سیلاب متاثرین کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے، تمام نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
لاہور (نیوز ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ صوبے میں آنے والے سیلاب سے ہونے والے تمام نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا اور متاثرین کو مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔
شاہدرہ کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اس وقت پنجاب کے تین بڑے دریاؤں میں پانی کا شدید دباؤ ہے، نارووال مکمل طور پر زیرآب ہے جبکہ سیالکوٹ میں بھی صورتحال تشویشناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنرز اور انتظامیہ نے دن رات محنت کر کے لوگوں کا بروقت انخلا کیا، اگر پہلے سے تیاری نہ ہوتی تو نقصان کئی گنا زیادہ ہوتا۔ پنجاب حکومت نے اب تک 50 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے، مال مویشیوں کو بھی بچا کر محفوظ مقام پر پہنچایا گیا ہے۔
مریم نواز کے مطابق گجرات میں بھی بری صورتحال پیدا ہوئی مگر انتظامی کوتاہی کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے عوام کو ہدایت کی کہ پانی سے دور رہیں اور والدین اپنے بچوں کو سیلابی علاقوں میں نہ جانے دیں۔
وزیراعلیٰ نے سول ڈیفنس، ریسکیو اداروں اور ڈپٹی کمشنرز کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر نقصان کا ازالہ یقینی بنایا جائے گا۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جائے گا
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔