برطانوی ولی عہد ولیم اور شہزادہ ہیری کے درمیان پہلے سے موجود دوری میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب ان کی مرحوم والدہ پرنسس ڈیانا سے جڑا ایک پوشیدہ خزانہ سامنے آگیا جس نے دونوں بھائیوں کے درمیان ممکنہ تصادم کا خدشہ بڑھا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اپنی شادی پر بادشاہ چارلس اور لیڈی ڈیانا کے چپکے چپکے آنسو بہانے کا عقدہ کھل گیا

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز پرنسس ڈیانا کی جانب سے سنہ 1991 میں دفن کیے گئے ایک ٹائم کیپسول کو 30 سال بعد کھولا گیا۔ یہ لکڑی کا ڈبہ، جس پر سیسہ چڑھا ہوا تھا، لندن کے گریٹ اورمنڈ اسٹریٹ اسپتال کی نئی عمارت ’ورائٹی کلب بلڈنگ‘ کے سنگ بنیاد کی یاد میں دفن کیا گیا تھا۔

یہ ٹائم کیپسول 2 بچوں نے منتخب اشیا کے ساتھ تیار کیا تھا جو ’بلو پیٹر‘ نامی پروگرام کے ایک مقابلے کے فاتح تھے۔ اگرچہ یہ کیپسول سینکڑوں سال بعد کھولنے کے لیے دفن کیا گیا تھا لیکن اب اسے وقت سے پہلے ہی نکال کر عوام کے سامنے پیش کر دیا گیا ہے۔

کیپسول میں کیا تھا؟

کیپسول میں شامل اشیا نے سنہ 1990 کی دہائی کی جھلک پیش کی تھی جن میں ایک چھوٹا جیبی ٹی وی، پرنسس ڈیانا کی تصویر، کائلی مینوگ کے البم’ردھم آف لو‘ کی سی ڈی، برطانوی سکوں کا ایک سیٹ، اخباری تراشا، 5 درختوں کے بیج اور ایک کنٹینر شامل تھے۔

علاوہ ازیں کیپسول میں موجود اشیا میں ایک ‘سنو فلیک ہولوگرام’ بھی شامل تھا جو برف کے ذرے کی تھری ڈی شکل میں چمکدار عکس تھا۔ یہ روشنی کے زاویے بدلنے پر مختلف انداز سے نظر آتا ہے اور سنہ 1990 کی دہائی کے سائنسی و جمالیاتی ذوق کی عکاسی کرتا ہے۔

بھائیوں کے درمیان اختلافات میں اضافہ

یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری کے درمیان تعلقات مزید بگڑنے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

مزید پڑھیے: کیا شاہ چارلس کے چھوٹے بیٹے ہیری اپنا شاہی کردار دوبارہ حاصل کرلیں گے؟

رپورٹس کے مطابق شہزادہ ہیری اپنی والدہ پر ایک نئی ڈاکیومینٹری بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں جس پر ان کے بڑے بھائی اور سلطنت کے ولی عہد ولیم برہم ہیں۔

یاد رہے کہ دونوں بھائیوں نے سنہ 2017 میں پرنسس ڈیانا کی وفات کی 20 ویں برسی کے موقعے پر ایک ڈاکیومینٹری بنائی تھی۔ خبر رساں ادارے ڈیلی بیسٹ کے مطابق ولیم اس بات پر آمادہ ہیں کہ اگر ہیری نے ڈیانا کی زندگی یا چارلس اور ڈیانا کی شادی کے خاتمے پر اندرونی کہانی پر مبنی کوئی نیا دعویٰ کیا تو وہ اس کا جواب دیں گے۔

پرنسس ڈیانا کا یہ یادگار کیپسول ان کی شخصیت اور زمانے کی جھلک تو پیش کرتا ہے لیکن ساتھ ہی ان کے بیٹوں کے درمیان خاندانی ورثے پر قبضے کی جنگ کو بھی ہوا دیتا دکھائی دے رہا ہے۔

ٹائم کیسپول اور بھائیوں کے تنازعے کا تعلق

اگرچہ ٹائم کیپسول کی دریافت بذات خود کسی تنازعے کا باعث نہیں تھی مگر اس نے پرنسس ڈیانا کی یاد کو ایک بار پھر زندہ کر دیا۔ ایک ایسی یاد جو نہ صرف عوام کے دلوں میں بسی ہے بلکہ ان کے بیٹوں کے درمیان بھی ایک نادیدہ رشتہ ہے۔ اس منظرنامے میں جب شہزادہ ہیری کی جانب سے اپنی والدہ پر ایک نئی ڈاکیومینٹری بنانے کی خبریں سامنے آئیں تو شہزادہ ولیم کو یہ اندیشہ لاحق ہوا کہ ان کی والدہ کی وراثت کو شاید ذاتی مفاد یا جذباتی شہرت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یوں ایک دفن یادگار کی بازیابی نے برسوں پرانی خاندانی کشمکش کو نیا موڑ دے دیا ہے۔

مزید پڑھیں: بیلجیئم کی شہزادی کی جانب سے پرنس ہیری کی حمایت، کنگ چارلس سے صلح کی کوششوں پر تبصرہ

مذکورہ ٹائم کیسپول دراصل سینکڑوں سال بعد کھولنے کے لیے محفوظ کیا گیا تھا لیکن حالیہ دنوں میں اسپتال کی نئی عمارت اور بچوں کے کینسر سینٹر کی تعمیر کے لیے جاری ترقیاتی کام کے دوران جب زمین کی کھدائی کی گئی تو یہ کیپسول اتفاقاً منظرِ عام پر آگیا۔

کیپسول کی بازیابی میں اسپتال کے وہ افراد بھی شامل تھے جو یا تو سنہ 1991 میں وہاں کام کرتے تھے یا اسی برس پیدا ہوئے تھے۔ اس نایاب یادگار کو نہایت احترام سے کھولا گیا اور اس کے اندر موجود اشیا جو 1990 کی دہائی کی جھلک پیش کرتی ہیں کو عوام کے سامنے پیش کر دیا گیا۔ یوں پرنسس ڈیانا کا ایک خاموش پیغام وقت سے پہلے ہی دنیا تک پہنچ گئی۔

وقت کا سفیر: ٹائم کیپسول کیا ہے؟

ٹائم کیپسول ایک خاص قسم کا بند ڈبہ ہوتا ہے جس میں کسی دور کی یادگار اشیا، تصاویر، اخباری تراشے یا پیغامات رکھ کر زمین میں دفن کیا جاتا ہے تاکہ مستقبل میں کھولنے پر اس دور کی جھلک مل سکے۔ یہ عام طور پر کسی اہم موقع یا شخصیت کی یاد میں دفن کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حقیقی زندگی میں طلسماتی کہانی جیسا سماں باندھتی مشہور شاہی شادیاں

پرنسس ڈیانا نے سنہ 1991 میں بچوں کے منتخب کردہ تحائف اور علامات کے ساتھ ایک ٹائم کیپسول دفن کیا تھا جسے دراصل سینکڑوں سال بعد کھولا جانا تھا لیکن اب یہ 30 سال بعد ہی منظرِ عام پر آ گیا۔ یہ نہ صرف اس دور کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ ڈیانا کی مستقبل سے جڑے انسانی رابطے کی علامت بھی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ٹائم کیپسول لیڈی ڈیانا لیڈی ڈیانا کا پوشیدہ خزانہ لیڈی ڈیانا کا ٹائم کیپسول.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: لیڈی ڈیانا پرنسس ڈیانا کی شہزادہ ہیری لیڈی ڈیانا کے درمیان ڈیانا کا کی جھلک دفن کیا سال بعد پیش کر کے لیے کی یاد

پڑھیں:

‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) ‏علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

(جاری ہے)

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • شیخ رشید نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع کرا دی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟