عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
برینٹ کروڈ 0.68 فیصد گر کر 68.15 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل 0.7 فیصد کم ہو کر 64.14 ڈالر فی بیرل پر آ گیا ہے۔
دوسری جانب تجزیہ کاروں نے پیشگوئی کی کہ سال 2026کے آخر تک خام تیل (cruid oil)کی قیمتیں کم ہو کر 50ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائیں گی۔
رپورٹ کے مطابق سال 2026کے آخرتک خام تیل کی فراہمی میں یومیہ اٹھارہ لاکھ بیرل اضافہ ہوگا۔یہ پیش گوئی خام تیل کی منڈی کے لیے بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے اندازوں کے مطابق ہے۔
آئی ای اے نے تیل کی فراہمی میں21 لاکھ بیرل یومیہ اضافے کا تخمینہ لگایا ہے، جو یومیہ 7 لاکھ بیرل یومیہ کی طلب سے کافی زیادہ ہے۔
اس طرح 14 لاکھ بیرل خام تیل اضافی دستیاب ہوگا، فی الحال بین الاقوامی منڈی میں لندن برینٹ کروڈ کی قیمت 67 ڈالر 32 سینٹس جبکہ امریکی خام تیل کا بھاؤ 63 ڈالر 32 سینٹس فی بیرل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔