پی ٹی اے کا بڑا ایکشن، واجبات وصولی کے معاملے پر 5 ایل ڈی آئی کمپنیوں کا لائسنس معطل
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ایل ڈی آئی ٹیلی کام کمپنیوں سے 80 ارب روپے کے واجبات کی وصولی کے معاملے پر 5 نادہندہ کمپنیوں کےلائسنسن معطل کردیے۔
پی ٹی اے نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے خط اور عدالت کے فیصلے کی روشنی میں 5 ایل ڈی آئی کمپنیوں کے واجبات کی وصولی کے حوالے سے الگ الگ سماعت کی اور نادہندہ پانچ ایل ڈٰی آئی کمپنیوں کے لائسنس معطل کرتے ہوئے مذکورہ کمپنیوں کو آپریشنز بند کرنے کا حکم دیا۔
پی ٹی اے نے کہا کہ پانچوں ایل ڈی آئی کمپنیوں کو ایک ماہ میں بقایا جات ادا کرنے کی ہدایت کی گئی تھی لیکن کمپنیاں اتھارٹی کے احکامات پر عمل درآمد میں ناکام رہیں۔
پی ٹی اے نے 5 نادہندہ ایل ڈی آئی کمپنیوں کے حوالے سے الگ الگ حکم نامے جاری کیے ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ سیلولر موبائل آپریٹرز ان کمپنیوں کو فراہم کی جانے والی ٹیلی کمیونیکیشن سہولیات فوری بند کر دیں، کلاس ویلیو ایڈڈ سروس لائسنس ہولڈرز بھی ان کمپنیوں کو سہولیات فوری بند کردیں۔
کمپنیوں کی جانب سے بقایا جات کی ادائیگی اور لائسنس کی تجدید سے متعلق بریک تھرو نہ ہوسکا جس پر پی ٹی اے نے فیصلہ سنایا، کمپنیوں کے ذمے 24 ارب کی بنیادی رقم اور 56 ارب کے لیٹ پیمنٹ سرچارج واجب الادا ہیں۔
اس حوالے سے بتایا گیا کہ مجموعی طور پر 13 ایل ڈی آئی کمپنیوں میں سے 4 کمپنیوں کے لائسنس کی تجدید 2024 میں کی گئی، 7 ایل ڈی آئی کمپنیوں کے لائسنس کی معیاد 2024 میں ختم ہوگئی تھی، دو ایل ڈی آئی کمپنوں کے لائسنس کی معیاد 2025 اور 2026 میں ختم ہونی ہے۔
مزید بتایا گیا کہ ایل ڈی آئی کمپنیوں کے ذمے یونیورسل سروس فنڈ کے اے پی سی چارجز گزشتہ کئی برسوں سے واجب الادا ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایل ڈی ا ئی کمپنیوں ئی کمپنیوں کے پی ٹی اے نے کمپنیوں کو لائسنس کی کے لائسنس
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔