گوگل میپس کی غلطی: فیملی وین دریا میں بہہ گئی، 3 ہلاک ایک بچہ لاپتا
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
بھارت میں راجستھان کے علاقے چتوڑ گڑھ میں گوگل میپس کی غلط رہنمائی کے باعث ایک فیملی وین بند پل پر پہنچ گئی اور طاقتور بہاؤ میں بہہ گئی، جس کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک اور ایک بچہ لاپتا ہو گیا۔
حادثہ منگل کو پیش آیا جب خاندان بھِلواڑہ سے مذہبی زیارت کے بعد واپس آ رہا تھا اور بند پل پار کرنے کی کوشش کی۔ وین کے ڈرائیور نے گوگل میپس کی ہدایت پر سوامی اوپردہ پل پر گاڑی لے گئی، جو کئی مہینوں سے بند تھا۔ جیسے ہی وین پل پر داخل ہوئی، وہ پھنس گئی اور دریائے باناس کے تیز بہاؤ میں بہہ گئی۔
مزید پڑھیں: حسن ابدال: جھاری کس نالے میں گاڑی بہہ گئی، 10 میں سے 5 افراد ریسکیو 5 لاپتا
پولیس کے مطابق، 4 افراد نے وین کی چھت پر چڑھ کر اپنی جان بچائی، جبکہ 5 افراد کو ریسکیو کیا گیا۔ 2 خواتین اور ایک بچہ لقمہ اجل بن گئے۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت چندا (21) اور اس کی بیٹی رُتوی (6)، مامتا (25) اور اس کی بیٹی خوشی (4) کے نام سے ہوئی۔ لاپتا بچے کی تلاش جاری ہے۔
چیتور گڑھ ایس پی منیش تریپتھی کے مطابق، ریسکیو ٹیم کو وین میں موجود افراد نے موبائل ٹارچ سے اشارے دیے، اور پولیس و مقامی افراد کی مدد سے 5 افراد کو محفوظ نکالا گیا۔
مزید پڑھیں: حسن ابدال: جھاری کس نالے میں گاڑی بہہ گئی، 10 میں سے 5 افراد ریسکیو 5 لاپتا
اسی روز جالور ضلع میں بھی ایک اور حادثہ پیش آیا جہاں سُکدی دریا میں 6 نوجوان بہہ گئے۔ 3 کی لاشیں برآمد ہو چکی ہیں اور باقی کی تلاش جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت چتوڑ گڑھ راجستھان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت راجستھان بہہ گئی
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔