انڈیا خبردار،یہ1971والا پاکستان نہیں
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
قوموں کی زندگی عروج و زوال سے عبارت ہوتی ہے۔اس میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔جاندار قومیں مشکلات پر قابو پا کر دوبارہ اٹھ کھڑی ہوتی ہیں اور دنیا میں اپنا جائز مقام حاصل کر کے رہتی ہیں۔ ہمارے خطے یعنی برصغیر میں ہندوستان ایک بڑی اکائی ہے۔اگر اس کی آبادی موجودہ شرح سے بڑھتی رہی تو عین ممکن ہے اگلے تیس سال میں یہ آبادی کے لحاظ سے چین کو پیچھے چھوڑ جائے۔ہندوستان صنعت و حرفت میں بھی بہت پیش رفت کر چکا ہے۔
اس ملک کا رقبہ بھی بہت زیادہ ہے۔دنیا کے کئی ممالک اس میں سما سکتے ہیں۔یہ ملک ایک بڑی فوج رکھتا ہے۔اس کی فضائیہ کے پاس چند جدید ترین طیاروں کے ساتھ کوئی ایک ہزار بمبار اور لڑاکا طیارے ہیں۔اس کی بحریہ کے پاس نیوکلیئر سب میرین اور طیارہ بردار جہاز ہیں۔
اس ملک نے انگریز راج کے خاتمے پر ایک جاندار سیاسی نظام،اچھی بیوروکریسی اور جنگی طور پر آزمودہ افواج ورثے میں پائیں لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ یہاں بسنے والوں کی اکثریت نے نسل در نسل غالب اقوام کے سامنے ہاتھ ہی جوڑے تھے۔انھوں نے پچھلے دو ہزار سال سے کبھی حکومت نہیں کی تھی۔ اسی لیے یہ ملک یہ نہیں جان پایا کہ پڑوسی بہت اہم ہوتے ہیں اور اڑوس پڑوس کے ممالک کے ساتھ کس طرح رہا جاتا ہے۔انڈیا کے سارے پڑوسی اس سے تنگ ہیں۔
1971 میں ہمارے پاکستان کی نا اہل قیادت نے ہندوستان کو موقع فراہم کیا کہ وہ مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کے شرپسندوں و جنگجوؤں کے ساتھ مل کر پاکستان کو توڑ دے۔سقوطِ ڈھاکہ کے ساتھ انڈین تکبر آسمان کو چھونے لگا۔پاکستان کے سوا خطے کا کوئی دوسرا ملک ہندوستان کے آگے سینہ سپر ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ مشرقی پاکستان میں جب پاکستان ناکام ہوا تو ہندوستان خطے کا چوہدری بن بیٹھا۔اس وقتی کامیابی نے ہندوستان کو علاقے کی برتر اور غالب قوت ہونے کی بدہضمی میں مبتلا کر دیا۔آپے سے باہرہندوستان پاکستان کو بار بار للکارنے لگا۔
1980 کی دہائی میں جنرل سندر جی ہندوستان کے آرمی چیف بنے۔وہ ایک انتہائیAmbitious فرد تھے۔انھوں نے پاکستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ ایکسرسائز براس ٹیک کے بہانے ہندوستانی افواج لگا دیں۔جنرل سندر جی کا پلان یہ تھا کہ اچانک حملہ کر کے سندھ کو پاکستانی پنجاب سے کاٹ دے۔ایسے میں جنرل ضیاء الحق نے کرکٹ ڈپلومیسی کے بہانے راجیو گاندھی کو باور کرایا کہ جو کچھ تمھارے پاس ہے وہ یعنی ایٹم بم ہمارے پاس بھی ہے۔اس پر1971کے بعد پہلی بار ہندوستان کو احساس ہوا کہ پاکستان کوئی تر نوالہ نہیں۔اسلم بیگ جب آرمی چیف بنے تو انھوں نے پاکستانی فوج کی ڈپلائے منٹ یوں کی کہ دو ریزرو کور کھڑی ہو گئیں اور ہندوستان کی فوجی برتری بہت حد تک ختم ہو گئی۔ مئی 1998میں پاکستان کے ایٹمی دھماکوں نے رہی سہی کسر نکال دی۔
پاکستان نے اپنے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے ایٹمی ہتھیاروں کے ڈیلیوری سسٹم میں بھی خود کفالت حاصل کی۔پاکستان کا میزائل پروگرام ایک انتہائی جدید اور جاندار پروگرام ہے جو بہت کامیابی اور تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔پاکستان ان گنے چنے ممالک میں سے ایک ہے جس کے پاس ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار ہیں۔
پاکستان کے ان کامیاب دفاعی اقدامات سے ہندوستان کو سمجھ آ جانی چاہیے تھی کہ پاکستان ایک مضبوط قوت ہے لیکن ہندوستان 1971کی وقتی کامیابی کے غرور سے باہر آنے اور پاکستان کو بار بار للکارنے سے باز نہیں آ رہا۔فالس فلیگ آپریشن کے ذریعے تحقیق و تفتیش اور اقوامِ متحدہ کو انوالو Involve کیے بغیر پاکستان کی بین الاقوامی سرحد پر فوجیں لے آنا اس کا وطیرہ بن گیا۔جناب من موہن سنگھ کی بہترین معاشی پالیسیوں کی بدولت ہندوستانی معیشت میں بہت بڑھوتی ہوئی تو ہندوستانی غرور و تکبر مزید بڑھا۔
نائن الیون کے فوراً بعد ہندوستان نے امریکا کو اپنے اڈے اور زمینی راہداری آفر کرنے کے ساتھ مکمل حمایت کی یقین دہانی کروائی یوں ہندوستان نے امریکا کی مریدی کر لی۔مغرب نے بھی مس کیلکولیٹ کیا اور سمجھ لیا کہ ہندوستان بہت طاقتور اور کام کا ملک ہے اور یہی وہ واحد ملک ہے جو چین کی روز افزوں معاشی و فوجی قوت کے آگے بند باندھ سکتا ہے۔یوں ہندوستان امریکا، یورپ، آسٹریلیا و جاپان کا منظورِ نظر بن گیا۔ ہندوستان کی ہر بڑے فورم پر پذیرائی شروع ہو گئی ۔ بس پھر کیا تھا یہ ملک آپے سے باہر ہو گیا۔
غرور کا سر ہمیشہ نیچا ہو کر رہتا ہے۔ہندوستان نے فرانس سے جدید ترن رافیل طیارے حاصل کر کے سمجھ لیا کہ اب خطے کے ہر ملک کو اس کے سامنے گھٹنے ٹیک دینے چاہیئیں۔اسی غلط فہمی میں پہلگام فالس فلیگ آپریشن رچا کر ہندوستان نے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرایا اور چڑھائی کرنے کی دھمکیاں دینے لگا۔ بھارتی فضائیہ نے پہلا حملہ2مئی کو کرنے کی کوشش کی لیکن پاک فضائیہ کو الرٹ پا کر سارے طیارے جلدی سے سری نگر ایئر بیس پر اتار دیے۔6اور 7مئی کی رات ایک بجے کے قریب 70سے اوپر ہندوستانی طیارے دوبارہ حرکت میں آئے لیکن پاک فضائیہ کے مستعد شاہینوں نے ان کی خوب درگت بنائی۔
ہندوستان کے 5سے7 طیارے کھیت ہوئے جس کے بعد ہندوستانی فضائیہ گراؤنڈ کر دی گئی۔اگلے تین دن ہندوستان ڈرون حملے کرتا رہا لیکن کہتے ہیں کہ گیدڑ کی جب موت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے۔ 9 مئی کی رات جب ہندوستان نے پاک فضائیہ کی ایئر بیسز کو نشانہ بنایا تو پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور اگلے تین سے چار گھنٹوں میں ایسا بھرپور جوابی حملہ کیا کہ دنیا دنگ رہ گئی۔دنیا کے بہترین فضائی دفاعی نظام ایس 400کی دو بیٹریاں، کئی ایئر بیسز اور کشمیر میں بھارتی چوکیوں کو اڑا دیا۔پاکستانی حملے کی تاب نہ لاکر ہندوستان امریکی نائب صدر کے ذریعے سیز فائر کی تمنا کرنے لگا۔
ہندوستان کی صاف جنگی ناکامی نے اس کے ایک بڑی قوت اور چین کا مدِ مقابل ہونے کا سارا بھرم توڑ دیا۔امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں کو سمجھ آ گئی کہ ہم نے ایک غلط گھوڑے پر بازی لگائی ہے۔ جو ملک پاکستان کا مقابلہ نہیں کر سکتا وہ چین جیسی بڑی معاشی ، تہذیبی اورفوجی قوت کے آگے کیسے کھڑا ہو گا۔اس realizationکے ہوتے ہی امریکا نے اپنا رُخ تبدیل کر لیا۔صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر ہندوستان اور مودی کی بے عزتی کر رہے ہیں۔
بورس جانسن نے بھی ٹرمپ رویے کو سراہا ہے۔ٹیرف تو لگتے ہی رہتے ہیں،اصل بات ہندوستان اور جناب مودی کا مہا بھارت کا خواب اور ویشوا گرو کا بت پاش پاش ہونا ہے۔عسکری امور کے ماہر ایک ہندوستانی کے بقول چار روزہ جنگ نے پاکستان اور خاص کر پاکستانی افواج کی پروفائل بہت جاندار بنا دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی واشنگٹن اور مغربی دارالحکومتوں میں خوب پذیرائی ہو رہی ہے۔
ہندوستانی میڈیا جو جنگ سے پہلے اور جنگ کے دوران سنبھالا نہیں جا رہا تھا اسے سانپ سونگھ گیا ہے۔ ایران جو پاکستان کا مشکل ہمسایہ تھا،اس نے بھی جان لیا ہے کہ پاکستان سے اچھی ہمسائیگی کتنی اہم ہے البتہ افغانستان دردِ سر بنا رہے گا۔ہندوستان زخم چاٹ رہا ہے اوراپنی خفت مٹانے کے درپے ہے۔ انڈیا کی زبان بند اور اس کے نیتا گنگ ہیں۔ایسے میں وہ کوئی بھی مس ایڈونچر کرنے کی بے وقوفی کر سکتا ہے۔پاکستانی افواج عزمِ صمیم کے ساتھ چوکس ہیں۔ہم ہندوستان کے ہر حملے کو روک سکتے ہیں۔ بس ہمیں سیاسی خلفشار سے بچنا اور بنیانِ مرصوص بننا ہے۔ہمارا رب ہمارے ساتھ ہے۔اب 1971کو نہیں دہرایا جا سکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہندوستان نے ہندوستان کے ہندوستان کو پاکستان کو پاکستان کے نے پاکستان کے ساتھ
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔