اسلام آباد:

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ایل ڈی آئی ٹیلی کام کمپنیوں سے 80 ارب روپے کے واجبات کی وصولی کے معاملے پر 5 نادہندہ کمپنیوں کےلائسنسن معطل کردیے۔

 پی ٹی اے نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے خط اور عدالت کے فیصلے کی روشنی میں 5 ایل  ڈی آئی کمپنیوں کے واجبات کی وصولی کے حوالے سے الگ الگ سماعت کی اور نادہندہ پانچ ایل ڈٰی آئی کمپنیوں کے لائسنس معطل کرتے ہوئے مذکورہ کمپنیوں کو آپریشنز بند کرنے کا حکم دیا۔

پی ٹی اے نے کہا کہ پانچوں ایل ڈی آئی کمپنیوں کو ایک ماہ میں بقایا جات ادا کرنے کی ہدایت کی گئی تھی لیکن کمپنیاں اتھارٹی کے احکامات پر عمل درآمد میں ناکام رہیں۔

پی ٹی اے نے 5 نادہندہ ایل ڈی آئی کمپنیوں کے حوالے سے الگ الگ حکم نامے جاری کیے ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ سیلولر موبائل آپریٹرز ان کمپنیوں کو فراہم کی جانے والی ٹیلی کمیونیکیشن سہولیات فوری بند کر دیں، کلاس ویلیو ایڈڈ سروس لائسنس ہولڈرز بھی ان کمپنیوں کو سہولیات فوری بند کردیں۔

کمپنیوں کی جانب سے بقایا جات کی ادائیگی اور لائسنس کی تجدید سے متعلق بریک تھرو نہ ہوسکا جس پر پی ٹی اے نے فیصلہ سنایا، کمپنیوں کے ذمے 24 ارب کی بنیادی رقم اور 56 ارب کے لیٹ پیمنٹ سرچارج واجب الادا ہیں۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ مجموعی طور پر 13 ایل ڈی آئی کمپنیوں میں سے 4 کمپنیوں کے لائسنس کی تجدید 2024 میں کی گئی، 7 ایل ڈی آئی کمپنیوں کے لائسنس کی معیاد 2024 میں ختم ہوگئی تھی، دو ایل ڈی آئی کمپنوں کے لائسنس کی معیاد 2025 اور 2026 میں ختم ہونی ہے۔

مزید بتایا گیا کہ ایل ڈی آئی کمپنیوں کے ذمے یونیورسل سروس فنڈ کے اے پی سی چارجز گزشتہ کئی برسوں سے واجب الادا ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایل ڈی ا ئی کمپنیوں ئی کمپنیوں کے پی ٹی اے نے کمپنیوں کو لائسنس کی کے لائسنس

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام