پنجاب کے تین دریاؤں میں سیلابی صورتحال، این ڈی ایم اے اور حکومت مکمل الرٹ پر ہیں، عطاء اللہ تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے ملک میں حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال کے حوالے سے اہم پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کے تین بڑے دریاؤں میں سیلابی کیفیت پیدا ہو چکی ہے اور حکومت تمام وسائل بروئے کار لا کر حالات پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔
وزیر اطلاعات کے مطابق دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا، دریائے چناب میں مرالہ اور مرالہ سے ہیڈ خانکی کی جانب پانی کا بہاؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ خانکی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 10 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ قادر آباد کی طرف بھی صورتحال بگڑنے کے امکانات ہیں۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ **این ڈی ایم اے اور پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA)** مکمل طور پر رابطے میں ہیں اور مقامی حکام و ضلعی انتظامیہ کو ممکنہ انخلاء کے لیے پیشگی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ این ڈی ایم اے کی جانب سے خیمے اور دیگر امدادی اشیاء متاثرہ علاقوں میں روانہ کر دی گئی ہیں۔
وفاقی وزیر کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب کی صورتحال پر اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں پیشگی اطلاع کے نظام کو مزید مؤثر بنانے اور ریلیف سرگرمیوں کو تیز کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ دریائے راوی میں جسڑ اور شاہدرہ کے مقامات پر صورتحال نسبتاً بہتر ہے، تاہم تمام دریاؤں کی صورتحال کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام حفاظتی اقدامات جاری ہیں اور پاک فوج سمیت تمام ادارے اس **نیشنل ریسپانس** کا حصہ بن کر بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔
وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پیشگی اطلاع کا نظام اس بار نہایت مؤثر ثابت ہوا ہے، جس کی بدولت بروقت انخلاء ممکن ہوا اور جانی نقصان میں کمی آئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں موسم کی صورت حال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے اور وزیراعظم اس تمام عمل کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ لگانے اور متاثرین کی بحالی کے لیے حکومت جلد اقدامات کرے گی تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عطاء اللہ تارڑ وزیر اطلاعات کہا کہ
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔