غذر: وفاقی وزیر امیر مقام کو سیلابی صورتحال پر بریفنگ
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
غذر(نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران، انجینئر امیر مقام کو غذر میں حالیہ سیلابی صورتحال اور جاری ہنگامی امدادی و بحالی کاموں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
ڈی جی گلگت بلتستان ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ نے وفاقی وزیر کو غذر کے مختلف علاقوں میں آنے والے حالیہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات، متاثرہ آبادی، بند سڑکوں اور امدادی سامان اور جھیل کے اسپل ویز کے بارے میں تفصیلی جائزہ پیش کیا۔
وفاقی وزیر نے این ایچ اے اور متعلقہ محکموں کو ہنگامی بنیادوں پر سڑکوں کے کنکشن بحال کرنے کی ہدایت کی۔
انجینئر امیر مقام نے تباہی کی شدت پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور مقامی انتظامیہ اور عوام کو یقین دلایا کہ وفاقی حکومت فوری امداد اور طویل مدتی بحالی کے لیے مکمل تعاون فراہم کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی واضح ہدایت ہے کہ متاثرہ افراد تک پہنچنے اور علاقے میں معمولات زندگی بحال کرنے کے لیے کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔
وفاقی وزیر نے بریفنگ کے دوران کہا۔”وفاقی حکومت اس مشکل وقت میں غذر گلگت بلتستان کے عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے،”
اس موقع پر وفاقی سیکرٹری امور کشمیر گلگت بلتستان و سیفران ظفر حسن، سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن، صوبائی وزیر خوراک خوراک غلام محمد, ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نواز ناجی اور ہوم سیکرٹری جی بی بھی موجود تھے۔
واضح رہے کہ وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایات پر گلگت بلتستان کے تین روزہ دورے پر ہیں۔
پہلے، آمد پر کمشنر گلگت، اور ڈی سی غزر نے وفاقی وزیر کا استقبال کی-.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان وفاقی وزیر
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :