سیلابی صورتحال: بڑی تنصیبات کے تحفظ کے لئے بند توڑے جا رہے ہیں، عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
لاہور (نیوز ڈیسک) وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ بڑی تنصیبات کو محفوظ بنانے کے لئے بند توڑے جا رہے ہیں اور امید ہے کہ ڈھائی لاکھ کیوسک پانی راوی اور شاہدرہ سے گزر جائے گا۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حفاظتی بندوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، متاثرہ علاقوں کے مکینوں کو پہلے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے اور مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہیڈ قادر آباد کی گنجائش 9 لاکھ کیوسک ہے جبکہ ساڑھے 9 لاکھ کیوسک کا ریلا گزرنے کے بعد وہاں پانی کی سطح میں کمی شروع ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریلیف کیمپس میں رہنا آسان نہیں لیکن انسانی جانوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
عظمیٰ بخاری نے عوام کو تنبیہ کی کہ بند پر کھڑے ہو کر سیلاب دیکھنے یا بچوں کو پانی میں نہلانے جیسے خطرناک اقدامات سے گریز کیا جائے اور انتظامیہ سے تعاون کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرآباد شہر میں حالات معمول کے مطابق ہیں اور مرکزی شاہراہ سے پانی اتر چکا ہے۔
مزید کہا کہ فلور ملز سیلاب کو بہانہ بنا کر قیمتیں بڑھا رہی ہیں، لیکن وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر روٹی اور آٹے کی قیمت پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔ صوبائی وزیر نے یقین دہانی کرائی کہ سیلاب کے باوجود پنجاب میں گندم کی پیداوار وافر مقدار میں ہوگی۔
Post Views: 7.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.