غازیانِ وطن کو سلام، سپاہی مقبول حسین کی 7ویں برسی آج منائی جا رہی
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
آج وطن کے عظیم سپوت، سپاہی مقبول حسین کی ساتویں برسی عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے۔
سپاہی مقبول حسین کی داستانِ وفا اور قربانی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی گئی ہے، جو نسلوں کے لیے مثال ہے۔
آزاد کشمیر کے علاقے تراڑ کھل سے تعلق رکھنے والے مقبول حسین 4 آزاد کشمیر رجمنٹ کا حصہ تھے اور 1965 کی جنگ میں انہوں نے غیر معمولی جرات اور دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔
بیس اگست 1965 کو جنگ کے دوران شدید زخمی حالت میں وہ بھارتی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہوگئے۔ قید کے دوران دشمن نے ان پر بدترین جسمانی اور ذہنی تشدد کیا، مگر سپاہی مقبول حسین نے اپنی وفاداری اور حب الوطنی میں ایک لمحے کے لیے بھی لغزش نہ دکھائی۔
سپاہی مقبول حسین کی زبان پر ہمیشہ ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کا نعرہ رہا، جس کی پاداش میں دشمن نے ان کی زبان تک کاٹ دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔