سیلاب متاثرین کی بحالی اولین ترجیح،وزیراعظم جلد گلگت بلتستان کا دورہ کریں گے، امیر مقام
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
گلگت (نیوز ڈیسک) وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان اور سیفران انجینئر امیر مقام کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔ اس موقع پر کابینہ اراکین سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے ہمیشہ گلگت بلتستان کے مسائل کو ذاتی سمجھا ہے اور آئندہ بھی ایسے ہی سمجھے گی۔
امیر مقام نے کہا کہ پنجاب میں اچانک بدترین سیلاب کے باعث وزیراعظم کا دورہ ملتوی ہوا ہے لیکن وہ بہت جلد گلگت بلتستان آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم متاثرین سیلاب کی بحالی کے لیے خود اقدامات کی نگرانی کر رہے ہیں اور مرکزی حکومت کی جانب سے شہداء کے ورثاء کے معاوضے میں اضافہ کرتے ہوئے رقم دس لاکھ سے بڑھا کر بیس لاکھ کردی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سیلاب متاثرین کے لیے وزیراعظم کے اعلان کردہ چار ارب روپے جاری کردیئے گئے ہیں، جبکہ ریلیف اور ریسکیو آپریشنز کو ہر سطح پر جاری رکھا جائے گا۔ امیر مقام نے یقین دہانی کرائی کہ گلگت بلتستان کے عوام کی فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ اور کابینہ نے امیر مقام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر نے ہر مشکل وقت میں گلگت بلتستان کا ساتھ دیا ہے، جس پر عوام ان کے مشکور ہیں۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ حاجی گلبر خان اور وفاقی وزیر کی ون آن ون ملاقات بھی ہوئی جس میں سیلابی صورتحال اور دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان وفاقی وزیر کہا کہ
پڑھیں:
بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور انتہائی اہم صوبہ ہے، جس کے عوام نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور عوام کی فلاح کو قومی ترجیح سمجھتی ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ماضی میں بھی اہم فیصلے کیے گئے، جنہیں آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 1947 میں بلوچستان کی مختلف ریاستوں نے منظم انداز میں پاکستان میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 1948 میں بلوچ اور پشتون قبائلی و سیاسی قیادت نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی مخلص قیادت نے ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں صوبہ ملک کی تعمیر و ترقی کے سفر میں شریک ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ آبادی کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم جغرافیائی اعتبار سے یہ سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں شہر، قصبے اور دیہات ایک دوسرے سے طویل فاصلے پر واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے نسبتاً زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں بلوچستان کے مالی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے حصے میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب نے رضاکارانہ طور پر بلوچستان کے حق میں فیصلہ کیا، جبکہ پنجاب نے سالانہ 11 ارب روپے اضافی حصہ دینے کی ذمہ داری قبول کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ کسی قسم کا احسان یا رعایت نہیں تھی بلکہ ایک خاندان کی طرح بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے جذبے کے تحت کیا گیا فیصلہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب 2010 سے اب تک بلوچستان کے لیے تقریباً 150 ارب روپے کا اضافی حصہ فراہم کر چکا ہے، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون اور یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی، عوام کی خوشحالی اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں