اسلام آباد:

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 2047 تک 3 ٹریلین کی معیشت بننے کیلیے آبادی و ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنا ہوگا اور ان دوچیزوں سے نہ نمٹ سکے تو بطور ملک صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ 

انہوں نے کہا کہ ہم ملک کو درست سمت میں لے جانے میں کامیاب رہے ہیں، بجٹ میں چھوٹے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کی کوشش کی ہے، ٹیکس گوشوارہ پر کرنے کیلئے 800 کے بجائے 35 یا 40 خانے رہ گئے ہیں۔

کرپٹو کرنسی کے حوالے سے رولز اینڈ ریگولیشنز بنیں گے اور اس کے بعد معاملے کو آگے بڑھائیں گے، اتنے عرصے سے کرپٹو کرنسی قانونی نہیں ہوئی دو تین ماہ مزید صبر کرلیں، پاکستان رواں سال دسمبر تک پانڈا بونڈ جاری کریگا، چین کے ساتھ رول اوور سمیت تمام معاملات طے پاچکے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (آئی کیپ) کے زیراہتمام پبلک فنانشل مینجمنٹ کے موضوع پرمنعقدہ کانفرنس سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

محمد اورنگزیب نے کہا کرپٹو کرنسی کے حوالے سے کان اور آنکھیں کھلی رکھنی ہونگی۔ اس سوال پر کہ کیا سیلاب سے ہونیوالے نقصانات سے نمٹنے کیلئے عالمی برادری سے مدد لیں گے انہوں نے کہا ہم پہلے اپنے وسائل استعمال کریں گے، ہمارے پاس وسائل دستیاب ہیں۔

2022 میں سیلاب کے بعد عالمی برادری نے ہماری امداد کا اعلان کیا لیکن ہم قابل عمل منصوبے نہیں بنا سکے۔ تین سال قبل جنیوا میں 11 ارب ڈالر امداد کے اعلانات ہوئے تھے تاہم ہم اس سے فائدہ اٹھانے کیلئے قابل عمل سرمایہ کاری منصوبے تیار نہیں کر سکے۔

اس وقت ریلیف اینڈ ریسکیو چل رہا ہے، بحالی، ری سٹرکچرنگ اور تعمیر نو بعد کا مرحلہ ہے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا بروقت فیصلے اور بروقت عمل درآمد ضروری ہے، یہ بہترمینجمنٹ کی خوبیاں ہیں، موڈیز، فچ اور ایس اینڈ پی پاکستان کی ریٹنگ اپ گریڈ کر چکے ہیں۔

کچھ سال سے میکرو اکنامک استحکام آیا ہے ہمیں اس راستے پر سفر برقرار رکھنا ہے۔ ٹیکسز، توانائی اور ایس او ایز سمیت سٹرکچرل اصلاحات کر رہے ہیں،24 ادارے نجکاری کی فہرست میں شامل کئے گئے ہیں۔

پاکستان میں سبسڈی کا بے دریغ اور ناجائز استعمال کیا جاتا ہے ہم نے کم از کم بلیڈنگ روک دی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیاں اور بڑھتی ہوئی آبادی پاکستان کیلئے وجودی خطرات ہیں، ماحولیاتی موزونیت اورمطابقت کیلئے منصوبوں میں تمام متعلقہ شراکت داروں اورنجی شعبہ کوحکومت کاساتھ دینا چاہئے۔

پاکستان پانڈا بانڈز کے ذریعے بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹ میں داخلے کاخواہاں ہے۔ ہم دیگربین الاقوامی کیپٹل مارکیٹوں سے بھی استفادہ کرنے کے خواہاں ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے صدر مساتو کانداسے ملاقات میں وزیر خزانہ نے توانائی کی منتقلی، ماحولیاتی لچک، ٹرانسپورٹ و لاجسٹکس، انسانی وسائل کی ترقی اور وسائل کے بہتر استعمال میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ گہرے تعاون کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا گزشتہ چند سالوں کے متعدد چیلنجز کے باوجود معیشت میں استحکام آیا ہے۔ صدر ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کی معاشی اصلاحات اور استحکام کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ معیشت میں بہتری اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات خوش آئند ہیں۔

اے ڈی بی خصوصاً ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے، آبادی کے مسائل، بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر اور وسائل کے حصول کے شعبوں میں پاکستان کی معاونت جاری رکھے گا۔ اے ڈی بی پانڈا بانڈ سمیت دیگر جدید مالیاتی ذرائع متعارف کرانے میں مدد فراہم کریگا۔ فریقین نے ترقیاتی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان کی انہوں نے نے کہا

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد