پاکستان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے، معیشت کو سنگین چیلنجز درپیش ہیں، صدر آئی سی سی آئی ناصر منصور قریشی
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
پاکستان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے، معیشت کو سنگین چیلنجز درپیش ہیں، صدر آئی سی سی آئی ناصر منصور قریشی
اسلام آباد: فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی ) کے صدر عاطف اکرام شیخ، اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی ) کے صدر ناصر منصور قریشی اور یو بی جی کے پیٹرن انچیف ایس ایم تنویر نے بزنس کمیونٹی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ موجودہ معاشی صورتحال کے حوالے سے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔
صدر آئی سی سی آئی ناصر منصور قریشی نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے اور معیشت کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار معاشی اصلاحات اور مسائل کے حل کے ذریعے ہی ملک کو اقتصادی ترقی کے راستے پر ڈالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بزنس کمیونٹی معیشت کی اہم اسٹیک ہولڈر ہے اور معیشت کی بحالی کے لیے حکومت کے ساتھ کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے اپنے خطاب میں معاشی بحالی، پائیدار ترقی اور ثمرات کی نچلی سطح تک منتقلی کے لیے نئے صوبوں کے قیام کی تجویز کی بھرپور حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ فیڈریشن کا مطالبہ ہے کہ صوبوں میں نئی انتظامی تقسیم کی جائے کیونکہ موجودہ انتظامی ڈھانچے کے ساتھ اتنی بڑی آبادی کو مؤثر انداز میں چلانا ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ڈسٹرکٹ اکانومی کا فروغ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ معیشت کی مکمل بحالی کے لیے بزنس کمیونٹی حکومت کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ شرح سود کو سنگل ڈیجٹ پر لانا، بجلی کی قیمتوں میں کمی، انفراسٹرکچر کی ترقی اور نجکاری کے عمل کی تکمیل ناگزیر اقدامات ہیں۔ صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ فیڈریشن 2030 تک ملکی برآمدات کو 100 ارب ڈالر تک لے جانے کے مشن پر گامزن ہے اور اس کے لیے مقامی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہوگا۔
پیٹرن انچیف یو بی جی ایس ایم تنویر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی معیشت میں بہت بڑا پوٹینشل ہے اور ہر شعبے سے کم از کم 5 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاون خصوصی ہارون اختر خان بہت اچھی انڈسٹریل پالیسی تیار کر رہے ہیں۔
ایس ایم تنویر نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے دشمن کو میدان جنگ میں شکست دی ہے، اب وقت ہے کہ ہم “معرکہ معیشت” بھی سر کریں۔ بھارت اس وقت 4 ٹریلین ڈالر کی معیشت ہے جبکہ پاکستان کی معیشت 410 ارب ڈالر پر کھڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت تباہی کا شکار ہے اور کسی شعبے میں ویلیو ایڈیشن نہیں ہو رہی۔ کپاس کی پیداوار 15 ملین گانٹھ سے کم ہو کر 5 ملین گانٹھ رہ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک فیصد شرح سود میں کمی سے 3500 ارب روپے کے حکومتی قرضے کم کیے جا سکتے ہیں۔
پیٹرن انچیف یو بی جی نے مزید کہا کہ ملک میں 40 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ ہے جبکہ شرح سود کی مد میں سالانہ 12 ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، لیکن دوسری جانب صرف 6 ارب ڈالر کے لیے آئی ایم ایف کے سامنے جھکنا پڑتا ہے۔
Post Views: 7.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہا کہ پاکستان کہ پاکستان کی نے کہا کہ انہوں نے معیشت کو ارب ڈالر پر کھڑا کے لیے ہے اور
پڑھیں:
سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونا 18 سو روپے سستا ہو گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 32 ہزار 36 روپے ہو گئی ہے۔
اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت بھی ایک ہزار 5 سو 43 روپے کی کمی کے بعد 3 لاکھ 70 ہزار 401 روپے پر آ گئی ہے۔
یاد رہے کہ ایک روز قبل یعنی بدھ کو سونے کی فی تولہ قیمت میں 46 سو روپے کا اضافہ ہوا تھا، جس کے بعد یہ 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گئی تھی۔ قبل ازیں منگل کو بھی سونے کی فی تولہ قیمت 4 ہزار 700 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 29 ہزار 236 روپے ہو گئی تھی۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں کمی دیکھنے میں آئی، جہاں قیمت 18 ڈالر کم ہو کر 4 ہزار 96 ڈالر فی اونس (20 ڈالر پریمیم کے ساتھ) ہو گئی۔
دوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، اور فی تولہ چاندی 33 روپے سستی ہو کر 6 ہزار 3 سو 70 روپے پر آ گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ملک میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی کی بنیادی وجہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور ڈالر ریٹ کے باعث واقع ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کردیا گیا،نئی قیمتیں جانئے