افغانستان نے پاکستانی سفیر کو ڈی مارش جاری کردیا ہے، اسحاق ڈار کی تصدیق
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
ڈپٹی وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعہ کے روز تصدیق کی ہے کہ افغانستان نے پاکستان کے سفیر کو ڈرون حملوں کے الزام میں ایک خط (ڈی مارش) جاری کیا ہے۔
اسلام آباد میں پریس بریفنگ کے بعد سوالات کے جواب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ بیرون ملک سے واپس آئے ہیں اور معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ افغان حکام نے پاکستانی سفیر کو ایک خط دیا ہے جسے سفارتی اصطلاح میں ڈی مارش کہا جاتا ہے۔
افغان حکام کے مطابق ننگرہار اور خوست صوبوں میں مبینہ طور پر پاکستانی ڈرون حملوں کے نتیجے میں کم از کم 3 افراد ہلاک اور 7 زخمی ہوئے۔ تاہم افغان حکام کی جانب سے پاکستان کے ملوث ہونے کے کوئی شواہد فراہم نہیں کیے گئے اور اسلام آباد کی طرف سے بھی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیے: اٹلانٹک تھنک ٹینک میں عمران خان کے ٹرائل کے حوالے سے میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، اسحاق ڈار
اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ یہ معاملہ ابھی تحقیقات کا متقاضی ہے۔ یہ دیکھنا ہے کہ اصل صورتحال کیا ہے اور ایسا کیوں ہوا۔ فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
وزیر خارجہ نے اس سوال کا جواب دینے سے گریز کیا کہ آیا پاکستان ان مبینہ حملوں میں ملوث ہے یا نہیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کی کابل سے صرف ایک ہی درخواست ہے کہ وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف کارروائی کرے اور اپنی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ان سے کہا ہے کہ یا تو ان لوگوں کو ہماری سرحدوں سے ہٹائیں یا ہمیں حوالے کردیں، جو بھی آپ چاہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کی جانب سے افغانستان پر فضائی حملہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے عین مطابق ہے، سفارتی ماہرین
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کی ترقی اور استحکام پاکستان کے مفاد میں ہے۔ سوچیے کہ ازبکستان-افغانستان-پاکستان ریلوے منصوبہ شروع ہوتے ہی کتنا بڑا باہمی فائدہ ہوگا۔ جب ریلوے مکمل ہوگا تو وسطی ایشیائی ممالک سے براہِ راست روابط قائم ہوں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسحاق ڈار افغانستان ڈی مارش.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار افغانستان ڈی مارش اسحاق ڈار نے ڈی مارش
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔