راوی میں ممکنہ سیلاب، کمشنر لاہور کا رات گئے ہنگامی دورہ، تمام ادارے ہائی الرٹ
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
لاہور:
دریائے راوی میں ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر کمشنر لاہور محمد آصف بلال لودھی کی زیر نگرانی ضلعی انتظامیہ اور تمام متعلقہ ادارے ہنگامی بنیادوں پر متحرک ہیں۔
رات گئے کمشنر لاہور نے راوی کنارے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور کیمپس کا جائزہ لیا۔ میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اس وقت راوی میں پانی کا بہاو ایک لاکھ تین ہزار کیوسک ہے جبکہ صبح 9 سے 10 بجے کے دوران ایک لاکھ ساٹھ ہزار کیوسک تک پہنچنے کا امکان ہے۔ تاہم، صورتحال تاحال کنٹرول میں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دریائے راوی کی گنجائش 2 لاکھ 50 ہزار کیوسک ہے، اس لحاظ سے فی الحال خطرے کی کوئی فوری صورتحال نہیں۔
کمشنر لاہور کا کہنا تھا کہ راوی بیڈ سے مکمل انخلاء مکمل ہوچکا ہے، جبکہ قریبی علاقوں سے انخلاء کا عمل تیزی سے جاری ہے، اب تک 500 سے زائد خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
کمشنر لاہور کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات پر تمام ادارے ہائی الرٹ پر ہیں اور فیلڈ میں موجود ہیں۔ میڈیکل، لائیوسٹاک، اور ریسکیو کیمپس مکمل فعال ہیں۔ انتظامیہ، پولیس اور ریسکیو ٹیمیں ممکنہ متاثرہ علاقوں میں مسلسل گشت کر رہی ہیں۔
آصف بلال لودھی نے مزید کہا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے، تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ تمام محکمے راونڈ دی کلاک پوری توانائی سے کام کر رہے ہیں۔
شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ انتظامیہ سے تعاون کریں، افواہوں پر دھیان نہ دیں اور کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں 1122 پر فوری اطلاع دیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کمشنر لاہور
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔