وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ مریم نواز کا پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے جمعرات کو پنجاب کے سیلاب متاثرہ اضلاع کا فضائی اور زمینی دورہ کیا۔
اس موقع پر انہیں دریائے راوی، چناب اور ستلج میں طغیانی کے باعث ہونے والی تباہ کاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:راوی، چناب اور ستلج میں تباہ کن سیلاب، 22 افراد جاں بحق، لاکھوں متاثر، کئی بستیاں غرقاب
روانگی سے قبل چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے وزیراعظم کو ملک بھر کی سیلابی صورتحال اور جاری ریسکیو و ریلیف سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔
فضائی معائنے کے دوران وزیراعظم کو خاص طور پر نارووال اور گوجرانوالہ ڈویژن میں شدید متاثرہ علاقوں کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مزید جانی و مالی نقصان روکنے اور ریلیف آپریشن تیز کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات فوری طور پر کیے جائیں۔
پنجاب میں جانی نقصان اور تباہ کاریاںسرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف گوجرانوالہ ڈویژن میں کم از کم 15 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، جن میں سیالکوٹ کے 5، گجرات کے 4، نارووال کے 3، حافظ آباد کے 2 اور گوجرانوالہ کے 1 شہری شامل ہیں۔ مزید 3 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
حکام کے مطابق:
پنجاب بھر میں 6 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ 1 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ افراد اور 35 ہزار مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ 769 دیہات زیرِ آب آ گئے جبکہ لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی تباہ ہو چکی ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور (UNOCHA) کے مطابق اس سال مون سون سے ہونے والی اموات گزشتہ سال کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہیں۔
کرتارپور گردوارہ بھی زیرِ آبنارووال میں سیلابی ریلوں نے تاریخی گردوارہ دربار صاحب کرتارپور کے احاطے کو بھی ڈبو دیا۔
تاہم ایمرجنسی ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے وہاں پھنسے 150 سے زائد سکھ یاتریوں اور عملے کو بحفاظت نکال لیا۔ اس آپریشن کی نگرانی وفاقی وزیر احسن اقبال اور صوبائی وزیر رامیش سنگھ اروڑہ نے کی۔
نارووال-شکرگڑھ روڈ کئی کلومیٹر تک کٹ جانے سے قریبی دیہات کا زمینی رابطہ بھی منقطع ہوگیا ہے۔
مختلف اضلاع میں بڑے پیمانے پر نقل مکانیسیلابی پانی شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، اوکاڑہ، فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ اور ساہیوال کے متعدد علاقوں میں پھیل گیا ہے۔
ننکانہ صاحب کے دیہات ہیر، نواں کوٹ اور خضرا آباد زیر آب ہیں، اوکاڑہ کے قصبے جندران کلاں (آبادی 30 ہزار سے زائد) کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ فیصل آباد میں 100 سے زائد بستیوں کو خطرہ لاحق ہے۔
پنجاب حکومت نے متاثرہ اضلاع میں 263 ریلیف کیمپ اور 161 میڈیکل کیمپ قائم کر دیے ہیں۔
بے گھر خاندانوں کو خوراک، ادویات اور عارضی پناہ گاہیں فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ ایمرجنسی ٹیمیں مسلسل الرٹ ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔