اپیلز کورٹ کا فیصلہ: ٹرمپ کی بیشتر ٹیکس پالیسیاں غیر قانونی قرار
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
امریکا کی وفاقی اپیلز کورٹ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غیر ملکی اشیاء پر عائد بیشتر ٹیکسوں (ٹیرِفس) کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
11 رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کو ’ان دیکھی مدت‘ کے لیے تقریباً تمام ممالک پر یکساں اور وسیع ٹیکس لگانے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔
سپریم کورٹ میں اپیل کا امکان
عدالت نے اپنے فیصلے پر فوری عمل درآمد روک دیا ہے تاکہ ٹرمپ انتظامیہ کو امریکا کی سپریم کورٹ میں اپیل کا موقع مل سکے۔
فیصلے کے مطابق، ٹرمپ کے حکم ناموں کے تحت عائد شدہ ٹیکس ’انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ‘ کے تحت جائز نہیں۔
ٹرمپ کا ردِعمل
فیصلے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشَل‘ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ’تمام ٹیکس بدستور نافذ العمل ہیں۔ یہ فیصلہ ایک جانبدار عدالت کا اقدام ہے، لیکن آخرکار امریکا ہی جیتے گا]۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر ٹیکس ختم کر دیے گئے تو یہ امریکا کو مالی طور پر کمزور‘ بنا دے گا۔
عدالتی مؤقف
عدالت کے فیصلے میں کہا گیا کہ کانگریس نے کئی برسوں میں ٹیکس شیڈولز بڑی باریکی سے ترتیب دیے ہیں، مگر ٹرمپ نے صدر کے اختیار کے نام پر ان سے انحراف کیا اور تقریباً ہر ملک پر بھاری شرح کے ٹیکس عائد کر دیے۔
اختلافی نوٹ
چار ججز نے فیصلے سے اختلاف کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مدعی فریق ٹیکسوں کو غیر قانونی ثابت کرنے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکا۔
یاد رہے کہ ٹرمپ نے اپریل 2025 میں وائٹ ہاؤس میں ’یومِ آزادی‘کے موقع پر تقریباً تمام تجارتی شراکت داروں پر 10 فیصد سے 50 فیصد تک ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
بھارت کی اشیاء پر 50 فیصد ٹیکس نافذ کیا گیا ہے جبکہ برازیل پر بھی اسی شرح سے محصول عائد کیا گیا ہے۔ یورپی یونین کے ساتھ 15 فیصد باہمی تجارتی ٹیکس طے پایا ہے۔ چین پر سب سے زیادہ یعنی 145 فیصد تک ٹیکس لگائے گئے تھے، تاہم بعد میں انہیں کم کرکے 30 فیصد تک محدود کردیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سال 2026 کے لیے موسم گرما کی تعطیلات سے متعلق بڑا انتظامی فیصلہ کرلیا ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق عدالتی کارکردگی میں بہتری اور زیر التوا مقدمات کے جلد از جلد فیصلوں کو یقینی بنانے کے لیے تعطیلات کا نیا شیڈول مرتب کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ اہم فیصلہ چیف جسٹس پاکستان کی درخواست اور ججز کے درمیان باہمی مشاورت کے بعد کیا گیا۔
نئے انتظامات کے تحت سپریم کورٹ کے ججز نے موسم گرما کی تعطیلات کے دوران اسلام آباد میں واقع پرنسپل سیٹ پر کام کے دورانیے میں اضافے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔
اعلامیے کے مطابق ماضی کی روایت کے برعکس اس بار سپریم کورٹ کی برانچ رجسٹریوں میں ججز کے بیٹھنے کے وقت میں کمی کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
تاہم ججز کی جانب سے اصل میں حاصل کی جانے والی تعطیلات کا دورانیہ گزشتہ برسوں کی طرح 4 ہفتے ہی برقرار رہے گا۔
سپریم کورٹ کے اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ نئے انتظامات کا بنیادی مقصد تعطیلات کے دوران بھی ججز کی دستیابی کو یقینی بنانا اور مقدمات کی سماعت کے عمل کو بلا تعطل جاری رکھنا ہے تاکہ زیر التوا کیسز کے بروقت فیصلوں میں مدد مل سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews انتظامی فیصلہ تعطیلات سپریم کورٹ وی نیوز