گوگل پاکستان نے اپنے سرچ انجن میں اے آئی موڈ متعارف کرادیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
گوگل نے پاکستان میں اپنے سرچ انجن میں اے آئی موڈ متعارف کرا دیا ہے۔
گوگل نے حال ہی میں پاکستانی صارفین کے لیے انگریزی زبان میں اے آئی موڈ متعارف کرا دیا ہے جس کے ذریعے اس کا سب سے طاقتور اے آئی سرچ اے آئی کی طاقت سے چلنے والا سرچ انجن اب مقامی صارفین کو بھی دستیاب ہو گیا ہے۔
یہ اے آئی موڈ پیچیدہ سوالات کے تیز تر، زیادہ ہوشیاری سے اور جامع جوابات فراہم کرتا ہے۔ اس اے آئی موڈ کو اس سال کے اوائل میں اورسب سے پہلے امریکا میں متعارف کرایا گیا تھا اور اب دنیا بھر میں پھیل رہا ہے، اور اُن افراد میں مقبول ہو رہا ہے جو اس کی رفتار، معیار اور تازہ ترین جوابات کو سراہتے ہیں۔
Gemini 2.
ابتدائی ٹیسٹرز نے ثابت کیا ہے کہ اس موڈ میں کیے گئے سوالات روایتی سرچ کے مقابلے میں پہلے ہی 2 سے 3 گنا زیادہ طویل ہوتے ہیں اور اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ خاص طور پر تحقیقی کاموں جیسا کہ پروڈکٹس کا موازنہ کرنے، سفر کی منصوبہ بندی کرنے یا پیچیدہ جوابات دینے کے لیے بے حد مددگار ہے۔
یہ ایک ہی وقت میں کئی سوالات کے تفصیلی جوابات دیتا ہے اور مزید تحقیق کے لیے کارآمد لنکس بھی فراہم کرتا ہے۔
پس پردہ اے آئی موڈ ایک مخصوص تکنیک استعمال کرتا ہے جو صارف کے سوال کو ذیلی موضوعات میں تقسیم کر کے آپ کی جانب سے متعدد سرچز جاری کرتا ہے۔ اس طریقے سے سرچ پہلے سے کہیں زیادہ گہرائی میں ویب کو کھنگالتا ہے اور آپ کو شاندار اور انتہائی متعلقہ مواد تلاش کرنے میں مدد دیتا ہے۔
ملٹی موڈل کے طور پر ڈیزائن کیا گیا اے آئی موڈ لوگوں کو متن ، آواز ، یا تصاویر کے ذریعہ کسی بھی طرح سے مشغول ہونے دیتا ہے۔ صارفین کو ویب پر موجود مواد دریافت کرنے میں مدد دینا کمپنی کے مشن کا مرکزی حصہ ہے۔
اے آئی موڈ کے ذریعے صارفین اپنی تلاش کو تمام باریکیوں کے ساتھ بالکل اسی طرح بیان کر سکتے ہیں جیسا وہ چاہتے ہیں، اور مختلف فارمیٹس میں درست ویب مواد تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہ نہ صرف تلاش کے دائرے کو وسیع کرتا ہے بلکہ مواد کی دریافت کے نئے مواقع بھی پیدا کرتا ہے۔
یہ موڈ اب پاکستان میں انگریزی زبان میں گوگل ایپ (اینڈرائیڈ اور iOS) پر، اور موبائل و ڈیسک ٹاپ ویب دونوں پر دستیاب ہے۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان اے ا ئی موڈ کرتا ہے دیتا ہے
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔