ایوان صدر میں وزیر اعظم کی صدر مملکت سے ملاقات ؛ آزاد کشمیر حکومت سازی پر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک : وزیراعظم شہبازشریف نے صدر آصف زرداری سے ملاقات کی جس میں سیاسی امور اور پاک افغان کشیدگی پر تفصیلی بات چیت کی گئی اور آزاد کشمیر میں حکومت سازی پر بھی گفتگو کی
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف اور صدر آصف علی زرداری کی ملاقات ایوان صدر میں ہوئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں بلاول بھٹوزرداری، وزیرداخلہ محسن نقوی، راجہ پرویز اشرف، طارق فضل چوہدری، فاروق ایچ نائیک اور شیری رحمان بھی شریک ہوئیں۔اس کے علاوہ وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنااللہ ، وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ نے بھی شرکت کی جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار وڈیولنک پر ملاقات میں شریک ہوئے۔
سرکاری ملازمین کتنے ماہ کی تنخواہ ایڈوانس لے سکتے ہیں؟ وضاحت آگئی
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہبازشریف نے صدرمملکت کو دورہ سعودی عرب کے حوالے سے اعتماد میں لیا،ملاقات میں آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں نئے وزیراعظم آزاد کشمیرکے نام اور حکومت سازی پر بھی بات چیت کی گئی۔ ملاقات میں وزیراعظم نے حکومتی اور سیاسی معاملات پر صدر کو بریفنگ دی۔ ملاقات میں پاک افغان کشیدگی پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ملاقات میں
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔