ارب پتی خاندان سے تعلق کے باوجود سوہا علی خان نے کرائے کے مکان میں زندگی کیوں گزاری؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
بالی ووڈ اداکارہ اور سیف علی خان کی بہن سوہا علی خان نے اپنے ابتدائی کیریئر کے بارے میں انکشاف کیا ہے کہ دولت مند اور شاہی خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود وہ ممبئی میں کرائے کے مکان میں رہتی تھیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سوہا نے لندن اسکول آف اکنامکس سے ماسٹرز کرنے کے بعد ایک بین الاقوامی بینک میں ملازمت اختیار کی، جہاں ان کی سالانہ تنخواہ 2 لاکھ 20 ہزار روپے تھی، جبکہ وہ 17 ہزار روپے ماہانہ کرایہ ادا کرتی تھیں۔
ایک انٹرویو میں سوہا نے بتایا کہ آمدنی کا بڑا حصہ کرایے میں چلا جاتا تھا، لیکن وہ مالی طور پر خودمختار رہنا چاہتی تھیں تاکہ اپنی زندگی کے فیصلے خود کر سکیں۔ ان کے بقول، فلمی دنیا میں آنے کا فیصلہ آسان نہیں تھا کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ والدین شرمیلا ٹیگور اور منصور علی خان پٹودی اس پر ناخوش ہو سکتے ہیں۔ تاہم خود انحصاری نے انہیں اعتماد دیا۔
مزید پڑھیں: ’دنگل گرل‘ سوہانی 19 برس کی عمر میں چل بسیں، عامر خان کی آنکھیں نم ہو گئیں
سوہا کے کیریئر میں اہم موڑ اس وقت آیا جب انہیں ایک ماڈلنگ پراجیکٹ ملا، جس کی فیس 5 لاکھ روپے تھی۔ اس کے بعد فلم دل مانگے مور میں شاہد کپور کے ساتھ 10 لاکھ روپے کے معاوضے پر کاسٹ کیا گیا، جس نے ان کے فلمی سفر کی راہ ہموار کی۔ آج بھی سوہا علی خان بالی ووڈ میں اداکاری کے جوہر دکھا رہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ اداکارہ سوہا علی خان سیف علی خان شرمیلا ٹیگور منصور علی خان پٹودی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بالی ووڈ اداکارہ سوہا علی خان سیف علی خان شرمیلا ٹیگور منصور علی خان پٹودی سوہا علی خان
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔