حملوں کے دعوے، کابل میں پاکستان سفیر کو طلب کر کے احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
افغانستان نے جمعرات کو کابل میں پاکستان کے سفیر کو طلب کر کے ایک رسمی احتجاج درج کرایا۔ یہ احتجاج ننگرہار اور خوست صوبوں میں پاکستانی فوج کی جانب سے مبینہ حملوں کے دعوے پر کیا گیا جس سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں ایک نئی لہر کا پتہ چلتا ہے۔
افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ ان مبینہ حملوں کے نتیجے میں 3شہری جاں بحق اور 7زخمی ہوئے ہیں۔
احتجاجی نوٹ میں افغان وزارت خارجہ نے پاکستان کی جانب سے افغان فضائی حدود کی خلاف ورزی اور ڈیورنڈ لائن کے قریب شہری علاقوں پر بمباری کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور ان حملوں کو افغانستان کی علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی اور ایک اشتعال انگیز کارروائی قرار دیا اور کہا کہ ایسی غیر ذمہ دارانہ کارروائیوں کے ناگزیر طور پر سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ سفیر کو طلب کیے جانے یا گزشتہ رات سرحد پار مبینہ حملوں کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں آیا۔
ننگرہار میں افغان حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ رات ننگرہار کے ضلع شینوار میں ایک شخص کے گھر پر دو ڈرون حملے ہوئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حملوں کے
پڑھیں:
پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔