آر قدرت اللہ شامل ہوئے۔
پہلے اجلاس میں آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور اور دیگر شرکا کو پنجاب جرنلسٹ پروٹیکشن کوآرڈینیشن کمیٹی کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا گیا۔ اس میٹنگ میں صحافیوں کے تحفظ، ہر قسم کے استحصال اور دھمکیوں سے بچاؤ کے حوالے سے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس کے دوران صحافیوں کی نمائندہ تنظیموں کے عہدیداروں نے کمیٹی کے مینڈیٹ، قواعد اور طریقہ کار کے بارے میں تجاویز پیش کیں۔آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے صحافیوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن تعاون کا اعادہ کیا۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جنرلسٹس کے صدر اور پنجاب جرنلسٹ پروٹیکشن کوآرڈینیشن کمیٹی کے ممبر افضل بٹ نے کمیٹی کے اغراض و مقاصد کے حوالے سے بتایا کہ کمیٹی کے ٹی ا و آر میں صحافیوں اور پولیس کے مابین مسائل اور صحافیوں کا تحفظ شامل ہے۔
تاہم یہ کمیٹی اس حوالے سے غیر موثر ہے کیونکہ صحافیوں کا زیادہ تر واسطہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی سے پڑتا ہے اور پنجاب پولیس سے تبھی واسطہ پڑتا ہے، جب صحافیوں پر پولیس کی جانب سے کوئی پرچہ درج ہو یا کوئی جھگڑا فساد ہو۔ چونکہ ایف آئی اے پنجاب حکومت کے ماتحت نہیں، اس لیے اس کمیٹی کا دائرہ کار بہت محدود اور غیر موثر ہے۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر منسٹری آف انفارمیشن پنجاب، روہا خان نے بتا یا کہ کمیٹی کے اجلاسوں کا باقاعدہ کوئی ٹائم فریم موجود نہیں ہے اور اس حوالے سے صورت حال کافی تشویش ناک ہے۔
19مئی 2023 کو کمیٹی کے نوٹیفائی ہونے کے بعد پہلا اجلاس اکتوبر 2023 میں ہوا۔ کمیٹی کا دوسرا اجلاس 10 ماہ کا عرصہ گزرنے کے بعد 20 اگست 2024کو ہوا۔
اس دوران صحافیوں کے خلاف تشدد کے درجنوں واقعات ہوئے اور 4 صحافیوں کا قتل بھی ہوا ، پھر بھی کمیٹی کا اجلاس اتنی تاخیر سے بلایا گیا۔ روہا خان کا کہنا تھا کہ دوسرے اجلاس میں حالیہ اجلاس میں یہ طے کیا گیا کہ رابطہ سازی کا عمل تیز کرنا انتہائی ضروری ہے اور اس مقصد کےلیے ماہانہ میٹنگ کا اعادہ کیا گیا۔
اس کے علاوہ اجلاس میں یہ طے کیا گیا کہ صحافتی تنظیوں کی جانب سے پیش گئی، مجوزہ تجاویز کی روشنی میں صحافیوں کی حفاظت کےلیے موثر اقدامات کیے جائیں گے اورتمام کیسز کا فالواپ بھی کیا جائے گا۔
پنجاب جرنلسٹ پروٹیکشن کوآرڈینیشن کمیٹی کے رکن اور فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال خٹک کا کہنا ہے کہ ’یقیناَ صوبہ پنجاب میں صحافیوں کا تحفظ محض کمیٹی کے قیام سے ممکن نہیں ہے۔ یہ کمیٹی پنجاب پولیس اور صحافیوں کے مابین صرف رابطے کا ایک ذریعہ ہے۔ اس کی موجودہ حیثیت اسے کسی صورت بھی صحافیوں کے خلاف تشدد اور ہراسانی کی روک تھام کےلیے کارگر نہیں بناتی۔
اگر سندھ اور مرکزی حکومت کی طرز پر صحافیوں کے تحفظ کےلیے قانون بن جاتا ہے تو کم از کم کسی بھی مسئلے کی صورت میں ازالے کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کمیٹی کی حالیہ میٹنگ میں فریڈم نیٹ ورک کی جانب سے مجوزہ قانون کے مسودے کی تیاری میں مدد کا وعدہ بھی کیا گیا۔‘
لاہور پریس کلب کے صدر اعظم چوہدری نے بتایا کہ ’میڈیا سے وابستہ افراد حکومت کی جانب سے اعلانیہ و غیر اعلانیہ سینسرشپ کا شکار ہوتے ہیں۔ ہتکِ عزت کے قانون کی منظوری ہو یا پیکا کا قانون، حکومت صحافیوں کو دباو میں رکھنا چاہتی ہے، جس کی وجہ سے صحافی ذہنی دباو اور ہراسانی کا شکار ہیں۔
اس سلسلے میں پنجاب میں قائم جرنلسٹ پروٹیکشن اینڈ کوآرڈینیشن کمیٹی صحافیوں کے تحفظ کےلیے عملی طور پر غیر فعال ہے۔ صوبہ سندھ اور فیڈرل لیول پر بنائے گئے قوانین بھی صحافیوں کی حفاظت یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔‘
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکرٹری جنرل ارشد انصاری کا کہنا ہے کہ ’وفاقی اور سندھ حکومت کی طرز پر صوبہ پنجاب میں صحافیوں کی حفاظت کے لیے قانون منظور کرنا وقت کی اہم ترجیح ہے۔ لیکن قانون بنانے سے زیادہ ضروری قانون کا موثر طریقے سے نفاذ ہے۔
وفاقی سطح پر اور صوبہ سندھ کی سطح پر قانون موجود ہونے کے باوجود حکومت اور ریاستی اداروں کی جانب سے صحافیوں کے خلاف واقعات میں قابل ذکر کمی نہیں آ رہی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ صرف قانون بنا دینا اہم نہیں ہے بلکہ قانون کا موثر نفاذ اتنا ہی ضروری عمل ہے۔‘
صحافیوں کی حفاظت کےلیے قائم پنجاب جرنلسٹ پروٹیکشن اینڈ کوآرڈینینشن کمیٹی سے متعلق ایک اہم پہلو کی طرف توجہ ضلع سرگودھا سے صحافی فضل ملک صاحب نے دلائی ہے جن کا کہنا ہے کہ ’یہ کمیٹی صرف صوبائی سطح پر قائم ہے۔ ضلع کی سطح پر اس کا کوئی وجود نہیں ہے۔ عموما صحافیوں کے مسائل ضلعی پولیس کے ساتھ ہوتے ہیں ۔
صوبائی سطح تک مسائل اجاگر کرنا چھوٹے شہروں کے صحافیوں کےلیے انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ چھوٹے شہروں میں صحافیوں کی بڑی اکثریت اس کمیٹی کے قیام سے بھی واقف نہیں ہے۔ ضلع سطح پر ڈسٹرکٹ پریس کلبز میں اس کمیٹی کے قیام، اغراض و مقاصد اور طریقہ کار کی آگاہی کےلیے سیمینار اور ورکشاپش کرانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ اس کمیٹی کو فعال کیا جا سکے۔‘
دیگر صوبوں کا ماڈل: سندھ کی مثالسندھ حکومت نے اگست 2021 میں سندھ پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ ادر میڈیا پریکٹیشنرز ایکٹ منظور کیا، جس کا مقصد صحافیوں کو ہراسانی، اغواء، حراست، اور تشدد سے تحفظ دینا ہے۔ قانون کے تحت ایک آزاد کمیشن قائم کیا گیا جو شکایات کی 14 دن میں تحقیقات کا پابند ہے۔
اگر صحافی قانونی کارروائی کے اخراجات برداشت نہ کر سکے تو کمیشن قانونی امداد فراہم کرتا ہے، اور دھمکی کو قانونی طور پر تشدد تصور کرتا ہے۔
وفاقی حکومت نے بھی 2021 میں اسی طرز کا قانون منظور کیا، مگر ابھی تک سیفٹی کمیشن قائم نہیں ہو سکا، جس سے یہ قانون غیر مؤثر ہو چکا ہے۔
پنجاب کی صوبائی حکومت نے ابھی تک وفاقی حکومت یا سندھ حکومت کی طرز پر صحافیوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی نہیں کی۔
قانون سازی کیوں ضروری ہے؟پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر افضل بٹ کا کہنا ہے کہ
’پنجاب جرنلسٹ کمیٹی ایف آئی اے کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی، اس لیے یہ غیر مؤثر ہے۔ اگر قانون سازی ہو جائے تو صحافیوں کو عدالتوں سے تحفظ مل سکتا ہے۔‘
PFUJ کے سیکریٹری جنرل ارشد انصاری نے زور دیا: ’قانون سازی کے ساتھ ساتھ اس کا مؤثر نفاذ بھی ناگزیر ہے۔ قانون بنانا کافی نہیں، اس پر عملدرآمد ہی اصل تحفظ ہے۔‘
ضلعی سطح پر کمیٹی کا فقدانسرگودھا سے صحافی فضل ملک کے مطابق: ’یہ کمیٹی صرف صوبائی سطح پر ہے۔ چھوٹے شہروں کے صحافیوں کو نہ اس کے وجود کا علم ہے، نہ وہ رابطہ کر سکتے ہیں۔ ہر ضلع میں آگاہی سیمینارز اور ورکشاپس کی اشد ضرورت ہے۔‘
نتیجہ: محض کمیٹی نہیں، مکمل قانون کی ضرورتپنجاب میں صحافیوں پر بڑھتے ہوئے حملے، ہراسانی، اور دباؤ کے پیش نظر محض ایک کمیٹی ناکافی ہے۔ سندھ کی طرح قانون سازی، کمیشن کا قیام، اور مؤثر عمل درآمد ناگزیر ہو چکے ہیں۔ جب تک ایک مکمل اور فعال قانونی ڈھانچہ نہیں بنتا، صحافیوں کی حفاظت اور آزادی اظہار محض ایک خواب ہی رہے گا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان فیڈرل یونین صحافیوں کے تحفظ کے پنجاب میں صحافیوں صحافیوں کی حفاظت کا کہنا ہے کہ میانوالی کے صحافیوں کا صحافیوں کو کی جانب سے اجلاس میں سے صحافی یہ کمیٹی حکومت کی پریس کلب حکومت نے کمیٹی کے اس کمیٹی حوالے سے کمیٹی کا کے ساتھ نہیں ہے کیا گیا کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔