امریکی عدالت نے ٹرمپ کے عائد کردہ بیشتر ٹیرف غیر قانونی قرار دے دیے
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
امریکی اپیلز کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لگائے گئے متعدد عالمی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دے دیا، تاہم انہیں فی الحال برقرار رکھنے کی اجازت دی گئی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق فیڈرل سرکٹ کورٹ آف اپیلز کے 7-4 کے فیصلے نے ماتحت عدالت کے اس مؤقف کی توثیق کی کہ ٹرمپ نے ہنگامی اقتصادی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے وسیع پیمانے پر ٹیرف عائد کرکے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ ٹرمپ انتظامیہ اپیل دائر کرنے تک یہ ٹیرف 14 اکتوبر تک برقرار رہیں گے۔
فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ یہ فیصلہ امریکا کو تباہ کردے گا۔ ان کے مطابق "تمام ٹیرف اب بھی نافذ ہیں، اپیلز کورٹ نے غلط اور جانبدارانہ فیصلہ دیا، سپریم کورٹ کی مدد سے ٹیرف کو قوم کے فائدے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔"
ماہرین کے مطابق یہ عدالتی فیصلہ ٹرمپ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے کیونکہ انہوں نے ٹیرف کو اپنی اقتصادی پالیسی کا اہم ہتھیار بنایا تھا۔ اس فیصلے سے یورپی یونین سمیت بڑے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ ہونے والے معاہدوں پر بھی سوالات اٹھ گئے ہیں۔
یہ بھی غیر یقینی ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے حق میں فیصلہ نہ دیا تو ان ٹیرف کے تحت جمع کیے گئے اربوں ڈالرز کا مستقبل کیا ہوگا۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارت کے دوران مختلف ممالک پر جوابی ٹیرف عائد کیے تھے جن کا مقصد امریکی معیشت کو مضبوط بنانا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔