Express News:
2026-06-03@02:26:19 GMT

برآمدات میں اضافہ اور سیلاب زدگان کی امداد

اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT

ماہ جولائی میں کراچی میں کافی گرمی پڑ رہی تھی اور بندرگاہ میں بھی معاشی سرگرمیاں سرد نہیں تھیں بلکہ گرم تھیں جس کے نتیجے میں مہینے کے آخر میں معلوم ہوا کہ پاکستان کی برآمدات میں 16.43 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

گویا معیشت کی دھڑکن تیز ہوگئی۔ برآمدی معیشت میں سب سے نمایاں رنگ ٹیکسٹائل کا تھا۔ معلوم ہوا کہ کپڑے، دھاگے، تولیے، بیڈ شیٹ وغیرہ کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔ گویا لاہور کے کارخانے ہوں، کراچی کی ملیں، یا فیصل آباد جسے پاکستان کا مانچسٹرکہا جاتا ہے ، وہاں کے کاریگروں کو کام پر واپس آنے کا پیغام ملا کہ اب شفٹوں میں مزدور بڑھانے کا وقت آ گیا ہے، لیکن یہاں غور کرنا ہوگا کہ آخر ایسا کیا ہوا، کہ ترپال، کینویس اور ٹینٹ کے پاکستان کے لیے آرڈرز کیوں کم ہو گئے؟ کہیں ایسا تو نہیں عالمی مارکیٹ میں کسی اور نے ہمارا حصہ ہتھیا لیا ہو۔

کچھ ایسی صورت حال غذائی اجناس کی برآمدات میں نظر آتی ہے، باسمتی چاول کی عالمی مانگ کم ہوگئی، سبزیاں باہر بھیجنے والے کسان مایوس ہوتے رہے، البتہ مسالہ جات، پھل اورگوشت کی عالمی مانگ میں اضافہ ہوا۔ ادھر ملک بھر میں بھی گوشت کی قیمتوں میں اضافہ ہوکر رہا۔ حکومت برآمد کی حد مقررکرے تاکہ ملک میں گوشت کی قلت پیدا نہ ہو اور قیمت میں اضافہ نہ ہو۔

حالیہ بارشوں اور سیلاب اورکلاؤڈ برسٹ کے باعث ہزاروں افراد کی شہادت کے علاوہ لاکھوں مویشی سیلاب میں بہہ گئے ہیں، لہٰذا معاشی حکام گوشت کی پیداوار، اس کی برآمد اور ملک میں پانی جانے والی قلت اورگائے، بکرے کے علاوہ مرغی کے گوشت کی قیمت پر بھی نظر رکھیں۔ لازمی امر یہ ہے کہ ملک میں گوشت کی پیداوار میں بہت زیادہ کمی ہو جائے گی،کیونکہ برسات کے باعث حلال جانوروں کی زبردست کمی ہو رہی ہے، لہٰذا اس معاملے کو فوری توجہ دے کر گوشت کی برآمد کی حد مقررکردی جائے یا عارضی پابندی لگائی جائے۔ جولائی 2025 کا برآمدی حجم 2 ارب 68 کروڑ ڈالر تک جا پہنچا ہے۔ غذائی گروپ کی برآمدات کا حجم 42 کروڑ 69 لاکھ ڈالرز رہا جب کہ جولائی 2024 میں یہ مالیت 47 کروڑ57 لاکھ ڈالرز تھی۔ آٹو پارٹس، لیدر مصنوعات، سرجیکل آلات کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔

البتہ پلاسٹک کی اشیا، ادویات وغیرہ کی برآمد کم ہوئی ہے۔ غذائی اشیا کی برآمد میں کمی کے اثرات آیندہ بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ چاول کی برآمدات میں کمی کا جائزہ لینا ہوگا، بنگلہ دیش کو چاول کی برآمد بڑھائی جا سکتی ہے چینی کو درآمد کے دروازے سے کھینچ کر برآمدی جہازوں پر لانا ہوگا، تاکہ پچھلے سال جس طرح چینی برآمد کی تھی، اس مرتبہ یہ کام نومبر میں چینی کے کارخانوں میں کرشنگ کے بعد صحیح صورت حال سامنے آ سکتی ہے۔ فی الحال چینی کی درآمدی مقدار وسیع تر ہونے کے امکانات واضح ہیں۔

برآمدات بڑھانے کے لیے پچھلی روش ترک کر کے مشینوں کی نئی ٹیکنالوجی اور اس نئی ٹیکنالوجی پرکام کرنے کے لیے تربیت یافتہ کاریگروں کی دستیابی، توانائی کی قلت کا سدباب اور پالیسیوں کی بے سمتی کا علاج کرنا ہوگا، لہٰذا معیشت کو احتیاط کا دامن تھامنا ہوگا،کیونکہ معیشت کبھی سیدھی لکیر پر نہیں چلتی اور برآمدات کا سارا انحصار غیر ملکی خریداروں پر ہوتا ہے۔

ملک میں کہیں دھماکا ہو جائے وہ دبئی آ کر وہیں سے واپس چلے جاتے ہیں، ملک کی ٹیکسٹائل کی مشینیں بدستور چلتی رہیں۔ ادھر غیر ملکی گاہک بھی ملک میں امن و امان کی صورت حال، ہر وقت کی بجلی بحالی کا منظر، گیس نہ جائے کبھی، یہ سارا منظر دیکھ کر یورپی اور امریکی بھی ہو جائیں نہال، پھرکہیں جا کر معیشت ہوگی کچھ کچھ بحال۔ اگر دنیا بھر میں پھیلے پاکستانی سفیر، تجارتی اتاشی محنت کرتے کرتے ہوجائیں بے حال تو پھر دیکھیے کمال۔ کئی سفیر و تجارتی اتاشی ایسے ہیں جنھیں ہے برآمدات میں اضافے کا خیال اور ہونا بھی چاہیے کیونکہ سب مل جل کر ہی ملکی برآمدات کو بڑھا سکتے ہیں۔

فی الحال یہ پہلا مہینہ گزرا ہے، برآمدات میں اضافے کے ساتھ درآمدات میں بھی بے حد اضافہ ہو چکا ہے جس سے تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے اور پہلے مہینے سے ہی خطرے کی گھنٹی بھی بج چکی ہے۔ یعنی تجارتی خسارے کو کسی طور پر کنٹرول کرنا ہوگا، کیونکہ پہلے ہی ملکی معیشت سیلاب زدہ ہو چکی ہے، ملک کے بالائی علاقوں میں ہر طرف تباہی کے مناظر ہیں۔ لاکھوں افراد کھلے آسمان تلے زندگی بسرکر رہے ہیں، 2005 میں جب زلزلہ آیا تھا پوری قوم نے مل کر امدادی سامان متاثرہ علاقوں تک پہنچایا تھا۔ کراچی میں ڈرگ روڈ کے قریب ایک امدادی کیمپ قائم کر دیا گیا تھا جہاں سے ہوائی جہاز بھر بھرکر مختلف متاثرہ علاقوں میں سامان پہنچا رہے تھے۔

گلی محلوں کے بچے بوڑھے جوان گھروں میں عورتیں تک اپنے زیورات فروخت کر کے امدادی قافلوں کے لیے سامان مہیا کر رہی تھیں۔ اکثر محلوں گلیوں میں دیکھا گیا کہ امدادی ٹرک آ کر کھڑے ہوگئے چند گھنٹوں میں ہی سامان سے بھر دیے گئے۔ چھوٹے چھوٹے بچے اپنی پاکٹ منی امدادی قافلے کے منتظمین کو دے رہے تھے، گھروں سے بستر چادر کمبل کھانے پینے کا سامان بھجوایا جا رہا تھا۔ اب وقت بہت ہی کم ہے کہ ہم ان سیلاب زدگان کی مدد کے لیے فوراً پہنچیں۔ ان کو امداد پہنچائی جائے۔ قوم کے لیے پھر موقعہ آگیا ہے کہ وہ صف بند ہو کر کھڑی ہو جائے اور اپنے بھائیوں کی امداد کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کردی جائیں تاکہ متاثرین کی بحالی کا کام جلدازجلد مکمل ہو جائے، اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

بھارت کی طرف سے پنجاب میں آنے والا پانی ایک زبردست اور تباہ کن سیلابی ریلے میں تبدیل ہو چکا ہے، یہ پانی جو کبھی زمینوں کو سیراب کرتا تھا، لیکن اب اوپر سے آنے والا پانی محض دریاؤں کا تیز بہاؤ نہیں ہے، اب یہ اپنے ساتھ انسانی جانوں، سامان کے ساتھ جانوروں کو بہا کر لے جا رہا تھا۔ دراصل یہ ان معاہدوں کی لاشیں بھارت بہا رہا ہے، جن پرکبھی دونوں پڑوسیوں نے بھروسہ کیا تھا جسے بھارت نے اب آبی جنگ میں تبدیل کر دیا ہے اور پاکستانی مسلمان کبھی کوئی جنگ نہیں ہارتے۔ انشا اللہ! ہم اپنے ارادوں کو مضبوط رکھیں گے اور مل کر اس مشکل کا مقابلہ کریں گے اور پوری قوم ایک دوسرے کی مدد کے لیے کھڑی ہو جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی برآمدات میں میں اضافہ اضافہ ہوا اضافہ ہو کی برآمد گوشت کی ملک میں ہو جائے کے لیے

پڑھیں:

ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا

سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔

ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔

انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ

متعلقہ مضامین

  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا