3ہزار 750کھرب روپے کی آڈیٹر جنرل رپورٹ کا مستقبل غیر یقینی
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان کے سابق آڈیٹر جنرل جاوید جہانگیر نے حال ہی میں پیش کی جانے والی آڈٹ رپورٹ پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے جس میں وفاقی مالیات میں375ٹریلین روپے (3ہزار 750کھرب روپے) کی بے قاعدگیوں کا انکشاف کیا گیا ہے، یہ رقم ملک کے کل بجٹ سے27گنا زیادہ ہے۔ان اعداد و شمار کے بارے میں حالیہ دنوں میں اس اخبار نے روشنی ڈالی تھی جس سے بڑے پیمانے پر بے یقینی پھیل گئی تھی۔دی نیوز سے بات کرتے ہوئے، 2021ء میں اپنی مدت ملازمت مکمل کرنے والے جاوید جہانگیرنے کہا کہ یہ بھاری رقم ’’غیر معمولی لگتی ہے‘‘ اور اس پر محتاط انداز میں دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ان کے دور میں آڈٹ رپورٹس صرف قومی اسمبلی میں پیش کئے جانے کے بعد ہی عوام کے لئے جاری کی جاتی تھیں۔ انہوں نے مزید کہا’’مجھے نہیں معلوم کہ آڈٹ سال 2024-25 کی یہ رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش ہونے سے پہلے ہی (آڈیٹر جنرل کی ویب سائٹ پر) کیوں عام کی گئی ہے۔‘‘ان کے یہ تبصرے ان سرکاری ذرائع کے دعووں کے بعد سامنے آئے ہیں کہ پارلیمانی امور کی وزارت خود تذبذب کا شکار ہے کہ آیا اس دستاویز کو اس کی موجودہ شکل میں قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے یا تنازع کی روشنی میں اس کی دوبارہ جانچ اور تصدیق کی جائے۔یہ بحث’’دی نیوز‘ ‘میں اتوار کو شائع ہونے والی خبر کے بعد شروع ہوئی جس میں آڈیٹر جنرل کے دفتر کی جانب سے رپورٹ کی گئی بے قاعدگیوں کے غیر معمولی پیمانے کو اجاگر کیا گیا تھا۔ آڈٹ دستاویز میں3ہزار 750کھرب ارب روپے کی بے ضابطگیوں کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں خریداری میں 284.
انصار عباسی Post Views: 2
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ا ڈیٹر جنرل کھرب روپے میں پیش
پڑھیں:
واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔
لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔
دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔